تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : کورونا وائرس کے سوال پر قومی اسمبلی میں تقریری مقابلہ

بہت رد و کد کے بعد منعقد ہونے والے آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں سیاسی رہنماؤں کے درمیان تقریری مقابلہ ہو ا لیکن قوم کو اس بارے میں کچھ خبر نہیں ہوسکی کہ قومی قیادت کس نکتہ پر ہم آواز ہے اور کن اصولوں کی بنیاد پر اہل پاکستان کو مستقبل قریب میں کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔
یوں تو اس مقابلے کا فاتح وزیر اعظم عمران خان کو قرار دینا چاہئے کیوں کہ انہوں نے اس میں شرکت سے ہی انکار کردیا تاہم پیپلز پارٹی کے نوجوان چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کی تقریر متوازن تھی ۔ انہوں نے مسائل کی نشاندہی کرنے کے علاوہ ، حکومت کے اچھے کاموں کی تائید کی اور دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ اس موقع پر سیاسی لڑائی نہیں لڑنا چاہتے بلکہ تعاون کی فضا پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن وفاقی حکومت کو بھی صوبوں پر الزام تراشی کرنے اور متفقہ امور کو متنازعہ بنانے سے گریز کرتے ہوئے افہام و تفہیم اور خیر سگالی کا ماحول پیدا کرنا چاہئے۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ عمران خان کو تحریک انصاف کا وزیر اعظم بننے کی بجائے قوم کا اور سب کا وزیر اعظم بن کر ایک لیڈر کے طور پر رہنمائی کا فرض ادا کرنا چاہئے تھا۔ قائد ایوان ہونے کے علاوہ وزیر صحت کا قلمدان بھی ان کے پاس ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے اسے اپنے کام کا حصہ نہیں سمجھا کہ وہ ایوان کو اعتماد میں لیں اور کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے بحران میں اپنی پوزیشن واضح کریں۔ بلاول نے عمران خان پر واضح کیا کہ ایوان کو معلومات فراہم کرنا وزیراعظم کے فرائض منصبی کا حصہ ہے۔
قومی اسمبلی میں بحث کا آغاز وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کیا اور اپنی طویل تقریر میں حکومت کے کارنامے گنوانے کے علاوہ یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے بعد عوام کی صحت کا خیال رکھنا وفاقی حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ صوبائی حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کو علاج معالجہ اور دیگر ضروری سہولتیں فراہم کریں۔ صوبائی حکومتوں کو ذمہ دار قرار دینے کے بعد شاہ محمود قریشی نے حکومت کے کارناموں، احساس پروگرام کے تحت تقسیم کی جانے والی رقوم اور ملک بھر میں ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت کوبڑھانے کی بات کی۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ڈاکٹروں کے مشور ہ کی وجہ سے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے تھے لیکن انہوں نے آن لائن کارروائی میں شریک ہونے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی۔ ان کی نمائیندگی کرتے ہوئے سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف نے حکومت کی پالیسی کو غیر واضح قرار دیا اور کہا کہ حکومت صوبوں پر ذمہ داری ڈالتے ہوئے ان شعبوں میں بھی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی ہے جو براہ راست اس کی دسترس میں آتے ہیں۔ انہوں نے ہوائی اڈوں پر کنٹرول اور تافتان کے راستے ایران سے واپس آنے والے زائرین کا خاص طور سے ذکر کیا۔
اس وقت دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستانی عوام کو بھی کورونا وائرس سے حقیقی خطرہ لاحق ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی اپنی تمام تر خوش کلامی اور کامیابی کے دعوؤں کے باوجود اعتراف کیا ہے کہ ملک میں کورونا کے متاثرین میں اضافہ کا اندیشہ ہے۔ وزیر خارجہ سمیت تمام سرکاری نمائیندوں نے اپنی تقریروں میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کو درست فیصلہ قرار دیا اور اس کے لئے غریب اور دیہاڑی دار طبقہ کے روزگار کی صورت حال کو دلیل کے طور پر پیش کیا گیا۔ سرکاری نمائیندوں کا اصرار تھا کہ پاکستان میں کورونا متاثرین اور اس کی وجہ سے جاں بحق ہونے والوں کی شرح دنیا کے متعدد ملکوں سے کم ہے جبکہ کورونا وائر س سے متاثر ہونے والے امریکہ اور یورپی ملکوں میں ہزار ہا ہلاکتوں کے باوجود اب لاک ڈاؤن کو نرم کیا جارہا ہے۔ حکومت کے نمائیندے البتہ یہ بتانا بھول گئے کہ عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان اس وقت کورونا وائرس کے حوالے سے بدترین ممالک کی فہرست میں 19 ویں نمبر پر ہے۔
پاکستان میں یورپ و امریکہ کے مقابلے میں ہلاکتیں ضرورکم ہوئی ہیں اور ابھی آبادی کے تناسب میں کورونا متاثرین کی تعداد بھی کم ہے۔ لیکن یورپ کے تمام ممالک میں کورونا وائرس کے پہلے دورانیہ کا خاتمہ ہورہا ہے۔ یعنی وہاں اس وبا کا عروج گزر چکا ہے اس لئے اٹلی، فرانس ، سپین اور دیگر ممالک بتدریج لاک ڈاؤن میں نرمی کی منصوبہ بندی کررہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی عوام کو متنبہ بھی کیا جارہا ہے کہ یہ وائرس دوبارہ پھیل سکتا ہے۔ دنیا کے تقریباً سب ماہرین ا س بات پر متفق ہیں ویکسین دستیاب ہونے سے پہلے وائرس دوبارہ پھیل سکتا ہے کیوں کہ جب تک اس کے مستقل قلع قمع کا انتظام نہیں ہوتا ، اس وقت تک یہ وائرس دنیا کے انسانوں کے ہمراہ رہے گا۔ پاکستان میں اس پیغام کو وضاحت سے بیان کرنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔
یورپ میں لاک ڈاؤن میں سہولت کا ذکر کرتے ہوئے گزشتہ روز برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کی تقریر پر بھی غور کرنا ضروری ہے جنہوں نے معیشت اور سیاسی دباؤ کے باوجود لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے سے انکار کیا اور موجودہ لاک ڈاؤن کو جون تک جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ معیشت بحال کرنے کے لئے لوگوں کی زندگی کو خطرے میں نہیں ڈالا جاسکتا۔ اس لئے لاک ڈاؤن میں اسی وقت نرمی کی جائے گی جب سائینسدان اور طبی ماہرین اس کا مشورہ دیں گے۔ بورس جانسن دنیا کے ان چند لیڈروں میں شامل تھے جو لاک ڈاؤن کی سخت مخالفت کرتے رہے ہیں تاہم خود اس وائرس کا شکار ہونے اور برطانیہ میں بروقت احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے پر سنگین نتائج کا سامنا کرنے کے بعد ، اب وہ لاک ڈاؤن کو کورونا سے مقابلہ کا سب سے مؤثر اور ضروری طریقہ سمجھ رہے ہیں۔
یورپی ممالک کے برعکس پاکستان میں ابھی تک کورونا وائرس کا عروج نہیں آیا ہے۔ حکومت سمیت سب اس بات پر متفق ہیں کہ مئی جون کے دوران اس وائرس کی سنگینی میں اضافہ ہوگا۔ جیسا کہ سب کے علم میں ہے کہ کورونا وائرس کمان کی صورت میں پھیلتا ہے یعنی یہ نیچے سے اوپر جاتا ہے اور پھر نیچے آتا ہے۔ اس دوران احتیاطی تدابیراور ٹیسٹس کے ذریعے متاثرین کی نشاندہی دو اہم ترین اقدامات ہوسکتے ہیں۔ یورپ میں ان دونوں پہلوؤں کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ اب کورونا وائرس کا عروج ختم ہونے پر ہی لاک ڈاؤن میں نرمی کی جارہی ہے جبکہ ہر ملک میں ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت کو کئی گنا کردیا گیا۔ پچپن لاکھ آبادی کے چھوٹے سے ملک ناروے میں ہرہفتے تین لاکھ ٹیسٹ لئے جارہے ہیں ۔ لاک ڈاؤن کی پابندیاں کم کرتے ہوئے لوگوں کو احتیاط کرنے اور مقررہ ضابطوں کا خیال رکھنے کی تاکید کی جارہی ہے۔
اس کے برعکس پاکستان میں ٹیسٹ کرنے کی رفتار وزیر خارجہ کے مطابق بیس ہزار روزانہ تک پہنچائی جارہی ہے حالانکہ اس سے پہلے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ روزانہ پچاس ہزار لوگوں کا ٹیسٹ کیا جائے گا۔ 50 ہزار ٹیسٹ روزانہ بھی پاکستان جیسی بڑی آبادی کے حوالے سے بہت کم ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان سے موصول ہونے والی خبروں کے مطابق لاک ڈاؤن میں نرمی کے ساتھ ہی بے احتیاطی اور لاپرواہی کے مناظر بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔ بازاروں اور عام میل جول میں ضروری ضابطوں کا خیال نہیں رکھا گیا۔ جب رمضان المبارک میں مساجد کھولنے کا اعلان کیا گیا تھا تو مساجد سے قالین ہٹانے اور صفوں و نمازیوں کے بیچ فاصلہ رکھنے کا اقرار کیا گیا تھا لیکن اکثر مساجد میں ان پابندیوں پر عمل نہیں ہوسکا اور حکومت نے بھی اس بے قاعدگی کا نوٹس لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
اس رویہ کی سب سے بڑی وجہ یہ رہی ہے کہ پاکستانی عوام کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرات سے پوری طرح آگاہ نہیں کیا جاسکا۔ سندھ حکومت کی طرف سے پابندیوں اور فاصلہ قائم کرنے پر اصرار کی پالیسی کے جواب میں وزیر اعظم نے غریبوں کا ہمدرد بن کر لاک ڈاؤن کی مخالفت کرنا ضروری سمجھا۔ اس طرح لوگوں نے کورونا کو وبا سمجھنے کی بجائے سیاسی مقابلہ بازی سمجھ کر سماجی دوری اور احتیاطی تدابیر کو غیرضروری سمجھا۔ ملک میں ایک ایسے وقت میں لاک ڈاؤن نرم کیا گیا ہے جبکہ کوورنا وائرس کا عروج آنا ابھی باقی ہے۔ سماجی میل جول میں اضافہ اور معاشرہ میں سرگرمیاں بڑھنے سے وائرس پھیلنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ اس پس منظر میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن سیاسی مقابلہ بازی کی بجائے ، اس موقع کو عوام میں سماجی دوری کے سوال پر بیداری پیدا کرنے کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کرتے تو شاید بہتر ہوتا۔
بلاول بھٹو زرداری کی اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بحران میں لیڈروں کی حقیقت سامنے آتی ہے ۔ ان کی صلاحیت اور کمزوری کی نشاندہی ہوتی ہے۔ پاکستانی لیڈر ابھی تک اس معیار پر پورا اترنے میں ناکام رہے ہیں۔ عمران خان اس سنگین ترین بحران کے موقع پر بھی پارلیمنٹ کو اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں ہیں اور وہ بدستور اپوزیشن لیڈروں کو حقیر اور کمتر سمجھتے ہیں جن کے ساتھ مل کر کام کرنے سے ’دیانت دار عمران خان‘ کی شان و شوکت پر داغ لگ سکتا ہے۔ وزیر اعظم کو سمجھنا چاہئے کہ کورونا امیر غریب کی طرح ایماندار یا بے ایمان میں بھی فرق نہیں کرتا۔ یہ وبا ہے۔ سائینس کی فراہم کردہ ہوشمندی کو بروئے کار لا کر ہی اس کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔
بعض نامعلوم وجوہات کی بنا پر ابھی تک اگر پاکستان میں متاثرین کی شرح آبادی کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے تو اسے حکومت کی کارکردگی سمجھنے کی بجائے محض اتفاق سمجھا جائے۔ تمام ماہرین متنبہ کررہے ہیں کہ ابھی تک تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوسکا کہ موسم کی شدت یا کوئی دوسرے عوامل اس وائرس کو پھیلنے سے روک سکتے ہیں۔ پاکستانی قیادت کو اس وبا سے بچاؤ کے مسلمہ طریقے اپنانے کو ہی ترجیح دینی چاہئے اور ان پر عمل درآمد کے لئے قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے کام کرنا چاہئے۔ پیپلز پارٹی کے چئیر مین نے آج غیر مشروط تعاون کا اعلان کرکے اس اہم قومی منصوبہ میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔

( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker