اعتزاز احسن اور سردار لطیف کھوسہ پاکستان کے ان نظریاتی کامریڈوں میں سے ہیں جو بفضل ربی مونہہ میں سونے کا منقش چمچہ لے کر پیدا ہوئے تھے(اور شاید اسی لئے اس درجے سے اوپر کبھی اٹھ نہیں پائے)اس لئے اپنی اٹھتی جوانی میں ایک نومولود سیاسی جماعت میں جگہ بنانا ان کیلئے مشکل نہیں تھا۔ وہ ایک مخصوص انداز کی ذہانت رکھتے تھے اس لئے ذوالفقار علی بھٹو جیسے ذہین شخص کی نظر میں آگئے۔ قانونی موشگافیوں کے یہ ماہرین خود اپنی ضرورتوں کے مطابق چھوٹے بڑے انحرافات کے باوجود لگ بھگ نصف صدی سے زیادہ تر پیپلز پارٹی سے وابستہ رہے ہیں حالانکہ خود پارٹی کی بتدریج منفی کایاکلپ ہوتی چلی گئی جو ایسے لوگوں کو مناسب لگتی ہے کیونکہ ایسی پارٹی بآسانی بلیک میل ہوتی رہتی ہے۔ یہ جو چاہے کریں مستقل مزاجی سے پارٹی کے مامے ہونے کا اعلان کرتے رہتے ہیں اب بھی وہ یہی کر رہے ہیں اور شاید حسب سابق سرخرو ہونگے ۔
ان دنوں پاکستان میں ایک مصنوعی قانونی اور آئینی دنگل برپا ہے ہر کوئی آئین کی اپنی ہی توضیح کئے جارہا ہے خود سپریم کورٹ کے جج صاحبان کی آئینی و جسمانی کشتیوں کے منظرنامے لکھے پڑھے سنے سنائے جارہے ہیں۔
ایسے میں دونوں مذکورہ اصحاب اپنی استادیاں نہ دکھائیں یہ کیسے ہو سکتا تھا سو انھوں نے اپنی اپنی ڈفلیاں بجانا شروع کردیں اور آہستہ آہستہ تال سے تال ملاتے چلے گئے واسطے ترلے کرکے قنونی ماہرین کی ایک کانفرنس کرڈالی لیکن گنجلک اور بے سمت تقریروں کے بعد ایک پھسپھسا سا اعلامیہ اور بس۔۔۔ کیونکہ موجودہ چیف جسٹس کے پاس پہلے ہی ایک مستعد سپورٹس ڈرائیور موجود ہے ایک بوڑھا، لاغر اور کمزور نظر والا ڈرائیور انھیں نہیں چاہئے لیکن ادھر جو شوق فزوں ہے اس کا کیا کیجئے۔
بیرسٹر اعتزاز احسن کی پھرتیوں کی بات کریں تو معاملہ یہ ہے کہ وہ سیاست اپنی اگلی نسل کو منتقل کرنے کے چکر میں ہیں یہی مسئلہ کھوسہ صاحب کا ہے، ان دونوں بزرگ سیاستدان کا مسئلہ یہ ہے کی ان کی اولادیں اتنی سمجھدار اور جرات مند نہیں نکلیں کہ سیاست میں اپنا کوئی راستہ نکال لیتیں یا اپنے اپنے باپ کی سیاسی وراثت ہی سنبھال پاتیں اس لئے ان کے بزرگوں کو اس عمر میں فکروں نے آن گھیرا ہے اور بے چارے اپنا بڑھاپا خراب کر رہے ہیں۔
یادش بخیر کانے جج کی بحالی کی نام نہاد تحریک میں بیرسٹر اعتزاز احسن اس لئے خود اپنی پارٹی پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف نواز شریف کےگلے میں بانہیں ڈالے اور جنرل کیانی سے فون ملائے رواں دواں تھے اور گوجرانوالہ تک پہنچتے پہنچتے پورس کے ہاتھی کی طرح خود اپنی پارٹی کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرکے فاتح قرار پائے۔۔۔
میاں نواز شریف نے دل کھول کر ان کی تحسین کی لیکن جب اگلے الیکشن (2013) میں نواز شریف نے محترمہ بشری اعتزاز کی حمایت سے انکار کردیا اور وہ ن لیگ کے شیخ روحیل اصغر سے بری طرح شکست کھا گئیں تو موصوف کو ایک بار پھر "اصولی سیاست” یاد آ گئی لیکن پچھتاوا ان کی جان نہیں چھوڑ رہا انہیں کسی نے کہہ دیا کہ ان کی بیگم کے الیکشن میں رکاوٹ مریم نواز نے ڈالی تھی وہ دن اور آج کا دن مریم نواز کا نام سنتے ہی ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔ شریفوں کی خاندانی اجارہ داری ان کی طاقت رہی ہے لیکن ایسی ہی ترجیحات کے باعث ان کے بھرم بھی کھلتے جارہے ہیں اور پنجاب کے عوام الناس کا خان صاحب کی طرف دیکھنا بلاوجہ نہیں خیر
آگے آگے دیکھئے ہوتاہے کیا
اعتزاز صاحب اور کھوسہ صاحب کئی نئی نویلی آئین پرستی کا سبب یہی ہوسکتا ہے کہ ان کو شاید اب کہیں سے اپنی اپنی اولادوں کی سیاسی ایڈجسٹمنٹ کا اشارہ ملا ہے آئین کی ٹارگٹڈ پاسداری کے پیچھے بھی ایسے ہی اعلٰی مقاصد پنہاں ہو سکتے ہیں ۔۔۔ یہ دونوں بزرگان موصوف اتنے خود مرکز اور حریص واقع ہوئے ہیں کہ یہ بھید بھی وہ جلد خود ہی کھول دینگے۔
ان دونوں کی اس نظریاتی جوڑی سے کچھ لوگ یہ توقع رکھا کرتے تھے کہ یہ آئین فہم ہیں اور آئین کی بالادستی کی بات کر سکتے ہیں ۔ یہ سچ ہے کہ قانون اور آئین کی ناک مروڑنے کی یہ جوڑی ماہر ہے ورنہ ارسلان افتخار کے کارناموں کے باوجود سر پنچ چودھری افتخار کا مکھن میں سے بال کی طرح نکلنا آسان کیسے ہوتا اور ماڈل ایان علی "مال غنیمت” کی سرعام برآمدگی کے باوجود چٹی بےگناہ کیسے ثابت ہوتی؟ ایسی لاتعداد مثالیں مل سکتی ہیں جن کا یہ موقع نہیں ۔ ان بزرگوں کی "خاص مہارتوں” کی آج کسی کو ضرورت بھی ہے؟ یہ وقت بتائے گا کیوں کہ آج کل نئے سے نیا ماہر سامنے آچکا ہے ۔
فیس بک کمینٹ

