تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : صدر کی نماز توبہ ، نمازیوں کا خاتون پولیس افسر پر تشدد ، اور بے بس ریاست

صدر عارف علوی نے آج نماز جمعہ کے بعد قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر اور چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے ہمراہ ایوان صدر میں نماز توبہ ادا کی اور کورونا وائرس کی تباہ کاری سے اللہ کی پناہ مانگی۔ آج ہی مشتعل نمازیوں نے کورنگی کراچی میں نماز جمعہ کے اجتماع سے منع کرنے پر خاتون ایس ایچ اور پر حملہ کر کے انہیں زخمی کردیا۔ پاکستان کی حکومت کو صرف یہ طے کرنا ہے کہ کورونا کا علاج استغفار، دعاؤں، نماز باجماعت کی ادائیگی کے لئے قانون توڑنے اور پولیس پر تشدد سے ہوگا یا اس کے لئے طبی سائنس کی بنیاد پر حاصل ہونے والی معلومات کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
دنیا کو کورونا وائرس کا سامنا کرتے اب چوتھا مہینہ شروع ہوچکا ہے اور اس کے آغاز و پھیلاؤ کے طریقہ کار سے کسی حد تک آگاہی بھی حاصل ہے۔ یہ علم بھی حاصل کیا جاچکا ہے کہ یہ وائرس کمان کی صورت میں پھیلتا ہے یعنی پہلے تھوڑے لوگ اس کا شکار ہوتے ہیں پھر ان کی تعداد بڑھتی جاتی ہے ۔ ایک خاص حد تک پہنچنے کے بعد یہ تعداد کم ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ چین کے بعد یورپ کے متعدد ممالک میں اس کا تجربہ کیا جاچکا ہے اور اب امریکہ کے سب سے زیادہ متاثر شہر نیویارک میں بھی وائرس کا پھیلاؤ انتہا کو پہنچنے کے بعد نیچے کی طرف آرہا ہے۔ اس وائرس کے بارے میں کوئی ماہر یقین سے کچھ کہنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ بیشتر ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا بالکل نئی نوعیت کا وائرس ہے ۔ ایک سال گزرنے سے پہلے اس کے اثرات، پھیلنے کی حقیقی وجوہ اور علاج کے بارے میں کوئی بات حتمی طور سے نہیں کہی جاسکتی۔ تاہم یہ بات یقین سے کہی جارہی ہے کہ لاک ڈاؤن، سماجی دوری اور لوگوں کے بڑے اجتماعات ختم کرنے سے اس وائرس کے اثرات کو محدود کیا جاسکتا ہے۔ یعنی یہ اہتمام کیا جاسکتا ہے کہ بہت زیادہ لوگ اس وائرس سے متاثر نہ ہوں تاکہ شدید بیمار ہونے والوں کی تعداد کم ہو اور اس طرح مرنے والوں کی تعداد کو بھی کم سطح پر رکھا جاسکے۔
لاک ڈاؤن اور سماجی دوری کے کامیاب اطلاق سے ہی چین نے اس وائرس پر قابو پایا اور ایک کروڑ سے زائد آبادی کے شہر ووہان کے شہریوں کی بڑی تعداد کو اس وائرس کی ہلاکت خیزی سے محفوظ رکھا ۔ اگرچہ یہ وائرس چین سے ہی شروع ہؤا تھا اور شروع کے چند ہفتوں کے دوران کورونا وائرس کی نوعیت، ہلاکت خیزی اور تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت کے بارے میں بھی مکمل معلومات حاصل نہیں تھیں۔ بلکہ خبروں کے مطابق شروع میں اس وائرس کے بارے میں متنبہ کرنے والے ڈاکٹروں کو چین کے سخت گیر نظام میں ہراساں کرنے اور معافی مانگنے پر مجبور کیا گیا۔ تاہم وائرس کی سنگینی کا احساس ہوتے ہی چینی حکومت نے سخت اقدامات کئے اور وہ کووڈ۔19 نام کے اس وائرس سے کامیابی سے نمٹنے والا پہلا ملک بن گیا۔ یورپ اور امریکہ میں یہ وائرس دو ماہ بعد پہنچا لیکن جن ممالک میں احتیاطی تدابیر شروع کرنے میں تاخیر کی گئی وہاں اس کی ہلاکت خیزی زیادہ رہی۔ یورپ میں اٹلی ا، سپین اور برطانیہ کے بعد امریکہ میں اس وبا نے تیزی سے پاؤں جمائے۔
چین کے بعد دیگر سب ممالک میں بھی تیز رفتاری سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کے ٹیسٹ کرکے وبا کی اصل نوعیت اور صورت حال کا جائزہ لینے کے علاوہ سماجی دوری اور لوگوں کو گھروں میں محدود کرنے کے اقدامات کئے گئے۔ ماہرین ابھی تک اسی طریقہ کو اس وائرس سے نمٹنے کی مؤثر تدبیر مان رہے ہیں۔ یہ تسلیم کیا جارہا ہے کہ یہ وبا ختم ہونے میں کئی ماہ صرف ہوں گے اور ایک دفعہ اس کا سامنے کرنے والے مقامات پر پھر سے یہ وائرس پھیل سکتا ہے۔ اس لئے ہاتھ ملانے، معانقہ کرنے، بڑے اجتماعات سے گریز اور لوگوں کو آپس میں 6 فٹ یا 2 میٹر کا فاصلہ قائم رکھنے اور بار بار ہاتھ دھونے کے حفاظتی طریقے اختیار کرنے پر زور دیا جارہا ہے۔ مانا جارہا ہے کہ ہاتھ دھونے سے وائرس کا پھیلاؤ روکا جاسکتا ہے کیوں متاثرہ شخص یا اس کی چھوئی ہوئی کسی شے کو ہاتھ لگانے سے یہ وائرس منتقل ہوسکتا ہے جو ہاتھ سے منہ یا ناک کے ذریعے نئے لوگوں میں داخل ہوتا ہے۔
اسے سائنس کا عجز یا ہنر کچھ بھی کہا جائے لیکن طب و تحقیق کے ماہرین مکمل معلومات نہ ہونے کی وجہ سے کورونا وائرس کے بارے میں کوئی بات بھی یقین سے کہنے سے گریز کررہے ہیں۔ اس دوران افواہوں اور سنی سنائی باتوں کی صورت میں بہت سے مشورے اور ایسی معلومات سوشل میڈیا یا دیگر ذرائع سے عام کی جارہی ہیں جن کی مصدقہ حقائق سے تصدیق نہیں ہوتی۔ ان میں یہ تاثر بھی موجود ہے کہ نوجوان لوگ آسانی سے اس وائرس کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور صرف بوڑھے یا سنگین بیماریوں کا شکار لوگ ہی اس وائرس کے سبب بیمار ہوکر ہلاک ہوتے ہیں۔ ایک تاثر یہ بھی ہے کہ بیشتر وائرس چونکہ گرم موسم میں ختم ہوجاتے ہیں ، اس لئے پاکستان اور اس جیسے گرم ممالک میں کورونا وائرس گرمیاں آتے ہی ختم ہوجائے گا۔ لیکن یہ سب قیاسات ہیں کیوں کہ کووڈ۔ 19 پر ابھی تک کوئی مکمل تحقیق موجود نہیں ہے ۔ اس لئے اس وائرس کی سخت جانی یا کمزوریوں کا بھی پوری طرح اندازہ نہیں ہے۔
ماہرین یقین سے یہ بات نہیں کہتے کہ گرم موسم میں یہ وائرس ختم ہوجائے گا۔ البتہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران گرم ممالک اور یورپ و امریکہ جیسے سرد ممالک میں اس وائرس کے پھیلاؤ کی صورت حال کو دیکھا جائے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ گرم ملکوں میں کورونا کا پھیلاؤ سرد خطوں کے مقابلے میں سست رہا ہے۔ پاکستان اور امریکہ میں کورونا فروری کے آخر اور مارچ کے شروع میں پھیلنا شروع ہؤا تھا۔ امریکہ میں اس وقت اس کے متاثرین کی تعداد 5 لاکھ سے تجاوز کررہی ہے جبکہ پاکستان میں یہ تعداد ابھی پانچ ہزار سے کم ہے۔ لیکن یہ موازنہ کرتے ہوئے اس بات کو بھلایا نہیں جاسکتا کہ امریکہ میں تقریباً 30 لاکھ لوگوں کا ٹیسٹ کیا جاچکا ہے اور اس کی رفتار میں اضافہ کیا جارہا ہے جبکہ پاکستان میں یہ تعداد تیس چالیس ہزار کے درمیان ہے۔ اس لئے سائنسی معلومات کی بنیاد پر احتیاط کرنے، سماجی دوری قائم کرنے اور لاک ڈاؤن کی صورت میں لوگوں کو گھروں میں رہنے کا پابند کرنا ہی اس مسئلہ سے نمٹنے کا ٹھوس حل ہے۔ اس حل کو اختیار کرنا یوں بھی ضروری ہے کہ پاکستان کے پاس بڑی تعداد میں مریضوں کا علاج کرنے یا ان کی دیکھ بھال کے وسائل نہیں ہیں۔ وزیر اعظم بار بار اس مجبوری کا اظہار کرچکے ہیں۔
ان حالات میں لاک ڈاؤن کے بارے میں ایک مربوط اور واضح پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت تھی۔ تاہم سندھ کے سوا کسی صوبے میں واضح ہدایات و احکامات موجود نہیں ہیں۔ اگرچہ ملک بھر میں مساجد میں جمعہ کے بڑے اجتماعات پر پابندی عائد ہے لیکن ا س حوالے سے حکومتی عہدیداروں کے بیانات میں بھی تضاد ہے اور مذہبی لیڈر بھی مختلف مؤقف اختیار کئے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ سماجی دوری کو ضروری سمجھتے ہوئے بھی نماز باجماعت اور خاص طور سے جمعہ کے اجتماعات کا اہتمام کرنا عین فرض سمجھ رہے ہیں۔ حتی کہ ایوان صدر سے جاری ہونے والی تصاویر میں صدر مملکت کو نماز جمعہ کے بعد قومی اسمبلی کے اسپیکر اور سینیٹ کے چئیر مین کے ہمراہ نماز توبہ کا اہتمام کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ خبر ہے کہ ایوان صدر میں یہ اہتمام اسلامی نظریاتی کونسل کے مشورہ سے کیا گیا تھا۔ دوسری طرف کراچی کی ایک مسجد میں نماز جمعہ کے لئے جمع ہونے سے منع کرنے پر نمازیوں کے گروہ نے ایک خاتون پولیس افسر کو تشدد کا نشانہ بنایا ۔
اس صورت حال میں دو اصولی سوال سامنے آتے ہیں۔ ایک یہ کہ کیا ریاست اور حکومت کسی وبا کا علاج کرنے کے لئے دعا کو ہی تیر بہدف سمجھتی ہے یا اس سے بچنے کے لئے احتیاط اور اس کا علاج کرنا سرکاری پالیسی کا حصہ ہے۔ اسی سلسلہ کا ضمنی سوال یہ ہے کہ کیا یہ وبا اہل پاکستان یا مسلمانوں کے گناہوں کی وجہ سے اللہ کے عذاب کے طور پر پھیلی ہے جس سے استغفار اور نماز توبہ کا اہتمام کرکے نجات حاصل کی جاسکتی ہے؟ دعا مانگنے اور اسے قومی سرکاری پالیسی کے طور پر سامنے لانے میں بہت فرق ہے۔ حکومت کو صدر کی نماز توبہ کے بعد اس پالیسی کی وضاحت کرنا چاہئے۔ اگر حکومت توبہ و استغفار کو ہی کورونا سے بچنے کا واحد راستہ سمجھتی ہے تو ایوان صدر ہی کیوں، ہر گلی کوچے میں اس کا اہتمام کرنے کی اجازت دی جائے۔ اگر یہ طریقہ کورونا سے بچاؤ کے لئے کافی نہیں ہے تو ایوان صدر میں نماز کی تشہیر کرکے پہلے سے بے یقینی کا شکار عوام کو کون سا پیغام دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔
اس حوالے سے دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ اس ملک میں عوام کے منتخب نمائیندوں کی حکومت ہے یا اپنی اپنی سوچ کے مطابق فتوے جاری کرنے والے ملاّؤں کی اجارہ داری ہے۔ ملک کی مساجد میں نمازوں کا اہتمام حکومت کے فیصلوں اور احکامات کی روشنی میں کیا جائے گا یا چند مولویوں کے جاری کئے ہوئے فتویٰ نما دعوے عوام کی تقدیر کا فیصلہ کریں گے۔ اسلامی دنیا کے کسی ملک میں مولوی کو وہ حق و اختیار حاصل نہیں ہے جو پاکستان میں مذہبی گروہوں کو دے دیا گیا ہے۔ کورونا وائرس نے اس خطرناک عدم توازن کو واضح کردیا ہے۔ ملک بھر میں پابندی کے باوجود نماز جمعہ کے اجتماعات کا انعقاد اور کراچی میں لگاتار دوسرے جمعہ کو پولیس پر نمازیوں کے تشدد سے صورت احوال کی سنگینی سامنے آئی ہے۔
وقت آگیا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ہی نہیں بلکہ اپنی اپنی سلطنت قائم کرنے والے مذہبی گروہوں کو قانون پر عمل کرنے پر مجبور کیا جائے۔ یا واضح کیا جائے کہ حکومت ان انتہا پسند اور عاقبت نااندیش عناصر کی طاقت کے سامنے بے بس ہے اور ریاست ان کے ہاتھوں یرغمال بنی رہے گی۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker