آنچلاختصارئےببرک کارمل جمالیلکھاری

خود کشی یا قتل : نائلہ بلوچ کا قصور کیا تھا ؟ ببرک کارمل جمالی

آج کے والدین پر یہ حقیقت تو اچھی طرح واضح ہے کہ بچوں کے ساتھ خود کشی کے واقعات اس گھٹن زدہ معاشرے میں عام ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنا شعور ہی کافی ہے یا آگے بڑھ کر ہم نے کوئی اور قدم بھی اٹھانا ہے ۔ کیا والدین واقعی اپنے بچوں کو اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار کر رہے ہیں؟
یا استاد بچوں کو خود کشی پہ مجبور کرتے ہیں۔
نائلہ سندھ یونیورسٹی جامشورو کے ماروی گرلز ہاسٹل میں رہائش پزیر تھی کہ دو روز قبل اس کی خودکشی کی اطلاع اچانک میڈیا پر آ گئی میڈیا نے پنکھے سے جھولتی غریب بچی کو سر عام دکھایا اور بار بار دکھایا ۔ پاکستان کی تاریخ میں کبھی کسی پھانسی پانے والے کو میڈیا نے اس طرح نہیں دکھایا ہو گا۔
جس طرح سوشل میڈیا پرنٹ میڈیا نے۔ اس معصوم بلوچ بیٹی کی تشہیر کی ۔ کسی کو یہ فوٹو اپ لوڈ کرتے ہوئے یہ خیال نہیں آیا کہ یہ بھی کسی ماں کی بیٹی ہے ۔
سندھی شعبہ کی فائنل ایئر کی 22سالہ طلبہ نائلہ بلوچ کا تعلق قمبر کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے اس کی نعش جامشورو یونیورسٹی ہاسٹل میں تحویل میں لیتے ہوئے ایل ایم یو جامشورو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ایس ایچ او طاہر مغل کے مطابق ہاسٹل انتظامیہ کی اطلاع پر ہم ہاسٹل پہنچے جہاں ہمیں لڑکی کی لاش پنکھے سے لٹکی ہوئی ملی لاش کو تحویل میں لے کر مزید تفتیش کی گئی۔
لیکن یہ نہیں بتایاگیا کہ اس معصوم لڑکی نے کیوں خود کشی کی۔ قمبر شہر کے قریبی گوٹھ رند کی رہائشی بچی کو ایسا کرنے پہ کیوں مجبور کیا گیا ۔یاد رہے کہ سوشل میڈیا پہ یونورسٹی کے طلبہ اور طالبات نے بتایا کہ وہ خوب ہنستی اور بولتی تھی، گھلتی اور ملتی تھی ۔سب کو ایسا لگتی تھی جیسے وہ کوئی الگ دنیا کی مخلوق ہے ہم اس کا چہرہ دیکھ کر پہچان جاتے تھے کہ وہ آج خوش ہے یا مایوس۔
اس کی یونیورسٹی میں کبھی بھی کسی سے لڑائی نہیں ہوئی تھی۔
آج بھی نائلہ بلوچ کی روح ہم سے کہتی ہے۔
آپ نے مجھے سندھ یونیورسٹی میں اپنے کالج بیگ کے ساتھ گھومتے ہوئے دیکھا ہو گا ۔
کبھی مجھے کتابوں میں گم سم کسی درخت کے نیچے دیکھا ہو گا۔
ارے دوستو میں نے خود کشی کی ہے یا مجھے مار دیا گیا یہ میں جانتی ہوں۔
اور کوئی نہیں جانتا ۔ کئی لوگوں نے میری تصویر دیکھ کر کیا کیا کہا لیکن پنکھے میں موجود میری لاش نے میری خودکشی کو ظاہر کیا۔۔
بدقسمتی سے ہماری ملاقات زندگی میں نہ ہو پائی ۔ ہم وہ ملاقاتی ہیں جو مرنے کے بعد ملنے آتے ہیں۔ ہمیں تو نام بھی مرنے کے بعد ملتا ہے۔
میں نے ہر مشن میں اول پوزیشن لی۔میرے اب آپ نے اتنے نام بدلے ہیں کہ کبھی کبھی تو میں خود اپنا نام بھول جاتی ہوں۔ ابھی ترقی کی سیڑھی پار کرنے والی تھی کہ موت نے مجھے اپنی طرف بلا لیا ۔بھائیو اگر کوئی انجان نوجوان لڑکی کسی یونیورسٹی، کالج، سڑک یا ہوٹل پر نظر آئے تو مجھے یاد کر کے فاتحہ پڑھ دیجئے گا۔ اللہ کی خوشی،اور سربلندی اور آپ کے پیار کے سوا مجھے کچھ نہیں چاہئے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker