ڈاکٹر علی شاذفکالملکھاری

بچوں کا جنسی استحصال (2)۔۔ڈاکٹڑعلی شاذف

اس کے بارے کسے مطلع کریں؟
جونہی آپ کو اس کا پتہ چلے، اس کے بارے میں رپورٹ کرنے میں دیر نہ کریں.
آپ اس کی رپورٹ فوراً قریبی تھانے میں درج کروائیں.
اگر آپ ایک ڈاکٹر ہیں اور آپ کو شک ہے کہ کسی بچے کے ساتھ یہ واقعہ ہوا ہے تو فوراً والدین کو آگاہ کریں اور اس کی مزید تحقیق کریں.
اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ بچوں کی طرف جنسی جھکاؤ رکھتے ہیں تو فوراً ماہر نفسیات سے رجوع کریں.
اگر آپ بچے ہیں اور آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے ساتھ یہ زیادتی ہو رہی ہے تو فوراً والدین یا قریب ترین شخص کو بتائیں.
کون جنسی زیادتی کر سکتا ہے؟
بالغ، نوجوان لڑکے اور خود بچے بچوں کے ساتھ زیادتی کے مرتکب ہو سکتے ہیں.
زیادتی کرنے والے افراد زیادہ تر مرد ہوتے ہیں لیکن عورتیں بھی اس میں ملوث ہو سکتی ہیں.
زیادتی کرنے والوں میں سے چالیس فیصد افراد دوسرے بچے یا نوجوان لڑکے ہوتے ہیں.
زیادتی کرنے والے دس میں سے نو افراد قریبی رشتےدار یا ایسے افراد ہوتے ہیں جن کو بچہ پہلے سے اچھی طرح جانتا ہے.
لڑکے زیادہ تر اپنے گھروں سے باہر تفریحی مقامات یا کھیلنے کی جگہوں پر اس کا شکار ہوتے ہیں.
آپ مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ زیادتی کرنے والا بچوں کو بہت خاص توجہ دیتا ہے، انہیں تحائف یا دعوتیں دیتا ہے یا انہیں سیر کروانے کا بہانہ کرتا ہے. وہ ایسے وقت کا انتظار کرتا ہے جب وہ بچے کو تنہائی میں مل سکے.
کون سے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہونے کا خطرہ ہوتا ہے
وہ بچے جو پہلے کسی جسمانی زیادتی کا شکار ہو چکے ہیں، عین ممکن ہے کہ وہ جنسی زیادتی کا شکار ہوں.
وہ کنبے جن میں بچوں پر نظر نہیں رکھی جاتی ان میں یہ واقعہ رونما ہو سکتا ہے.
اسپیشل بچوں خاص طور پر بولنے اور سننے سے معذور بچوں کے ساتھ ایسا ہونے کا خطرہ عام بچوں سے تین گنا زیادہ ہوتا ہے.
وہ بچے جو انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں ان کو ہمیشہ اس کا شکار ہونے کا خطرہ ہوتا ہے. جنسی زیادتی کے مجرم سماجی روابط کی ویبسائٹس، چیٹ رومز اور وٹس ایپ کو بچوں کو اکسانے کے لیے استعمال کرتے ہیں.
بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے اثرات
بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی ان کو مختصر یا طویل مدت کے لیے جسمانی یا جذباتی نقصان پہنچاتی ہے.
مختصر مدت کے لیے انہیں جنسی طور پر لگنے والی کوئی بیماری لاحق ہو سکتی ہے یا انہیں جسمانی چوٹ لگ سکتی ہے یا حمل ٹھہر سکتا ہے.
طویل مدت کے لیے انہیں مختلف نفسیاتی امراض جیسے ذہنی دباؤ یا بےچینی کی بیماری یا پی ٹی ایس ڈی ہو سکتی ہیں. یہ بچے خود کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، مجرمانہ رویہ رکھ سکتے ہیں، منشیات کا استعمال کر سکتےہیں، یہاں تک کہ لڑکپن میں خودکشی بھی کر سکتے ہیں.
جنسی استحصال
بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے ان کو پیسے حاصل کرنے کے لیے بلیک میل کر سکتے ہیں یا انہیں اس کے کاروبار کا حصہ بنا سکتے ہیں.
ترجمہ: علی شاذف
ماخذ: این ایچ ایس

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker