تجزیےعقیل عباس جعفریلکھاری

’انتقام کی آگ‘: ذکر پاکستان کی ایک گمشدہ فلم کا ۔۔ عقیل عباس جعفری

کیا آپ کو معلوم ہے کہ پاکستان کی فلمی تاریخ میں ایک ایسی فلم بھی موجود ہے جو باقاعدہ ریلیز ہوئی، دو ہفتے سینما گھروں میں نمائش پر رہی مگر اس کا ذکر نہ کسی فلمی تاریخ میں ملتا ہے اور نہ کسی فلم ڈائریکٹری میں۔
اس فلم کا نام تھا انتقام کی آگ۔ اور یہ فلم 3 دسمبر 1971 کو کوئٹہ کے دو سینما گھروں ریگلی اور ڈیلائٹ میں بیک وقت نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی۔ یہ 1970 کے لگ بھگ کی بات ہے جب کوئٹہ کے چند جوانوں نے اپنے فلمی شوق کی تسکین کے لیے ایک فلم بنانے کا آغاز کیا۔
اس فلم کے ہدایت کار، فلم ساز اور کہانی نگار عبدالرزاق (اے آر خان) تھے، جو آج بھی کوئٹہ میں قیام پذیر ہیں۔ اس فلم کی کہانی لورالائی کے ایک باہمت سپوت شیر خان کے حالات زندگی پر مبنی تھی۔اس فلم کی موسیقی خدائے رحیم پریشان نے مرتب کی تھی جبکہ نغمات عطا شاد نے تحریر کیے تھے۔ فلم میں چار نغمات شامل تھے۔۔ جن کے بول تھے:
1- دل کے ویرانے
2- یہ بھیگی بھیگی رات
3- ہائے میرا دل
4- غم محبت، غم زمانہ، ہزار تیر، ایک دل نشانہ
ان چار نغمات میں سے پہلے تین نگہت سیما کی آواز میں ریکارڈ ہوئے تھے جبکہ چوتھا نغمہ افغانستان کے مہشور گلوکار ناشناس نے گایا تھا مگر یہ واقعہ ذرا سی تفصیل چاہتا ہے۔ ناشناس ان دنوں کابل میں رہتے تھے۔ فلم ساز اے آر خان اور موسیقار خدائے رحیم پریشان نے ان کی آواز میں نغمے کی ریکارڈنگ کے لیے افغانستان جانے کا فیصلہ کیا۔مگر کابل جب ان کی ملاقات ناشناس سے ہوئی تو انھوں نے بتایا کہ وہ حکومت کی اجازت کے بغیر یہ نغمہ ریکارڈ نہیں کروا سکتے۔
انھوں نے اے آر خان اور خدائے رحیم پریشان کو مشورہ دیا کہ وہ ادارہ ثقافت کے ڈائریکٹر سے رابطہ کریں اگر وہ اجازت دے دیں تو وہ ریکارڈنگ کے لیے تیار ہیں۔ فلمی یونٹ نے ڈائریکٹر ثقافت سے ملاقات کی اور مسئلہ گوش گزار کیا۔ ڈائریکٹر ثقافت نے کہا اگر ناشناس خود یہ نغمہ ریکارڈ کرانا چاہتے ہیں تو ان کے ادارے کو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔
یوں اگلے روز کابل ریڈیو اسٹیشن کے سٹوڈیو میں ناشناس کی آواز میں عطا شاد کا لکھا ہوا اور خدائے رحیم کا کمپوز کیا ہوا نغمہ ریکارڈ ہوا۔ اس نغمے کی ریکارڈنگ میں کابل کے مشہور سازندوں نے حصہ لیا۔ فلم میں یہ نغمہ خدائے رحیم پر عکس بند ہوا، جنھوں نے اس فلم میں اداکاری کے جوہر بھی دکھائے تھے۔ اس نغمے کے بول تھے „غم محبت، غم زمانہ، ہزار تیر ایک دل نشانہ۔‘
فلم انتقام کی آگ میں جن اداکاروں نے حصہ لیا تھا ان میں مرکزی کردار اے آر خان، نورینہ، چنگیزی، استاد محمد شفیع، آفتاب خواجہ، چندا، محمد یوسف، محمد حسین اور خدائے رحیم شامل تھے۔ فلم کی اندرون خانہ عکس بندی اے سعید نے کی تھی اور بیرونی مناظر کی عکاسی میں ان کا ساتھ ایف ماما نے دیا تھا۔
فلم کے بینرز اور ہورڈنگز فلم میں اداکاری کے جوہر دکھانے والے استاد محمد شفیع نے تیار کیے تھے، جو کوئٹہ کے مشہور مصور تھے۔ فلم تو تیار ہو گئی مگر اس کے ساتھ ہی بدقسمتی یہ ہوئی کہ اسے عید الفطر پر اس سال 20 نومبر کو ریلیز کرنے کے لیے کوئی سینما نہیں مل سکا اور یہ فلم 3 دسمبر 1971 کو عین اس دن کوئٹہ کے سینما گھروں ریگل اور ڈیلائٹ میں نمائش کے لیے پیش ہوئی، جب پاکستان اور انڈیا کی جنگ میں مغربی پاکستان کا محاذ جنگ کھلا تھا۔
لوگوں نے فلم کو دیکھنے کے لیے سینما گھروں کا رخ کیا اور اپنے شہر میں بننے والی فلم کو سراہا بھی مگر پاکستان اور انڈیا کی جنگ کی وجہ سے اسے صرف دن کے اوقات میں دکھایا جا سکا کیونکہ رات کو بلیک آؤٹ ہوتا تھا۔ دو ہفتے بعد فلم کی نمائش روک دی گئی۔ فلم کو کراچی بھیجا گیا تاکہ وہاں اس کی نمائش ہو سکے مگر یہ فلم وہاں بھی ڈبوں میں بند پڑی رہ گئی۔
انتقام کی آگ اس کے بعد کبھی نمائش کے لیے پیش نہیں کی گئی۔ کسی فلمی مورخ نے بھی اس کا ذکر کرنا مناسب نہیں سمجھا اور فلم ڈائریکٹریاں مرتب کرنے والے محققین خصوصاً یسین گوریچہ کو تو شاید اس فلم کے بارے میں کبھی علم ہی نہیں ہو سکا۔
ہمیں بھی شاید کبھی علم نہ ہوتا اگر ہماری ملاقات استاد محمد شفیع کے صاحبزادے محمد قاسم خان عزمی سے نہ ہوئی ہوتی۔ اس تحریر میں جو بھی لوازمہ پیش کیا گیا ہے، وہ انھی کا عطا کردہ ہے جبکہ چند تصاویر کے لیے ہم محسن شکیل کے شکرگزار ہیں۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker