مجھے یقین ہے کہ اس نے عزرائیل سے بھی مسکراتے ہوئے کہا ہو گا
آؤ مرشد بسم اللہ
میں نے اسے ہمیشہ مسکراتے دیکھا اور مسکراہٹ بھی کوئی پرتکلف قسم کی نہیں بلکہ ٹوتھ پیسٹ کے اشتہار جیسی مسکراہٹ۔۔۔
پہلی ملاقات سے آخری ملاقات تک اسے کبھی رنجیدہ ، سنجیدہ ، اور ٹینس نہیں دیکھا ۔
پہلی ملاقات کب ہوئی یاد نہیں لیکن اتنا ضرور یاد ہے کہ اس ملاقات کے بعد یوں لگا جیسے میں ہمیشہ سے اسے جانتا تھا ، آخری ملاقات ہوتے ہوتے رہ گئی ، سردار اویس خان لغاری کے بیٹے کے ولیمے والے دن اس نے مجھے فون کیا ۔
مرشد کتھاں ہاؤ ؟ میں نے کہا گھر ، کہنے لگا کوئی شادی تے ونجنڑ دا پروگرام تاں کائینی ! میں نے کہا آج اتوار ہے اور شادیوں کا سیزن بھی تو ایک یا دو شادیوں میں تو ضرور جاؤ ں گا کہنے لگا جس ولیمے میں ہماری ملاقات ہو سکتی ہے وہاں تو نہیں جاؤ گے ؟ میں نے کہا تمہارے خیال میں کیوں نہیں جاؤ ں گا ؟ کہنے لگا یار تم انقلابی ہو نا ! میں نے کہا بھائی جب سے چیزیں سمجھ میں آ نا شروع ہوئی ہیں انقلاب کا بھوت سر سے اتر گیا ہے ، یوں بھی ہم خانوں کے ہمسائے ہیں ، ان کے ساتھ شادی غمی کا تعلق ہے اور ہمارے تعلقات اتنے برے کبھی نہیں رہے کہ شادی غمی میں نہ جائیں، کہنے لگا ول ملدے پئے ہیں ۔۔ لیکن ہم نہ مل سکے ، ہم کھانا کھا رہے تھے جب میں نے اسے اپنے محکمے کے افسران کے ساتھ سٹیج کی طرف جاتے دیکھا ، کھانے کے بعد ہم ہجوم میں ایسے کھوئے کہ ملاقات نہ ہو سکی ۔۔۔ یوں تو ہم ایک مدت ہوئی ہجوم میں کھو چکے تھے ، ایک دور تھا کہ تقریباً روزانہ اس سے ملاقات ہوتی تھی جب وہ ایس ڈی او واپڈا تھا ڈیرہ غازی خان میں، جام پور روڈ پر واقع گرڈ سٹیشن میں اس کی رہائش گاہ درویشوں کا ٹھکانہ ہوا کرتا تھی ، ہم اس کی شادی میں تونسہ شریف گئے ، پھر اس کے والد کی نماز جنازہ اور تجہیز و تکفین میں بھی گئے ۔ اس کے بعد میرے بچے تعلیم کے سلسلے میں ڈیرہ غازی خان سے ملتان شفٹ ہوئے ، کچھ عرصہ بعد ہم ہوت والا میں مستقل رہائش پذیر ہو گئے ، اس کے بھی تبادلے اور ترقیاں ہوتی رہیں کبھی ملتان ، کبھی رحیم یار خان تو کبھی حیدرآباد ، پھر اس نے ملتان میں گھر بنوا لیا ، سالوں بعد کسی تقریب میں ہی ملاقات ہوتی لیکن لگتا ایسے تھا کہ روز ملتے ہیں ، فون پہ بات ہو جاتی تھی کبھی کبھار ، بہت تفصیلی گفتگو ہوتی ، اس کے قہقہے ، تمام ذاتی سماجی اور ملکی پریشانیوں کو وہ قہقہے میں اڑا دیتا ، ویندا کرو مرشد ، تساں تاں بہوں خوش قسمت ہاؤ نیچر دی جھولی وچ رہندے پئے ہائو ۔
وہ اتنا بڑا نیچر لور تھا کہ مجھے رشک آتا تھا ، اس کے ساتھ کوہ سلیمان کے سفر کیے ، سندھو سائیں کے بھی اور ہمالیہ اور قراقرم کے بھی ، وہ قدرتی مناظر میں یوں کھو جاتا تھا کہ ان کا حصہ بن جاتا تھا ، رودکوہی کی گزرگاہ یا تل کی ریت کو دیکھ کر تو اس پہ نشہ سا طاری ہو جاتا تھا ۔ شعر و ادب سے محبت ، اچھی موسیقی سے لگائو ، خودساختہ دانشوروں سوڈو انٹلیکچوئلز کی جامہ کشائی میں مہارت ، اس کی صحبت اداسی کا بہترین علاج تھی ۔ خوراک لباس رہن سہن میں سادگی بلکہ درویشی ۔ انسان دوست اتنا کہ اس کے افسر ساتھیوں کو شکوہ ہوتا تھا کہ وہ نچلے درجے کے ملازمین سے گھل مل جاتا ہے ڈیکورم کا خیال نہیں رکھتا ، اور اس کے ماتحت لوگوں کو اسے اپنا دوست بتاتے تھے ، میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ اس نے کسی چپراسی گارڈ یا ڈرائیور کو نام کے ساتھ خان ملک یا جو بھی لاحقہ وہ اپنے لیے عزت کا باعث سمجھتے ہوں لگائے بغیر پکارا ہو۔
پھر ایک روز اس کا فون آیا ، کہہ رہا تھا مرشد متلی بہت ہوتی ہے ، الٹیاں آتی ہیں اور پیٹ صحیح نہیں رہتا کچھ بتائیں ، میں نے پوچھا کیا پہلے کچھ دوائیں لے رہے ہو تم ؟ مسکراتے لہجے میں بولا ہا مرشد پراسٹیٹ اچ کئی کینسر بلا تھی گئے ، اس کی دوائیں لے رہا ہوں ، میرا دل دھک سے رہ گیا ۔۔ یا اللہ خیر میرے منہ سے نکلا ، کہنے لگا اسلام آباد الشفاء ہسپتال کا علاج چل رہا ہے انہوں نے تسلی دی ہے ۔ میں نے اسے کچھ ادویات تجویز کیں اور کہا اپنی رپورٹس مجھے بھجوا دینا ، دو دن بعد اس نے کہا تمہاری دوائوں سے میرا معدہ بالکل ٹھیک ہو گیا ہے اور اب عمومی طور پر بھی بہتر محسوس کر رہا ہوں ۔ جب میں نے رپورٹس دیکھیں تو میں خدا سے کسی معجزے کی دعا مانگنے لگا ۔ میں اسے روزانہ اپنی کھینچی ہوئی مناظر فطرت اور پرندوں کی تصاویر بھیج دیتا اور اس پر وہ کوئی خوبصورت تبصرہ کرتا ، پھر اس کے جوابات آنا بند ہو گئے اور آخر کار وہ وقت آ گیا جس کا مجھے رپورٹس دیکھنے کے بعد سے دھڑکا لگا ہوا تھا۔ وہ چلا گیا اور حضرت سلیمان تونسوی کے نواح میں اپنے وسیب کی مٹی اوڑھ کر سو گیا ، وہ مٹی جس کی محبت میں اس نے کینیڈا کی شہریت ترک کر دی تھی۔
بشیر خان مندرانی المعروف جیالا صاحب ان گنے چنے لوگوں میں سے تھا جن کے جانے سے پیدا ہونے والا خلا حقیقتاً کبھی پر نہیں ہوتا۔
فیس بک کمینٹ

