ڈاکٹر علی شاذفکالملکھاری

مارکسزم اور مذہب ۔۔ ڈاکٹر علی شاذف

مارکسزم کو کیپٹل ازم کے ہاتھوں سب سے بڑا مسئلہ جو اب تک درپیش رہا ہے، وہ مختلف حیلوں بہانوں، بہتانوں اور الزامات کے ذریعے اسے محنت کشوں سے دور رکھنے کا ہے۔ انسان اپنی تخلیق کے بعد سے ہزاروں سال تک مسلسل تبدیلی کے مراحل سے گزرا ہے۔ اس دوران بےشمار غیرمعمولی انسان پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے اپنے ادوار میں انسانی تخلیق، اس کے مقصد اور اپنے اور کائنات کے فنا ہونے کے بارے میں مختلف نظریات پیش کیے۔ بہت سے ایسے لوگوں کو معاشرے سے مختلف سوچ رکھنے کی پاداش میں کبھی زہر کا پیالہ پینا پڑا اور کہیں سولی پر لٹکنا پڑا۔
مارکسزم ثبات پر یقین نہیں رکھتا بلکہ انسان سمیت تمام زندہ مادی اشیا کی مسلسل اور مستقل تبدیلی کا سائنسی تجزیہ پیش کرتا ہے۔ آج کا انسان اور اس کا بنایا ہوا معاشرہ ہزاروں سال تو کیا بلکہ کچھ صدیوں پہلے تک کے معاشرے سے یکسر مختلف ہے۔ یہی نہیں بلکہ موجودہ دنیا میں مختلف معاشرے موجود ہیں، جن کا رہن سہن، تہذیب و تمدن، مذاہب اور روایات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ہمارے سیارے پر ہر مادی شے کی بےشمار اقسام موجود ہیں جو ایک مشترکہ بنیاد رکھنے کے باوجود ایک جیسی نہیں ہیں۔ اس کی وجہ مادی زندہ اشیا کے خلیوں کے اندر موجود جینیاتی تبدیلیاں ہیں جو مسلسل وقوع پزیر ہو رہی ہیں اور جانداروں کی اشکال تبدیل کر رہی ہیں۔ آج کا انسان اس حقیقت کو جان گیا ہے اور غیر قدرتی طریقوں سے یہ تبدیلیاں پیدا کرنے اور چھپی ہوئی قدرتی تبدیلیاں کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہا ہے۔
مارکسزم کے مطابق سرمایہ دارانہ نظام ایک جدید نظام ہے جس نے اس سیارے کو محنت کشوں کا وجود فراہم کیا ہے۔ اس نظام کی بقا صرف اور صرف سرمائے سے وابستہ ہے۔ بدقسمتی سے یہ سرمائے کی خاطر اپنے ہی پیدا کردہ محنت کشوں کا استحصال کرکے آج بربریت کے نظام میں تبدیل ہو چکا ہے۔
یہ کائنات تضادات اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کا مجموعہ ہے۔ یہ تبدیلیاں یک دم نہیں ہوتیں لیکن اس کے نتیجے میں ہونے والا حادثہ ظاہری طور پر اچانک وقوع پذیر ہوتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
(قابل اجمیری)
مارکسزم کے نظریے کے مطابق موجودہ نظام زر بھی آہستہ آہستہ اپنی افادیت کھو دے گا اور اس کا متضاد نظریہ سوشلزم اس کی جگہ لے لے گا۔ سوشلسٹ انقلاب محنت کشوں کی فتح کا دن ہو گا۔ لیکن اس کے باوجود تبدیلی کا عمل نہیں رکے گا اور یہ ہمیشہ جاری رہے گا۔

سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں
(اقبال)

مارکسزم کے فلسفے کو موجودہ سرمایہ دار مذہب کا دشمن قرار دے کر اسے محنت کشوں سے متنفر کرنے کی کوشش کرتا ہے. آج کا پسا ہوا محنت کش اپنی بدحالی اور بےچارگی کی حالت میں مذہب کا سہارا لیتا ہے. محنت کشوں سے بھگوان، خدا اور اللہ کا سہارا چھیننے کی کوشش کرنے والوں میں کچھ کمیونسٹ بھی شامل ہیں. یہ وہی کمیونسٹ ہیں جو جدلیاتی مادیت کس علم رکھنے کے دعویدار ہونے کے باوجود مذہب کا نام سنتے ہی سکتے میں چلے جاتے ہیں. انسان کی وراثت میں جینیات کے ذریعے صرف ظاہری شکل و صورت ہی نہیں بلکہ اس کے عقائد، روایات، عادات و اطوار اور رسوم و رواج بھی منتقل ہوتے ہیں. یہ الگ بات ہے کہ ہر عہد کا انسان، اپنے اجداد سے جو کچھ بھی لیتا ہے، وہ جینیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ان سے مختلف ہوتا ہے. جینز انسان کے ڈی این اے میں موجود پروٹینز ہوتی ہیں. اس لیے ان کے مادی وجود سے انکار ممکن نہیں. مذاہب گرجا گھروں، مساجد اور مندروں کی شکل میں بھی اپنا مادی وجود رکھتے ہیں.

آج کا سرمایہ دار خود کو بہت چالاک سمجھ کر غریبوں کے مذاہب کو سوشلزم کے خلاف استعمال کرتا ہے. اس لیے سوشل ازم کا پرچار کرنے والوں کو اس کی چال کو ناکام بنانے کے لیے محنت کشوں کو مذاہب اور عقائد کی مکمل آزادی کا یقین دلانا ہو گا. یہ سوشلسٹ انقلاب کے راستے میں ایک بڑا سنگ میل ہو گا کیونکہ اس سے بہت سے محنت کشوں کی غلط فہمی دور ہو گی. ساتھ ہی ساتھ اس طبقے کو مارکسزم کی تعلیم بھی دینا ہو گی تاکہ وہ مذہب اور عقائد کی بنیاد پر سرمایہ داروں کی سازشوں کا شکار نہ ہوں.

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker