ڈیرہ غازی خان یونیورسٹی میں طالبات کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی میں ملوث اساتذہ کی تلاش شروع کردی گئی ہے اور پولیس نے ملزمان ڈاکٹر خالد خٹک اور ڈاکٹرظفر وزیر کی تلاش میں مختلف مقامات پر چھاپے مارنا شروع کردیئے ہیں۔
ڈیرہ غازی خان سے گردوپیش کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے متاثرہ لڑکی ثناءارشاد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے کارروائی شروع کردی ہے۔ تفتیشی افسر طاہر سلیم کے مطابق ملزمان کی تلاش کے لیے ہرممکن اقدامات کیے جارہے ہیں۔
ثناءارشاد کے مطابق پروفیسرڈاکٹر خالد خٹک نے انہیں ہوٹل بلایا ۔کچھ دیر بعد وہاں شعبہ فزکس کے سربراہ ڈاکٹر ظفر وزیربھی پہنچ گئے جس کے بعد مجھے نشہ آور چیزوالی بوتل پلائی گئی اور میں بے ہوش ہوگئی۔ ثناءنے بتایا کہ ڈاکٹر ظفر وزیر نے ساری رات میرے ساتھ زیادتی کی جس کے بعد میں صبح زبردستی کمرے سے نکل کر گھرپہنچ گئی۔ ذرائع کے مطابق یہ واقعہ مئی میں پیش آیاتھا۔پروفیسروں کے خلاف انکوائری ہوئی جس میں الزام درست ثابت ہوگیا۔ دونوں اساتذہ کو معطل کیا جاچکا ہے ۔
فیس بک کمینٹ

