ڈاکٹر احمد فراز کے گلے میں کیمرہ ہوتاتھا اور وہ قدم قدم پردوستوں کی تصویریں بناتے تھے۔پیشے کے لحاظ سے تو وہ ڈاکٹر تھے لیکن شوق ان کا فوٹو گرافی اور سیروسفر تھا۔ ہم کسی محفل میں ہوتے توہماری خواہش ہوتی تھی کہ احمد فراز ہماری ایک تصویر ضرور بنائیں کہ ان کی تصویر واقعی باتیں کرتی تھی۔ وہ بولتی ہوئی تصویریں بناتے تھے جیسے ابھی کوئی تصویر میں سے نکل کر آپ کا ہاتھ تھام لے گا اور آپ سے گفتگوشروع کردے گا۔بولتی تصویریں بنانے والے ڈاکٹر احمد فراز 13جنوری کو ہمیشہ کے لیے خود تصویر ہو گئے۔اب ہم تصویروں میں تو ان سے بات کریں گے لیکن حقیقت میں ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ 12جنوری کی صبح ہم سب کے محبوب شاعراحمد فراز کا جنم دن تھا۔ اس روز دوستوں نے احمد فراز کی جوتصویریں لگائیں ان میں سے بہت سی تصاویر میں آپ سب کے احمدفراز کے ساتھ ہمارے احمد فراز بھی موجودتھے۔اورہمارے احمد فراز ڈاکٹر احمد فراز کے سوا بھلا اور کون ہوسکتے تھے۔وہ صرف ہمارے ہی نہیں ڈاکٹر شگفتہ فراز کے بھی احمد فراز تھے۔
ایک دل نواز شخصیت تھی جس کے ساتھ میرا کم وبیش 19برس سے ایک محبت بھرا تعلق تھا۔ میری ان کے ساتھ پہلی ملاقات 10 اپریل 2005ءکو ہوئی تھی جب ملتان پریس کلب میں قیصر عباس صابر نے ایک مشاعرہ کرایا جس کی صدارت احمد فراز نے کی تھی۔اوراحمد فراز ڈاکٹر شگفتہ فراز کے مہمان تھے اور اس مشاعرے میں ڈاکٹر احمد فراز ہی انہیں لے کر آئے تھے۔اگرچہ ہماری یہ پہلی ملاقات تھی لیکن یہ پہلی ملاقات ہی ایسا محسوس ہوتاتھا جیسے صدیوں سے چلی آرہی ہے۔
پہلی ملاقات میں ہی ہمارے درمیان بے تکلفی پیدا ہوگئی۔ پہلی ملاقات میں ہی ہم دونوں نے پنجابی میں گفتگوشروع کردی۔اورجب ہم اپنی مادری زبان میں گفتگو کرتے ہیں تو دوستی اس درخت کی مانند تناورہوجاتی ہے جس کی جڑیں اپنی دھرتی میں ہوتی ہیں۔ڈاکٹراحمد فراز بھی پنجابی ہونے کے باوجودمیری طرح اپنے ملتانی ہونے پر فخر کرتے تھے۔ ہمیں بہت بعد میں معلوم ہوا کہ وہ نامور ماہرتعلیم پروفیسر عبدالخالق عزمی کے صاحبزادے ہیں۔ وہی پروفیسرعبدالخالق عزمی جن کے شاگردوں میں ڈاکٹر انواراحمدجیسی نامور شخصیات بھی شامل ہیں۔ہم نے ڈاکٹر احمد فراز کے ساتھ بے شمار تقریبات میں شرکت کی۔کچھ تقریبات ان کے گھر میں منعقد ہوئیں۔ بہت سے یادگار لمحے ،بہت سے یادگارسفر ہماری یادوں میں روشن ہیں۔ ادبی بیٹھک ہو،ملتان ٹی ہاﺅس ،شیزان ہوٹل ہو یا رمادا ،ہماری ہر تقریب میں ڈاکٹر شگفتہ فراز اوران کے شریک حیات ڈاکٹراحمد فراز ضرورموجودہوتے تھے۔ایک محبت کرنے والا جوڑا تھا جسے سب رشک بھری نگاہوں سے دیکھتے تھے اوراس جوڑے نے شاہ رکن عالم کالونی میں اپنا ایک گھونسلہ بھی بنارکھاتھا۔
ہم نے ڈاکٹر احمد فراز کوہمیشہ ڈاکٹر شگفتہ فراز کی ادبی سرگرمیوں میں ایک خاموش مگر سرگرم کارکن کی حیثیت سے شریک پایا ۔ آج ڈاکٹر شگفتہ فراز جس مقام پر ہیں وہ ڈاکٹر احمدفراز کے اسی بے مثال تعاون کا مرہون منت ہے ۔ڈاکٹر احمد فراز نے قدم قدم پر شگفتہ فراز کوآسانیاں فراہم کیں۔ان کے بیرون ملک سفرہوں یا اندرون ملک کانفرنسیں اور تقریبات، وہ ایک محبت کرنے والے شوہر کی حیثیت سے ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتے تھے۔قدم قدم ان پر نچھاور ہوتے تھے اورایساکیوں نہ ہوتا ڈ اکٹر شگفتہ فراز نے بھی تو ان کی خاطر سب کچھ چھوڑ دیاتھا۔سندھ میں پیدا ہونے والی ڈاکٹر شگفتہ کو جب ڈاکٹراحمد فراز بیاہ کر ملتان لے آئے توپھر شگفتہ نے بھی پلٹ کر سندھ کی جانب نہ دیکھااوروہ ہمیشہ کے لیے ملتان کی ہوگئیں۔کئی برس قبل ڈاکٹر شگفتہ فراز کے سفرناموں کی کتاب شائع ہوئی تو اس کی تعارفی تقریب میں بھی ہم نے کہاتھا کہ اگر ڈاکٹر احمد فراز آپ کاساتھ نہ دیتے تو شاید آپ ان سفرناموں کو اس سہولت کے ساتھ مکمل نہ کرپاتیں جو سہولت آپ کو ڈاکٹرفراز نے فراہم کی۔یہی نہیں انہوں نے بچوں کی دیکھ بھال اور دیگر امور میں بھی ان کابھرپورساتھ دیا۔مجھے یاد ہے کہ ڈاکٹرشگفتہ فراز سے رابطے کے لیے مجھے ہمیشہ ڈاکٹراحمد فراز کی مددحاصل کرناپڑتی تھی۔یوں توشگفتہ فراز نے بھی کبھی کسی تقریب میں شرکت سے انکار نہیں کیاتھا لیکن ان کی پیشہ ورانہ مصروفیات اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ ان سے رابطہ آسان نہیں ہوتا۔سو میں سب سے پہلے ڈاکٹر احمد فراز کوہی فون کرتاتھا اورجب میں ان سے پوچھتا کہ ڈاکٹر صاحبہ سے بات ہوسکتی ہے تو بسا اوقات وہ یہ کہہ کر فون ڈاکٹر صاحبہ کے حوالے کردیتے کہ وہ میرے پاس ہی بیٹھی ہیں اورشگفتہ فراز ہنس کرپوچھتیں کہ آپ نے میرے نمبر پرفون کیوں نہیں کیا۔میرا جواب ہوتاتھا کہ بڑے لوگوں کوان کے پروٹوکول افسر کے ذریعے ہی ملنا چاہیے۔میں اپنی کوئی بھی کتاب انہیں ارسال کرتا تو اس پر دونوں کا نام لکھ کربھیجتاتھا ۔
ڈاکٹر احمد فراز ایک بہت اچھے میزبان تھے ۔گھر میں دوستوں کو مدعو کرنا انہیں ہمیشہ اچھا لگتاتھا۔ایسی بہت سی تقریبات میں ہم ان کے مہمان ہوتے تھے۔اپنے خوبصورت لان کو وہ قمقموں کے ذریعے مزید خوبصورت بنادیتے تھے اورپھرتقریبات کے دوران میزبانی بھی جاری رہتی اور فوٹو گرافی بھی۔ ایسی ہی ایک تقریب میں ان کے اندر کاشرارتی بچہ جاگ اٹھااورانہوں نے کوک پیتے قمررضا شہزاد کی مخمور نگاہوں والی ایسی تصویر بنائی کہ جسے دیکھ کر ایک ہی مصرع ذہن میں گونجتاتھا ” ساغر کو میرے ہاتھ سے لینا کہ چلامیں“۔
وہ ایک انتھک محنت کرنے والے سیلف میڈ انسان تھے۔ اور سیلف میڈ لوگوں کا یہی انجام ہوتا ہے کہ جب انہیں اپنی محنت کاثمر حاصل کرنا ہوتا ہے وہ رخت سفر باندھ کر اگلے سفر پرر وانہ ہوجاتے ہیں۔ احمد فراز بھائی آپ کی تصویر ہماری نظروں میں ہمیشہ جگمگاتی رہے گی۔اور آپ کی تصویر کو شگفتہ بھی ہمیشہ نمایاں رکھیں گی ۔صرف وہی نہیں ہم بھی آپ کو اپنے درمیان ہمیشہ محسوس کریں گے میں آئیندہ ڈاکٹر شگفتہ کو اپنی کوئی کتاب ارسال کروں گا تو اس پر آپ کا نام اب بھی اسی طرح لکھوں گا جیسے پہلے لکھتا تھا ۔
”ڈاکٹر احمد فراز اور شگفتہ بھابھی کے لیے خلوص کے ساتھ “
فیس بک کمینٹ

