ادبڈاکٹر عباس برمانیلکھاریمزاح

فیس بکی دانش ور اور دیہات صوبہ تحریک ۔۔ ڈاکٹر عباس برمانی

آج صبح سے وائی فائی کا مسئلہ ہے نیٹ بالکل نہیں آ رہا ، اور یہ آج کا مسئلہ نہیں اکثر و بیشتر رہتا ہے ، اس نااہل حکومت کو ختم ہو جانا چاہیے ، فوج ہٹائے جج ہٹائیں یا عمران خان ایک بڑی تحریک چلا کر ہٹا دے … ججوں سے تو مجھے کوئی توقع نہیں انہوں نے آج تک مسلم لیگیوں کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں دیا ، فوج کا بھی یہی حال ہے…. ایک مونچھوں والا جرنیل جب عوام کو سہانے سپنے دکھا کے اور ان کی توقعات ساتویں آسمان پہ پہنچا کے کسی سکول ماسٹر کی طرح ریٹائرمنٹ لے کر گھر چلا گیا تو ایک کلین شیو جرنیل سے کیا توقع کی جا سکتی ہے ،جنرل راحیل سے تو یونیورسیٹیوں کے پروفیسر اور ڈین وغیرہ زیادہ تگڑے ہوتے ہیں کسی نہ کسی طرح ایکسٹنشن لے لیتے ہیں چارج نہیں چھوڑتے….
عمران خاں کچھ کرے تو کرے لیکن وہ بھی کیا کرے ہمارے عوام بے حس ہیں ، اس نے تو قادری کے ساتھ مل کے پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کو گھیرے میں لے لیا تھا اور صبح شام کنٹینر پہ کھڑا ہو کر چیختا تھا میرے پاکستانیو نکلو میرے پاکستانیو پہنچو لیکن پاکستانی بھی بنی اسرائیل ہی ہیں جو حضرت موسیٰ سے کہتے تھے کہ موسیٰ تم اور تمہارا خدا جا کے لڑو …. یہ بھی گھروں میں بیٹھے ٹیلیویژن دیکھ کے اور سوشل میڈیا پہ پوسٹس لگا کے انقلاب لاتے رہے ، دھوکےباز ایمپائر کی انگلی اٹھنے کے منتظر رہے… اور وہاں قادری کے پیسے اور خان کے بندے ختم ہو گئے…. میرا بہت دل کرتا تھا جانے کو میں نے تو سامان بھی پیک کر لیا تھا خیمہ اور سلیپنگ بیگ بھی لے آیا تھا ایک کوہ نورد دوست سے… لیکن اماں نے نہیں جانے دیا ، اماں نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے مناظر ٹی وی پہ دیکھ لئے تھے …. میں ڈرتا ورتا تو خیر نہیں ہوں لیکن جب غور کیا تو کچھ اور سنجیدہ مسائل سامنے آئے ؛ ایک بھائی سعودیہ میں ہے ایک دوبئی میں ہے ایک جیل میں ہے ( جوان خون ہے دوستوں کے ساتھ ایسے ہی شغل شغل میں موٹر سائیکل ڈکیتی کر رہا تھا کہ آگے سے بائیک والے نے مزاحمت کر دی تو بھائی نے مجبوراً گولی چلا دی ، یہ بہت جاہل قوم ہے بڑے کتنا سمجھاتے ہیں کہ مسلح ڈکیتی کے وقت مزاحمت کرنا جان لیوا حماقت ہوتی ہے )، ابا صبح صبح نکلتے ہیں کھیتوں کا چکر لگاتے ہیں پھر ایم پی اے صاحب کے ڈیرے پہ جاتے ہیں دوپہر کا کھانا بھی وہیں کھا لیتے ہیں ایم پی اے صاحب کے خوش پگڑ کو تاش کھیلنے کا جنون ہے ان کے ساتھ بیٹھ کر عصر تک تاش کھیلتے ہیں ( خوش پگڑ کی اصطلاح میں نے سسر کے لئے گھڑی ہے جیسے ساس کو خوش دامن کہتے ہیں ) اس کے بعد ایک چائے خانے پہ چلے جاتے ہیں وہاں دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر ڈش ٹی وی پہ انڈین اور پشتو فلمیں دیکھتے ہیں اور چائے کے دور لگاتے ہیں ،رات کو دیر گئے گھر لوٹتے ہیں ، اب کسی کو تو عورتوں کے سر پہ گھر رہنا چاہئے زمانہ کتنا خراب ہے آپ سب جانتے ہیں… میری تو حقیقی مجبوریاں ہیں لیکن لاکھوں پاکستانی ایسے ہیں جنہیں اس قسم کی کوئی مجبوریاں لاحق نہیں لیکن بے حسی کی انتہا ہے . …بلکہ بے غیرتی کہوں بھی تو غلط نہ ہو گا . ………..
بات وائی فائی سے شروع ہوئی تھی بیچ میں انقلاب آ گیا ، کیا کروں ایک سچا اور محب وطن پاکستانی ہوں ملکی حالات بلکہ بدحالی دیکھ کے کڑھتا ہوں تو خود پہ قابو نہیں رکھ سکتا …. مجھ سے پہلی سی محبت میری محبوب نہ مانگ والے شاعر فیض احمد فیض کا بھی ایسا کوئی شعر تھا کہ جب شاہراہوں پہ مزدوروں کا خون بہتے اور پھٹوں پہ ان کا گوشت بکتے دیکھتا ہوں تو بےقابو ہو جاتا ہوں…
کتنا برا دور تھا وہ ، ہمارے دور میں تو صرف گدھوں اور کتوں کا گوشت بکتا ہے…
فیس بک پہ ایک دوست بنائی ہے اس نے آج کا کہا تھا کہ کالج نہیں جائے گی اور سارا دن میسنجر پہ چیٹنگ کریں گے اور دوپہر کے بعد جب اس کی اماں پڑوسیوں کے ہاں میلاد پہ چلی جائے گی تو سکائیپ پر بھی اور یہ سکائیپ والا میرا تو کم از کم پہلا تجربہ ہوتا لیکن حکمرانوں پر لعنت ہو کہ نیٹ ہی نہیں آ رہا . میں نے موبائیل ڈیٹا پر بھی نیٹ چلانے کی کوشش کی لیکن منہ کی کھائی یہاں دیہات میں سروس ہی سنگل جی ہوتی ہے…… کتنا بڑا ظلم ہے ! شہروں میں تین جی اور چارجی دیہات میں سنگل بیکار جی. اس ملک میں اصل ظلم تو گاؤں دیہات کے ساتھ ہوتا ہے ، لوڈشیڈنگ کا عذاب یہاں ، کیبل کی سہولت سے یہ محروم ، سڑکیں یہاں نہیں سوئی گیس یہاں نہیں ، پانی کے فلٹریشن پلانٹ یہاں نہیں …کیا کیا گنواؤں کچھ بھی تو نہیں ….اوپر سے یہاں کے باسیوں کو اجڈ گنوار پینڈو اور پتہ نہیں کیا کیا کہا جاتا ہے … حیرت ہے کہ آج تک کسی کو خیال نہیں آیا کہ دیہات کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کرے ، سرائیکی صوبہ، ہزارہ صوبہ، بہاولپور صوبہ، ملتان صوبہ، ڈیرہ غازی خان صوبہ اور کراچی صوبہ کتنے مطالبات ہو رہے ہیں ، لیکن جو حقیقت میں مسائل کا شکار ہیں جن کا اصل میں استحصال ہو رہا ہے ان کی طرف سے خاموشی ہے …… لیکن اب ایسا نہیں ہو گا میرے دیہاتیو جاگو اٹھو نکلو ہم دیہات صوبہ بنا کے رہیں گے ، میرے فیس بک اہل دیہات فرینڈز آج سے میں فیس بک پہ دیہات صوبہ تحریک کا آغاز کر رہا ہوں آپ میرا ساتھ دیں…
مجھے یقین ہے کہ وہ جو اقبال نے یا فیض نے یا کسی اور بہرحال شاعر نے کہا تھا وہ ہو کے رہے گا
میں اکیلا ہی نکلا تھا جانب منزل مگر
دوست ساتھ ہوتے گئے اور کارواں بنتا گیا

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker