ڈاکٹر اختر شمارکالملکھاری

ذکر ایک بچے جمہورے کا۔۔: واللہ اعلم / ڈاکٹراختر شمار

ہم سیاست دانوں کے اثاثوں کے حوالے سے کچھ لکھنے کا سوچ رہے تھے کہ ہمارے ایک مہربان قاری ( نام ان کی درخواست پر نہیں لکھا)نے اپنے خط سے متوجہ کر لیا۔جس سے کراچی ہی کی نہیں پاکستان کی ساری صورتِ حال کسی حد تک واضح ہو جاتی ہے۔ ملاحظہ کیجئے:
”جناب ڈاکٹر صاحب ! سلام مسنون۔ ہم آپ کی تحریریں شوق سے پڑھتے ہیں۔ روزنامہ نئی بات کا ایڈیٹوریل اور کالم بہت اچھے ہوتے ہیں اللہ مزید تابانیاں عطا فرمائے آمین۔۔ جہاں تک وطنِ عزیز کے حالات کا تعلق ہے تو ارد گرد دیکھ کر دکھ اور افسوس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا ۔
۶۹۔۱۹۶۸ءمیں پہلی مرتبہ کراچی جانا ہوا۔ بہت شوق تھا کراچی دےکھنے کا ۔رنگ برنگے تماشے دےکھنے اور گوناگوں مخلوق ۔محنت کش لوگ مزدور غرےب لوگ ،اِس شہر کو ماں کہا کرتے تھے۔محنت مزدوری سے وقت پاس کرتے تھے۔اب تو کسی نظر ِبد کا شکار ہے یہ شہر۔۔۔ خدا کی امان طلب کرتے ہیں لوگ۔۔ خیریت کی دعا مانگتے ہیں ہر پل۔اور انہیں ہے کسی مسیحا کا انتظار ۔
ایک دن ایمپریس مارکیٹ صدر سے گزرے تو دیکھا ،پارک کے ساتھ والی سڑک پر ایک مداری تماشا کررہا تھا۔پاس ہی ایک بچہ کھڑا ہوا تھا۔جس کا نام بچہ جمہورا تھا۔مداری ایک کپڑا زمین پر بچھا کر اس پر بچے کو سلا دیتا ہے ۔اوپر ایک چادر بھی ڈال دیتا ہے۔کافی مجمع لگ جاتا ہے ۔لوگ کھڑے سب کچھ دیکھ رہے ہیں،خاموشی کے ساتھ ۔پھر مداری آواز لگاتا ہے :
” بچہ جمہورا آجا ۔۔ “ بچہ چادر کے نیچے سے بولتا ہے۔۔ ” جی آگیا “
مداری ایک آدمی کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے ۔ بچہ جمہورا بتاؤیہ کون ہے؟وہ کہتا ہے فلاں سیٹھ صاحب ہیں ۔پھر مداری ایک دوسرے شخص کی طرف اشارہ کرکے پوچھتا ہے، وہ کہتا ہے کہ یہ فلاں خان صاحب ہیں۔پھر وہ ایک کاندھے پر ہاتھ رکھ کے کہتا ہے یہ کون ہیں؟وہ کہتا ہے یہ فلاں بہادر صاحب ہیں،خوبصورت اور نوجوان بھی ہیں ۔ “
اِسی طرح وہ مداری آوازلگاتا ہے ؛بچہ جمہورا آجا۔۔وہ کہتا ہے آگیا ۔یہ سلسلہ چلتا رہا کافی دیر ۔لوگ حیرا ن ہو کر ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں ۔اتنے میں مجمع میں سے اچانک ایک آدمی اٹھ کھڑا ہو تا ہے ۔بڑے غصے سے کہتا ہے یہ نہیں ہو سکتا ہے جھوٹ ہے میں نہیں مانتا یہ کےسے ہو سکتا ہے؟۔۔۔ایک بچہ اور وہ بھی پردے سے ،کیسے جان لیتا ہے، کہ یہ کون ہے،وہ کون ہے؟
دراصل وہ مداری کا اپنا آدمی ہوتا ہے۔ (ملی بھگت )مداری کہتا ہے میرے پاس تعویذ ہیں جو کہ الّو کے خون سے لکھے گئے ہیں ۔ان میں زندگی اور موت کا راز چھپا ہے ۔یہ انگوٹھی اور نگینے ہیں ۔ان کی برکت سے بچہ جمہورا جان لیتا ہے۔یہ تعویذ پاس رکھنے سے انسان سحر اورجادو ٹونے سے بچ جاتا ہے ۔امیر ہو جاتا ہے ۔۔۔اور مایا دیوی مہربان ہو جاتی ہے۔یہ سب کرشمہ ان تعویزوں کا ہے ۔بااثر طلسماتی نگینے جو کہ دوسرے ملکوں سے منگوائے جاتے ہیں۔بلکہ وہ خود ہی بھیج دیتے ہیں ۔“
مداری کا یہ کہنا تھا کہ شور مچ گےا۔فرمائشیں شروع۔۔ ایک مجھے دو۔ ایک مجھے دو ۔ کی آوازیں گونجنے لگیں۔۔لوگ دھڑا دھڑ خریدنا شروع ہو گئے ۔۔ چہ میگوئیاں۔۔ اب قسمت کی دیوی ہم پر مہربان ہو جائے گی۔کچھ ہی دیر میں خاصی رقم مداری کے پاس جمع ہو گئی۔مداری خوش،مجمع ختم پےسہ ہضم۔وہ سامان اٹھا کر دوسری طرف چل نکلا ۔ہمارا تجسس بڑھا۔ہم بھی اسکے پیچھے ہو لئے اور آواز لگائی : ” اوہ بھائی! ذرا ٹھہرو ! یہ سب کیا ہے ؟۔ کچھ ہمیں بھی بتاؤ۔خیر ہو آپکی ۔ “
پہلے تو وہ انکاری ہوا پھر منت سماجت سے مان گےا۔ ہم نے پوچھا، ” یہ بچہ جمہورا ،یہ تماشا۔۔ کیا بھید ہے؟بتاؤتو سہی ۔ “
وہ ہنس کر بولا: ”یہ تو کچھ بھی نہیں جو تم نے دیکھ لیا۔جمہورا کے اور بھی نرالے کام ہیں ۔چلو چھوڑو ۔اسکی ایک بہن بھی ہے ۔بچی جمہوری۔۔ بلکہ گجھی جمہوری ۔۔اس کا بھید دوں تو تم پریشان ہو جاؤ گے۔ حیرانی۔۔ ۔۔“
پھر بولا: ”ایک تصویر اسکی میرے پاس ہے دکھاتا ہوں۔دیکھ کر خود شناخت کرواور خود تجزیہ کرو۔ “ ہم ہکا بکا ۔۔۔یا الہی! ٰ یہ کیا ماجرا ہے ؟حیرانگی دیکھ کر بولا : ” صبر کرو بتا تا ہوں ۔“ پھر کن انکھیوں سے ادھر اُدھر دیکھا ،تھیلے میں ہاتھ ڈالا اور ایک تصویر نکالی ۔تصویر کیا تھی۔واہ جی واہ ۔دیکھتے رہ گئے۔ایک مورت کی صور ت عجیب و غریب ملکہ حسن بلکہ عجوبہ ۔۔جمہوراکی بہن ۔ایک بہت ہی حسین اور قیمتی کرسی پر با رعب براجمان ہے اور اسکے لمبے لمبے کئی ہاتھ ہیں اور ان ہاتھوں پر خوشخط تحریریں بھی۔جب ہم نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا تو عجیب سی چمک تھی۔تحریریں جو پڑھنا شروع کیں تو نبض جیسے رکنے سی لگی۔۔بڑی مشکل سے ہمت کر کے دیکھا تو کیا دیکھا؟ کہ کرپشن نفس پرستی،خود غرضی زبردستی، فرقہ پرستی، بستی بستی ،ظلم پرستی، فاقہ کشی،خود کشی ،ٹارگٹ کلنگ بھتہ زبر دستی،پوجا پاٹ مطلب پرستی،مایا دیوی، ہنستی بستی،رشوت کی خرمستی ، ،غریب پر قہر برستی ۔اپنے آپ کو سنبھالا ، ،پلکیں جھپکائیں ،آنکھوں کو صاف کیا ۔استغفارکا ورد کیا ۔دوبارہ جو دیکھا تو کئی دیوتا ہاتھ باندھ کر آگے کھڑے ہیں تو کسی نے سےیس جھکایا ہوا ہے، کچھ نے چرنوں کو چھو رکھا ہے اور کئی مصنوعی باادب کھڑے ہیں عاجزی سے سر کو جھکائے۔کچھ پروانے پنکھا جھلا رہے ہیں شرپسندی کا ۔ایک ہاتھ جو سب سے بڑا اونچا ، خوبصورت اور چمکدارتھا، اس پر لکھا تھا: ” خبر دار ہوشیار۔۔رزقِ حلال عین عبادت ہے “۔
دیکھنے کے ساتھ ہی آنکھیں چندھیا سی گئیں۔یکدم میاں محمدصاحب کا فرمان یاد آگیا : ”یہ دنےا ایک ڈائن ہے ،ہزاروں خاوند کھاگئی ہے پھر بھی اسکا پیٹ نہیں بھرا۔ “
گجھی جمہوری بھی کئی خاندان نگل گئی ہے۔ اس نے کتنے ہی گھر اجاڑ دیے۔کئی محتاج بیٹھے ہیں ۔تو کئی منتظر۔۔۔اب تک اسکا پتہ نہیں چل سکا ۔کس خاندان کس قبیلے سے تعلق رکھتی ہے۔ملکوں ملکوں گھومتی پھرتی ہے ۔خوب سیر کی۔شہنشاہت ۔کس کو کتنا پسند کیا۔۔ کس سے پےیارہے ، کس سے نفرت ،کس کو زندگی او رکس کو موت دے۔۔ مادرِ ملت فاطمہ جناح۔۔ بینظیر شہید۔آج کل تو گل مکئی کی بہار ہے۔مکئی کی چھلیاں ،ریت میں پکی چھلیاں ،پانی میں اُبلی چھلیاں۔پاکستانی دانے ،کشمیری نرم دانے۔یہ ہے مختصراََکہانی بچی جمہوری(جمہوریت)کی۔۔۔۔پھر کہنے لگا بہن بھائی میں اتفاق ہو محبت ہو ،درگزر ہو، لالچ نہ ہو تو گھر میں،خوشحالی آجاتی ہے۔ “
سب کچھ دیکھ سن کرہم تو انگشت بدندا ں ۔مداری نے پکڑ ا ہلایا تو ہوش و حواس بحال ہوئے ۔
کہنے لگا آخری بات سنو ۔بچہ جمہورا بھی طاقتور خوبصورت اور حسین ہے ،چشمِ بددُور ۔۔۔۔۔ہم نے کہا: ” ہمارا بھی آخری سوال سنو! بتاؤ ۔۔اِن دونوں کی عمریں کتنی ہیں؟؟عمر کتنی ہے ؟ ؟ اب وہ ہنسنے لگا ۔۔اتنا ہنسا اتنا ہنسا کہ لوٹ پوٹ ہونے لگا۔۔ اور ساتھ ہی کھانسنا شروع کردیا ۔کہنے لگا یہ حالات۔اور پھر کھانسی کا شدید دورہ پڑ گیا۔ ہم نے جلدی سے بھاگنے ہی میں عافیت سمجھی ۔پیچھے سے کانوں میں آواز گونجتی رہی۔عمریں کتنی ہیں۔؟؟ دور آکرجب مکمل طور حواس بحال ہوئے تو دیکھا نہ وہ مداری تھا اورنہ وہ شہر ۔۔۔ پھروہی سنسان سڑکےں،اداس گلیاں خاموش پارک اور ہم تنہا کھڑا تھے گم سم۔۔ احساس ہوا جیسے آسمان مسکرا رہا ہے ۔۔ایک سرگوشی سنی تو آنسو نکل آئے۔۔سرگوشی کیا تھی بقول علامہ اقبالؒ صاحب :
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگ ِملت، ننگ دیں ِ، ننگ ِوطن
(بشکریہ:روزنامہ نئی بات)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker