یہ وہ جنت مثال دھرتی ہے جسے سجدہ گاہِ ملائک کہا گیا ہے۔ تب اِس دھرتی کے سینے پر بل کھاتے، شور مچاتے اور کبھی پیغمبرانہ سکون کے ساتھ رواں دواں سات دریا بہا کرتے تھے۔ اب اِسے اصولِ فنا کہیں یا قانونِ فطرت یا پھر سزائے اعمال کہ تہذیبوں کا منبع دریائے ہاکڑا جو کبھی ایک زمانے کی پیاس بجھاتا اور کھیتیاں سیراب کرتا تھاخودپانی کی ایک ایک بوندکو ترس گیااور بالآخر ریت کی دبیز تہہ کے تلے دفن ہو گیا کہ اب ہاکڑا پیاس اور تشنگی کا استعارہ بن گیا ہے۔ راوی جو قرن ہا قرن تک تاریخ کے ہم رکاب چلتا رہا اور جس کے کنارے کنارے سُروں کے جلترگ بجتے رہے اب اس کے ساز خاموش ہو چکے ہیں۔ چناب کی تندی تو اُسی دن ختم ہو گئی تھی جب اُس نے سوہنی کے ساتھ بے وفائی کی تھی۔ ستلج بھی اب کہانیوں میں ہی باقی رہ گیا ہے جبکہ پیرانہ سالی کے سبب سکندر اور پورس کے عینی گواہ جہلم کی سانس بھی اکھڑنے کے قریب تر ہے۔اب لے دے کر سندھو سائیں ہی بچا ہے جو زمانوں کے تبدل سے ماورا ور فاصلوں کی کمند سے آزاد اپنی روانی قائم رکھے ہوئے ہے۔
اِسی سرزمین پر ایک آٹھواں دریا بھی بہا کرتا تھا جو اپنی اصل میں ہاکڑا سے زیادہ قدیم تھا تاہم اُس کا ظہور 03/ دسمبر 0391ء کو ہوا تھا۔ نام تو اُن کا مرزا ظریف بیگ ولد مرزا حنیف بیگ تھا مگر قدرت کی طرف سے عجز و انکسار کا تڑکا کچھ ایسا زیادہ لگا تھا کہ علمی و ادبی دنیا میں اپنے اصل نام کو ترک کر دیا اب وہ ابن حنیف کے نام سے جانے جاتے ہیں۔
ملتان کے علمی، ادبی اور صحافیانہ حلقوں میں مزا ابن حنیف کو بڑی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ مرزا صاحب اگرچہ معروف معنوں میں مجلسی انسان نہیں تھے بلکہ انھیں مجلس گریز طبیعت کی حامل شخصیت کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ یہاں یہ بات محلِ نظر رہے کہ اپنی تمام تر کم آمیزی کے باوجود انھیں مردم بیزار نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ میں نے انھیں لوگوں سے محبت کرتے، انھیں وقت دیتے اور اُن کی پریشانیوں میں پریشان ہوتے دیکھا ہے۔ اگر ان کی شخصیت کو لفظوں میں بیان کیا جائے تو عجز، محبت اور خودداری ان کی ذات کا بنیادی حوالہ تھے بلکہ اِن صفات کے حوالے سے وہ ایک قدر کی حیثیت رکھتے تھے۔ وہ ہر طرح کے نام و نمود کی خواہش سے آزاد صرف اور صرف اپنے کام سے جنون کی حد تک عشق کرنے والے انسان تھے۔ بلاشبہ زندگی کے کئی مواقع پر ان کی خودداری نے اُن کے اہل خانہ اور خود اُن کے لیے بھی کئی مسائل پیدا کیے مگر ہر حالت میں وہ اس سے کبھی دست بردار نہیں ہوئے۔ اُن کا طرزِ تخاطب نہایت دھیما، پر سکون اور دوسروں کو عزت دینے والا تھا۔ میں نے اپنے بزرگوں سے اُن کی جلالت کے کچھ قصے سن رکھے ہیں مگر میرے تجربے میں جو مرزا ابن حنیف آئے ہیں وہ بہر حال نرم خو اور بلا تفریقِ مقام و مرتبہ دوسروں کو عزت دینے والے ہیں۔
نکلتا ہوا قد، دبلا پتلا جسم، کشادہ پیشانی، نسبتاً اوپر کو اٹھے ہوئے بال جن میں سیاہی کم سفیدی زیادہ،باریک فریم کا چشمہ جس کے اندر دو ذہین اور چمک دار آنکھیں، گندمی رنگ، ذرا اندر کو دھنسے ہوئے گال، متناسب ہاتھ پاؤں، باریک ہونٹ، سردیوں میں عموماً پتلون یا شلوار قمیض کے ساتھ اوورکوٹ اور گرمیوں میں سادہ شلوار قمیض اور کبھی واسکٹ اُن کا لباس رہا۔ لباس گرچہ سادہ پہنا مگر جو پہنا نہایت صاف ستھرا اور سلیقے کا۔ اپنے مزاج میں کم گو، کم رفتار اور کم خوراک تھے۔ دھیمے انداز سے بولتے اور قہقہے کی بجائے مسکرانے کو ترجیح دیتے۔ قول کے پکے وعدے کے اٹل۔ یہ ہیں ہمارے مرزا ابن حنیف۔
مرزا صاحب سے میری پہلی ملاقات غالباً 1985۔86ء میں ہوئی تھی۔ تب وہ مرحوم”امروز“ ملتان میں سب ایڈیٹر اورانچارج ادبی صفحہ کے طور پر کام کر رہے تھے۔ ”امروز“ کے ادبی صفحہ کی پیشانی پر ”قسمت علمی و ادبی“ کا کیپشن آویزاں ہوا کرتا تھا اور اس صفحہ پر شائع ہونا کسی اعزاز سے کم نہیں تھا۔ میں شاید سیکنڈ ائیر کا طالب علم تھا اور لکھنے پڑھنے کا شوق تھا۔ اُس زمانے میں میں نے اِدھرُ ادھر کی مدد سے ایک مضمون بہ عنوان ”اردو غزل کا ارتقا“ تحریر کیا تھا جسے میں علامہ نصیر شادانی صاحب کو دکھا کر اصلاح لے چکا تھا اور چاہتا تھا کہ یہ مضمون”امروز“ اخبار کے ادبی ایڈیشن میں شائع ہو جائے۔ ڈیرہ اڈاپر واقع امروز کا دفتر بھی کیا پراسرار جگہ تھی۔ ایک نیم تاریک سا راہداری نما برآمدہ جو سیلن اور نیوز پیپر کی مشترکہ بو سے اٹا پڑا تھا۔ اس کے ملحقہ کمرے میں ریذیڈنٹ ایڈیٹر کا آفس، ساتھ ہی اوپر جانے کے لیے چکر دار سیڑھیاں جو کسی پرانے ڈاک بنگلے کا منظر پیش کرتی تھیں۔ یہ سیڑھیاں اوپری منزل کے ایک چھوٹے سے صحن میں جا نکلتی تھیں صحن کے بائیں جانب ایک یا شاید دو بڑے کمرے جس کی دیواروں کے ساتھ ساتھ تخت لگے ہوئے تھے اور بیٹھنے والوں کے سروں تک آتی ٹیوب لائیٹس۔ یہ امروز کے کاتبوں کا کمرہ تھا۔ صحن کے دائیں طرف دو تین سیڑھیاں اتر کر ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جس میں امروز کے ہیڈ کاتب بیٹھا کرتے تھے۔ اُن دنوں غالباً ملتان کے معروف کاتب رحمت علی انصاری بطور ہیڈ کاتب کام کر رہے تھے۔ صحن کے سامنے ایک دروازہ جو ایک چھوٹے سے کمرے میں کھلتا تھا یہیں پر مرزا صاحب کاغذوں سے بھری میز پر سر جھکائے بیٹھے تھے۔ میں ڈرتے ڈرتے اندر داخل ہوا اور مرزا صاحب کو سلام کر کے خاموش کھڑا ہو گیا۔
”آپ مرزا ابن حنیف صاحب ہیں“ میں نے خوف زدہ لہجے میں دریافت کیا۔
”جی فرمائیے“ ایک مختصر سا جواب میری سماعت سے ٹکرایا۔
”سر ادبی صفحہ آپ ہی مرتب کرتے ہیں“ میں پھر گویا ہوا۔
”جی ہاں ……کہیے“ وہی اختصار۔
”سر میں نے ایک مضمون لکھا ہے اور اسے شائع کروانے کی غرض سے حاضر ہوا ہوں“ میں نے ہمت کر کے اپنا مدعا بیان کر دیا۔
”لائیے“ مرزا صاحب نے ہاتھ آگے بڑھا کر مضمون میرے ہاتھ سے لیا اور کاغذوں سے بھری میز کے ایک طرف دھر دیا۔
میرا خیال تھا کہ مرزا صاحب بخوشی مضمون قبول کر کے اسے دیکھیں گے اور اس کی ڈھیروں داد دیتے ہوئے اگلے ہفتے آنے والے ادبی صفحہ میں چھاپنے کا عندیہ دیں گے، مگر دوسری طرف مکمل خاموشی بلکہ بے رخی تاہم میں بدستور کھڑا رہا۔
”جی فرمائیے“ مجھے کھڑا پا کر مرزا صاحب نے دریافت کیا۔ تب تک وہ اپنے کام میں پوری طرح محو تھے۔
”سر یہ چھپ تو جائے گا“ میں نے محبوب سے وعدہئ وصل کے سے انداز سے دریافت کیا۔
”برخوردار یہ بات تو مضمون پڑھ کر ہی بتائی جا سکتی ہے۔ اگر قابلِ اشاعت ہوا تو دو ہفتوں کے بعد کا ایڈیشن دیکھ لیجیے گا۔
میں نیم مایوسی کے عالم میں سلام کرتا ہوا واپس آ گیا۔ ان دنوں ہمارے گھر”امروز“ اخبار ہی آیا کرتا تھا۔ میں ہر ہفتے صبح ہی صبح ادبی ایڈیشن ہی دیکھتا۔ دو ہفتوں کے کڑے انتظار کے بعد تیسرے ہفتے مضمون شائع ہو گیا۔ میرے لیے یہ زندگی کا اہم واقعہ تھا۔ میں سرشاری کے عالم میں بار بار اخبار میں چھپا ہوا اپنا نام اور کام دیکھتا۔ اور سچ پوچھیں تو اِس خوشی اور سرشاری کا سبب مرزا صاحب کی ذات تھی۔ پھر تو بقول غالب گویا دبستاں کھل گیا کے مصداق میں نے لکھنے کی تیز گام چلا دی۔ مرزا صاحب جب تک ”امروز“ میں رہے میں تواتر سے لکھتا رہا اور اگر مرزا صاحب کی حوصلہ افزائی نہ ہوتی تو لکھنے پڑھنے کا کام کب کا لد چکا ہوتا۔
جیسا کہ پہلے عرض کر چکا ہوں کہ ”امروز“ اس زمانے میں ایک اہم اخبار گردانا جاتا تھا تاہم ضیائی مارشل لا میں ”امروز“ اور اہل امروز کو کڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ”امروز“ کے بارے میں مجموعی تاثر یہی تھا کہ یہ ترقی پسندوں کی پناہ گاہ ہے۔ سو اس حوالے سے ”امروز“ کو کڑی سنسر شپ کا سامنا رہا۔ جب دن میں اخبار ایڈیٹنگ اور کتابت کے مراحل سے گزر کر شام میں تیار ہوتا اور ان کی کاپی جوڑی جاتی تو مارشل لا کا نمائندہ آ کر مسطر سے ”غیر ضروری“ خبروں کو سنسر کی پالیسی کے تحت ہٹانے کا حکم صادر فرماتا۔ آغاز میں تو اخبار اسی شکل میں چھاپ دیا جاتا اور اگلے دن آدھا خالی اخبار قارئین تک پہننچتا مگر بعد میں حکام کو اِن خالی جگہوں میں بھی خاموش احتجاج کا پہلو نظر آنے لگا یوں اخبار کی خالی جگہوں کو ادھر ادھر کی غیر سیاسی خبروں سے بھر کر چھاپنے کی منظوری دی جاتی۔ یہ سلسلہ کچھ عرصہ تک تو چلتا رہا مگر بہت جلد ”امروز“ کی اعتباری اور مالی حالت دگر گوں ہوتی چلی گئی اور آخر کار یہ اہم اخبار بھی ماضی کا ایک قصہ بن گیا۔ مرزا صاحب اس حد تک تو خوش قسمت ثابت ہوئے کہ وہ اس اخبار سے باعزت طریقے سے ریٹائر ہوئے تاہم اپنے واجبات کی وصولی کے لیے انہیں جس تکلیف دہ انتظار اور کرب ناک حالات کا سامنا کرنا پڑا وہ الگ داستان ہے جس سے چند واقفانِ حال ہی آگاہ ہیں۔
”امروز“ سے فراغت کے بعد روزگار کا سلسلہ تو منقطع ہو گیا مگر زندگی کی ضروریات کو بھلا کیسے قطع کیا جا سکتا تھا۔ اُن کے پاس نہ سرمایہ تھا اور نہ ہی وہ کاروباری ذہن رکھتے تھے اور ہنر بھی ماسوائے تحریر ومطالعہ کے کوئی تھا نہیں یعنی وہ ہر لحاظ سے مروجہ صورت حال میں مس فٹ تھے۔ سو انھوں نے اپنے طور پر جو کوشش کی وہ کامیاب نہ ہو سکی۔ میں نے دیکھا تو نہیں اساتذہ سے سنا تھا کہ وہ حسین آگاہی کی دکانوں پر سیل مین کی نوکری کے لیے لوگوں کو درخواست کرتے مگر اُن کی عمر کو دیکھتے ہوئے کوئی انھیں سیل مین رکھنے کو تیار نہ ہوتا۔ ایک معاشرے کی ذہنی، فکری اور علمی پستی اور تنزلی اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گی کہ جہاں ایسے عالی مرتبت اہل علم راستوں کی دھول بن جائیں۔ مرزا صاحب کی زندگی کا یہ کٹھن دور تھا (ویسے تو ہر دور اُن کے لئے کٹھن ہی ثابت ہوا) مگر انھوں نے کبھی اپنی انا اور خودداری پر آنچ نہیں آنے دی۔ وہ کسی سے مدد مانگنا تو دور کی بات کسی کو اپنی مشکل بتانے کے روادار بھی نہیں تھے۔وہ کسی بھی طور سے دنیا دار انسان نہیں تھے۔ جھوٹ اور مصلحت کی اُن کے ہاں کوئی گنجائش نہیں تھی۔ امروز سے پہلے ”دانش کدہ“ کے نام سے حسین آکاہی میں کتابوں کی دکان تھی مگر وہ سلسلہ بھی زیادہ دیر تک اِس لیے نہیں چل سکا کہ وہاں بھی اُن کی اخلاقی قدریں آڑے آتی تھیں۔ اس زمانے کے مقبول عام رسائل و جرائد اور عوامی مانگ کی کتابوں کو اصرار اور ضرورت کے باوجود دکان میں رکھنا شدید نا پسند تھا۔ جو نوجوان ان کی تلاش میں آتا مرزا صاحب مبنی بر اخلاق لیکچر دے کر اسے ہمیشہ کے لیے دور کر دیتے۔ کوئی کتاب کے پیسے اگر دینا بھول گیا ہے تو کبھی اس سے تقاضا نہ کرتے حتی کہ اگر کوئی سہواً یا چرا کر کتاب لے جا رہا ہوتا تو اس سے باز پرس تک نہ کرتے کہ مبادا وہ شرمندگی محسوس نہ کرے۔ اب آپ خود ہی فیصلہ کیجئے بھلا کاروبار اس طرح چلایا جانا ممکن ہے؟ سو وہی ہوا جو ہونا تھا کہ ”دانش کدہ“ کچھ ہی عرصہ بعد اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔تو میں ذکر کر رہا تھا ”امروز“ سے فراغت کے بعد کی صورت حال کا کہ جب انھیں سیل مین شپ تک سے انکار ہوا تو اُس وقت بیکن بکس کے چوہدری عبدالجبار نے (جو مرزا صاحب کی کتابوں کے ناشر بھی تھے) انہوں نے بیکن بکس پر کام کرنے کی آفر کی۔ بیکن بکس پر مرزا صاحب کچھ عرصہ تو کام کرتے رہے مگر اُن کے مزاج کی خودداری نے یہاں سے بھی فرار کی راہیں تلاش کر لیں۔ بعد ازاں وہ ڈاکٹر علمدار حسین صاحب بخاری کے ملتان پوسٹ گریجوایٹ کالج اور پھر ڈاکٹر مبینہ طلعت کے انگلش انسٹی ٹیویٹ کے ساتھ وابستہ رہے۔
مرزا صاحب بے پناہ خوددار اور انا پسند انسان تھے۔ ان کی خودداری اور انانیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نے کبھی اپنے مسائل میں دوسروں کو شریک نہیں کیا۔ ہر طرح کی مشکل، تنگی اور پریشانی کے باوجود وہ کسی سے مدد مانگنا تو دور کی بات کہہ دینا بھی خلاف انا سمجھتے تھے۔ غالباً ”امروز“ کے بعد جب اُن کے حالات تنگ ہوئے تو اِس کی خبر کسی طرح سے ڈاکٹر انوار احمد اور دیگر احباب کو ہوئی جنھوں نے اکادمی ادبیات کی طرف سے ایک چیک مرزا صاحب کے نام ارسال کروایا۔ سخت ضرورت کے باوجود مرزا صاحب نے ”مجھے کسی امداد کی ضرورت نہیں“ کہہ کر وہ چیک واپس بھیج دیا۔ دوسری مرتبہ وہ چیک مرزا صاحب کی بیگم کو بھجوایا گیا جس کا علم ہونے پر مرزا صاحب نے نہایت خفگی کے ساتھ اس چیک کو بھی واپس کر دیا۔ اسی طرح جنرل ضیا کے زمانے میں اُن کی کتاب کو ملنے والے انعام کے لیے بھی انھیں بہت مشکل سے راضی کیا گیاکیونکہ وہ ضیا کے ہاتھ سے انعام نہیں لینا چاہتے تھے۔ ہم نوجوان مرزا صاحب کی اِس خودداری کو بہت حد تک غیر ضروری خیال کرتے (حالانکہ ہم مرزا صاحب کی اس خوبی کے عاشق تھے) مگر اُن کے مزاج کو بدلنا بھلا کہاں ممکن تھا۔
”امروز“ کے دفتر کے بعد مرزا صاحب سے ملاقاتوں کا سلسلہ اردو اکادمی کے اجلاسوں میں جاری رہا۔ ہر جمعہ منعقد ہونے والے اکادمی کے اجلاسوں میں وہ باقاعدگی سے شریک ہوتے۔ اپنے ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھے اور سر کو قدرے جھکائے ہوئے وہ بڑے انہماک سے پڑھی جانے والی تحریروں کو سنتے تاہم گفتگو کرتے ہوئے بھی اُن کا ٹھہراؤ بھرا لہجہ واضح ہوتا۔ آواز بہت دھیمی ہوتی جو گفتگو کے ساتھ مزید مدھم ہوتی چلی جاتی اور شرکا با مشکل اُن کی بات سن پاتے۔ میں نے انھیں کبھی اونچی آواز میں بات کرتے نہیں سنا۔ کبھی کبھار جلال میں آتے بھی تو آواز سے زیادہ ان کی آنکھیں اور چہرے کے تاثرات گفتگو کرتے تھے۔
( جاری ہے )
فیس بک کمینٹ

