تجزیےعلی نقویلکھاری

یہ جو سنتھیا گردی ہے ، اس کے پیچھے ؟؟؟ ۔۔ علی نقوی

سنتھیا رچی نامی ایک امریکی خاتون نے آج کل پاکستان میں وبال مچایا ہوا ہے، پہلے پہل یہ خاتون اس وقت منظرِ عام پر آئیں جب فروری میں انہوں نے ایک ٹویٹ کے ذریعے ” انکشاف “ کیا کہ نقیب اللہ کے بختاور کے ساتھ تعلقات تھے اس لئے آصف زرداری نے اسے راؤ انور کے ذریعے مروا دیا ۔ پھر کئی ماہ کی خاموشی کے بعدوہ اس وقت بولیں جب ملک ریاض کے گھر کی خواتین کی مبینہ ویڈیو کہ جس میں وہ ایک ایکٹریس ماڈل پر تشدد کرتی نظر آ رہی ہیں وائرل ہوئی اس ویڈیو کے وائرل ہو جانے کے بعد موصوفہ نے فرمایا تھا کہ “بینظیر بھٹو بھی اسی طرح مخالفین پر تشدد کرایا کرتی تھیں” اس بیان کے بعد ایک سوشل میڈیا طوفان اٹھا اور دھڑا دھڑ ان خاتون کی تصاویر ہماری سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کے ساتھ شئیر ہونی شروع ہوئیں جن میں سب سے زیادہ شیئر ہونے والی تصویر وہ ہے کہ جس میں سنتھیا رچی موجودہ (IG) انسپکٹر جنرل پولیس سندھ کلیم امام کے ساتھ نہایت خوشگوار موڈ میں کھڑی ہیں اور چند اہلکار بھی انکے ساتھ موجود ہیں، سید کلیم امام کی شہرت ان دنوں بہت ہوئی کہ جب سندھ گورنمنٹ انکو آئی جی کے عہدے سے ہٹانا چاہتی تھی لیکن وزیراعظم عمران خان نے خود انہیں سندھ کا آئی جی نامزد کیا آپ پنجاب کے بھی سابق آئی جی رہے ہیں۔
اس تصویر کے علاوہ بھی کئی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھیں کہ اسی اثناء میں سنتھیارچی کی ایک ویڈیو منظر عام پہ آتی ہے کہ جس میں وہ فرما رہی ہیں کہ سن 2011 میں اس وقت کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا… جبکہ سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور مخدوم شہاب الدین نے بھی انکے ساتھ دست درازی کی، سنتھیا رچی کے بقول گیلانی نے یہ حرکت اس وقت کی کہ جب وہ ایوانِ صدر میں رہائش پذیر تھے، اس ویڈیو کے بعد جو طوفان پہلے سوشل میڈیا پر تھا مین سٹیم میڈیا پر بھی شروع ہو گیا، ان خاتون کے انٹرویوز آنے شروع ہو گئے ہیں جس میں انہوں نے جہاں کئی اور باتیں کی وہیں یہ بھی بتایا کہ وہ اس وقت پیپلز پارٹی اور پشتون قومی موومنٹ (PTM) کے آپس کے تعلقات پر تحقیق کر رہی ہیں جس کی وجہ سے انکو ریپ، اغواء اور قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں جبکہ اس تحقیق کے سلسلے میں پاکستانی سیکیورٹی ادارے انکی مدد کر رہے ہیں….
آئیے ذرا اس سب کو ہمارے عمومی معاشرتی روئیے کے ساتھ ملا کر دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، ایک ایسی خاتون کہ جو پیپلز پارٹی کے زمانے میں پاکستان تشریف لاتی ہیں، بظاہر وہ ایک NGO کے پراجیکٹ میں کام کر رہی ہیں، لیکن انکی رسائی حکومتی ایوانوں تک ہے، انکا فرمان یہ ہے سابق وزیراعظم گیلانی نے ان پر دست درازی اس وقت کی کہ جب وہ ایوانِ صدر میں رہائش پذیر تھے اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ اسُ وقت کی بات ہے کہ جب گیلانی سپریم کورٹ سے نا اہل ہونے کے بعد وزارت عظمیٰ سے بر طرف ہو چکے تھے سنتھیا رچی نے بہت کچھ بتایا لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ ایوانِ صدر میں کیا کر رہی تھیں؟ آخر وہ کیا معاملات تھے کہ جس کے سلسلے میں وہ ان انتہائی اہم شخصیات سے ملا کرتی تھیں کہ جن سے انکی پارٹی کے منسٹرز اور ایم این اے بھی آسانی سے نہیں مل پاتے اور دست درازی کے لیے ظاہر ہے خلوت کی بہرحال ضرورت ہوتی ہے…
پیپلز پارٹی کے پی ٹی ایم سے تعلقات کی تحقیق بڑا ہی دلچسپ معاملہ ہے، جب راؤ انوار نے مبینہ طور پر نقیب اللہ کو مارا تو پی ٹی ایم نے بھرپور احتجاج کیا اور راؤ انوار کے گرفتاری کا مطالبہ کرنے کے لیے بڑے جلسے اپنے علاقوں میں کیے یہ جلسے میڈیا نے تو نہیں دکھائے لیکن سوشل میڈیا دکھاتا رہا لیکن تب ان جلسوں نے اہمیت حاصل کرلی کہ جب ان میں سیکورٹی اداروں کے خلاف نعرے لگے اور وردی کو دہشت گردی سے جوڑا گیا، الیکشن ہوتے ہیں اور پی ٹی ایم کے لوگ قومی اسمبلی میں تو پہنچ جاتے ہیں لیکن معاملے گرم ہی رہتے ہیں اور بات یہاں تک جاتی ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور ایک پریس بریفنگ میں سینئر ترین صحافیوں کی موجودگی میں فرماتے ہیں
Time’s Up, Enough is Enough..
آپ فرماتے ہیں کہ ریاستی اداروں نے بہت تحمل سے کام لیا لیکن یہ قابلِ قبول نہیں کہ اداروں کے خلاف پبلک میں نعرے لگائے جائیں اور ان پر چپ بیٹھا جائے، جب جنابِ حامد میر نے سابق ڈی جی سے پوچھا کہ کیا یہ مناسب نہیں کہ ہم ان لوگوں کو اپنے اپنے پروگرامز میں بلا کر ان سے ان سب باتوں کا جواب طلب کریں یوں قوم پر انکی حقیقت عیاں ہو جائے گی تو جنابِ سابق ڈی جی نے اسکی بھی اجازت نہیں دیتے اور فرماتے ہیں کہ سیکورٹی ادارے ان سے خود اپنے انداز میں باز پرس کریں گے…. ہوتا یہ ہے کہ پی ٹی ایم کے ایم این اے علی وزیر اور محسن داوڑ کو گرفتار کیا جاتا ہے اور کئی دن حراست میں رکھا جاتا ہے علی وزیر پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سیکورٹی فورسز پر حملہ کیا ہے یہ بات اسُ وقت بریکنگ نیوز بنتی ہے کہ جب پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو ایک پریس ٹاک سے مخاطب تھے اور اسی دوران ایک صحافی ان سے پوچھتا ہے کہ سنا ہے کہ علی وزیر نے سیکورٹی فورسز پر حملہ کیا ہے؟؟ بلاول بہت جھنجھلاہٹ کے ساتھ اس بات کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ کیسی بات کر رہے ہو….. علی وزیر ایسا کیسے کر سکتا ہے وہ ممبر پارلیمنٹ ہے؟
پی ٹی ایم کے جس رہنما نے سب سے زیادہ شہرت حاصل کی وہ منظور پشتیں ہے کہ جس کے سیدھے سادے انداز اور پشتون لہجے میں بولی جانے والی اردو میں کی جانے والی کھری کھری باتوں نے لوگوں کی توجہ اس نوجوان کی طرف مبذول کرائی تھی، منظور پشتیں پر غداری سمیت نا جانے کیسے کیسے الزامات عائد کیے جا چکے ہیں لیکن نہ تو وہ چھپتا ہے اور نہ ہی کوئی ایسی بات کرتا ہے کہ جو آئین پاکستان کے خلاف ہو… ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کے مین سٹیم میڈیا انٹرویو پر پابندی ہے کیونکہ اسکو کسی ٹاک میں بیٹھے ہوئے کم از کم میں نے تو کبھی نہیں دیکھا لیکن سوشل میڈیا پر ایک دو ویڈیو انٹرویوز اور ایک انٹرویو جو بھائی فرنود عالم نے لیا تھاوہ پڑھا اس سے جو تاثر ملا وہ یہ تھا کہ یہ آدمی تو صرف آئین کی پاسداری کی رٹ لگائے رکھتا ہے… مزے دار بات یہ ہے کہ وہ راؤ انوار کہ جس پر نقیب اللہ کے قتل کا الزام ہے اس کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کا حمایت یافتہ ہے اس کا ایک اشارہ سابق ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی اسی پریس بریفنگ میں ڈھکے چھپے انداز میں نام لیے بغیر دیا تھا، اگر یہ سب مان لیا جائے تو پھر تو ایک طرح سے پی ٹی ایم اور اسکے لوگ تو ان ڈائرکٹلی پیپلزپارٹی کے خلاف ہی احتجاج کر رہے تھے…. پھر یہ کون سے پی ٹی ایم اور پیپلز پارٹی تعلقات ہیں کہ جن کی تحقیقات سنتھیا رچی کر رہی ہیں؟
اور اس صورت میں کہ جب دنیا یہ جانتی ہے کہ ہمارے سیکورٹی اداروں اور ان دونوں جماعتوں کے تعلقات اگر کشیدہ نہیں بھی ہیں تو خوشگوار تو یقیناً نہیں ہیں یہ بات کتنی معتبر ہو سکتی ہے کہ اس تحقیق میں سیکورٹی ادارے ان خاتون کی مدد کر رہے ہیں؟؟ یعنی وہ ادارے ان کی مدد کر رہے ہیں کہ جن پر دہشت گردی اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کا الزام پی ٹی ایم لگاتی ہے اور اس پولیس کے سربراہان کے ساتھ انکی تصویریں گردش کر رہی ہیں کہ جس کے ایک ایس پی پر نقیب اللہ کے قتل کا الزام ہے یہ بات جہاں گمبھیر ہے تو وہیں دوسری طرف دلچسپ بھی ہے کہ ایک ایسی تحقیق کہ جو دو ایسی جماعتوں کے بارے میں ہو کہ جو ایک دوسرے سے کسی بھی طور پر منسلک بظاہر نظر نہ آتی ہوں اور ان میں سے ایک وہ ہو جو اس شخص کی پھانسی یا سزا کا مطالبہ کرتی ہو کہ جو دوسری کا بغل بچہ کہلاتا ہو اور اس سب میں اسکو مدد بھی ان طاقتوں کی حاصل ہو کہ جو ان دونوں جماعتوں سے خوش نہیں ہیں کتنی اہمیت کی حامل ہو سکتی ہے اور کتنی معتبر ہو سکتی ہے اور اسکی ضرورت بھی آخر کیا ہے؟؟
ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ ہے کہ ہم گورے سے بیحد متاثر ہیں اور اگر گوری ہو اور وہ دیکھنے میں جاذ بِ نظر بھی ہو تو پھر تو ہماری جان پر ہی بن آتی یے اور ہم ہر وہ بات مان لیتے ہیں کہ جو وہ کہہ رہی ہو، اسلام آباد کے حلقوں میں یہ بھی مشہور رہا ہے کہ ن لیگ کے رہنما دانیال عزیز جو پارٹیاں کرایا کرتے تھے ان میں دو شخصیات بہت مشہور تھیں ایک سنتھیا رچی اور دوسری ریحام خان اور دونوں کے پاکستانی اہم سیاست دانوں پر لگائے جانے والے الزامات کی نوعیت بھی تقریباً ایک جیسی ہے کہ جس سے ان دونوں خواتین کے رجحانات کا اندازہ لگانا بھی مشکل نہیں ہے…. اس لیے جب بھی اسلام آباد کے کسی پارٹی بوائے سے ان کا تذکرہ کیا جاتا ہے تو وہ ایک معنیٰ خیز ہنسی ہنستا ہے…
سوال یہ ہے کہ یہ خاتون جو بھی ہیں انکی اتنی ہمت کیسے ہوئی کہ یہ ان لوگوں پر کہ جن کا اس ملک میں بہت اثر و رسوخ ہے جن کے بارے میں پبلک کی رائے یہی ہے کہ یہ ظالم اور سفاک لوگ ہیں ان کے بارے میں انتہائی نوعیت کے الزامات لگاتی ہیں لیکن انکو کوئی خوف محسوس نہیں ہوتا نہ صرف یہ بلکہ اس ملک کے اداروں کے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی کہ اس ملک کے سابق وزیراعظم پر دست درازی کا اور سابق وزیر داخلہ پر ریپ کا الزام لگتا ہے اور کوئی ان سے اسکے ثبوت نہیں مانگتا؟؟
کیا یہ حرکت کوئی پاکستانی خاتون کسی امریکی سابق صدر کے حوالے سے کر سکتی ہے؟؟ یقیناً نہیں، سن 2011 سے لیکر اب تک ان خاتون نے امریکی کے مبینہ طور پر باون 52 سفر کیے ہیں لیکن ان نو سالوں میں انہوں نے کبھی بھی کسی سے اس ریپ کا تذکرہ نہیں کیا، پاکستان کی فیشن انڈسٹری کی ایک شخصیت علی سلیم المعروف بیگم نوازش علی نے ایک بیان دیا کہ انکے سنتھیا رچی سے نہایت قریبی تعلقات رہے ہیں اور انہوں نے انکے ساتھ بہت سا وقت خلوت میں بھی گزارا ہے لیکن ان سے بھی کبھی سنتھا رچی نے رحمان ملک یا وزیراعظم گیلانی کے بارے میں کوئی بات نہیں کی ہاں ایک بار انہوں نے یہ ضرور بتایا کہ ہمارے موجودہ وزیراعظم عمران خان نے ایک بار ان کے ساتھ ٹائم گزارنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا (دروغ بر گردنِ راوی) سوشل میڈیا پر صورتحال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے لوگ ان پر لعنت ملامت کر رہے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے لوگ پیپلزپارٹی کے راہنماؤں کو کٹہرے میں لانے کی بات کر رہے ہیں، یہ وہی لوگ ہیں کہ جو عائشہ گلالئی کو جھوٹا جبکہ عائشہ احد اور سنتھیا رچی کو سچا مانتے ہیں…
میڈیا اس سب پر شوز کر رہا ہے گیلانی، رحمان ملک اور شہاب الدین اپنی اپنی صفائیاں دے رہے ہیں اور سنتھیا رچی کو کوریج مل رہی ہے..
کاش ہم ایک قوم ہوتے اور ہمارا رویہ ایک قوم کے رویہ جیسا ہوتا تو یہ سب نہ ہوتا ہمارے آپس کے جو بھی اختلافات ہوں لیکن اگر کوئی غیر ملکی حملہ ہو تو ایک قوم کی طرح رسپانس دینا چاہیے ہمارے اداروں کو خصوصاً ہماری عدالتوں کو سنتھارچی سے یہ پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ کس طرح یہ بات کر رہی ہیں؟؟
ایک ایسی بات کہ جس کو آپ ثابت بھی نہیں پائیں گی؟
آج نو سال گزر جانے کے بعد اس بات کا مقصد کیا ہے؟؟
انکے ملک سے باہر جانے پر پابندی اس وقت تک لگانی چاہیے تھی کہ جب تک وہ ان باتوں کو ثابت نہیں کرتیں کہ جو انہوں نے کیں ہیں، کیوں یہ اتنا آسان ہے کہ جس کا دل کرے آٹھ کر یہاں کی اہم ترین شخصیات پر جو چاہے الزام لگا دے اور اسکے خلاف کوئی کارروائی نہ ہو؟؟
علی سلیم سے بھی عدالت کو یہ پوچھنا چاہیے کہ جو بات انہوں نے موجودہ وزیر اعظم کے حوالے سے کی ہے اس میں کتنی حقیقت ہے؟ لیکن یہ سب نہیں ہوگا کیونکہ ہماری اور ہمارے اداروں کی کیا اوقات ہے کہ وہ کسی امریکی سے کچھ بھی پوچھ سکیں، اور ہمارے یہاں تو ان خاتون کو جو سیکورٹی میسر ہے کاش وہ ہمارے رہنماؤں اور عوام کو حاصل ہوتی تو آج امریکہ کی جنگ لڑتے لڑتے اس ملک کی کئی اہم شخصیات اور ایک لاکھ پاکستانی اس طرح ذلت کی موت نہ مرے ہوتے جس طرح ہم نے گزشتہ بیس سالوں میں اپنے پیاروں کو مرتے دیکھا…

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker