لاہور: مقامی عدالت نے سابق ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری کو اراضی کیس میں مزید جسمانی ریمانڈ دینے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر 14 روز کے لیے جیل بھیج دیا۔خیال رہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن نے دوست محمد مزاری کو اراضی پر قبضے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔
محکمہ اینٹی کرپشن نے سابق ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری کا ایک دن کا جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر انہیں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا۔سماعت کے دوران اینٹی کرپشن حکام نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی سے تفتیش کے لیے مزید ریمانڈ دینے کی استدعا کی۔
سابق ڈپٹی اسپیکر کے وکیل فرہاد علی شاہ نے مزید جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے بلاجواز قرار دیا۔بعد ازاں وکیل نے نشاندہی کی کہ دوست محمد مزاری پہلے ہی 5 دن کے جسمانی ریمانڈ پر اینٹی کرپشن کی تحویل میں رہے ہیں، اس لیے مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں ہے۔
عدالت نے دوست محمد مزاری کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں 14 روز کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔عدالت نے آئندہ سماعت پر محکمہ اینٹی کرپشن سے دوست مزاری کے مقدمے کا چالان بھی طلب کر لیا۔
بعد ازاں سابق ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری نے ضمانت پر رہائی کے لیے اینٹی کرپشن عدالت سے رجوع کیا۔دوست مزاری نے اپنے وکیل فرہاد علی شاہ کے ذریعے درخواست دائر کی، درخواست میں کہا گیا ہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن نے سیاسی بنیادوں پر مقدمے میں انہیں نامزد کیا ہے، تمام تفتیش مکمل ہوچکی ہے اور ملزم سے کوئی ثبوت نہیں ملا۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت ضمانت پر رہائی کا حکم جاری کرے۔دوست مزاری کی درخواست پر 7 نومبر کو لاہور کی ضلع کچہری میں سماعت ہوگی۔
خیال رہے کہ 29 اکتوبر کو پنجاب کے محکمہ اینٹی کرپشن نے سابق ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری کو گرفتار کیا تھا۔محکمہ اینٹی کرپشن سے جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ دوست محمد مزاری کو اراضی اسکینڈل میں گرفتار کیا گیا ہے۔بیان میں کہا گیا تھا کہ محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب نے دوست محمد مزاری کو طلبی کے دو نوٹسز جاری کیے تھے مگر وہ پیش نہیں ہوئے۔
اس حوالے سے کہا گیا تھا کہ محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب نے دوست محمد مزاری کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔
( بشکریہ : ڈان نیوز )

