"بابا آپ کا میچ کب ختم ہو گا؟ آپ کب میری جگہ سے اٹھیں گے؟”
"بیٹا! جیتنے کےلیے بس بیس رنز رہ گئے ہیں، آپ کہتے ہیں تو میں ابھی اٹھ جاتا ہوں.”
"نہیں بابا! بیٹھے رہیں. دیکھ لیں باقی میچ.”
"بیٹا! آپ آجائیں میں آپ کی جگہ سے اٹھ گیا ہوں، آصف علی نے میچ جلدی ختم کر دیا ہے.”
ہمارے خاندان میں اس وقت ادب کی طرف رجحان رکھنے والوں میں صرف چار افراد میں، میرے باباجی، اور میرے دو ماموں زاد بھائی یاسر بھائی اور شارق، سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں میں صرف دو لوگ میں اور میرے باباجی اور کرکٹ یا کھیل سے لگاؤ رکھنے والوں میں صرف پانچ لوگ میں، باباجی، میرا چھوٹا بھائی شاہ زیب اور میرے دو چچازاد بھائی زمان اور زوہیب شامل ہیں. میرے دونوں بچوں میں سے کسی کا ان تینوں شعبوں میں سے کسی ایک کی طرف بھی ذرہ برابر جھکاؤ نہیں ہے بلکہ وہ ان سب سے بیزار ہیں. میں اپنے بیٹے سے کبھی ان موضوعات پر بات کروں تو اسے کسی بہانے سے مجھ سے الگ کر دیا جاتا ہے. میری بیٹی کی مکمل برین واشنگ کی جا چکی ہے.
ہمارے خاندان میں سے کسی ایک بھی خاتون یا بچی کو ان تینوں اہم شعبوں میں سے کسی ایک بھی شعبے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے. میری بیٹی کو مصوری کا شوق ہے لیکن آج کل اسے بتایا جا رہا ہے کہ تصویر، بت یا مجسمہ بنانا یا گھر میں کوئی بھی ایسی چیز رکھنا جو آپ کے تخیل سے وجود میں آئی ہو شرک ہے کیونکہ خالق صرف اللہ پاک کی ذات ہے.
ہمارا خاندان ماشاءاللہ بہت بڑا ہے جس میں صرف میں اور میرے والد ہیں جنہیں ادب، سیاست اور کرکٹ یا کھیل تینوں میں آج بھی دلچسپی ہے. بچپن میں باباجی ہم سب بچوں کے ساتھ کرکٹ کھیلا کرتے تھے، ہمیں شاعری پڑھ کر سنایا کرتے تھے اور ہمارے ساتھ سیاست پر گفتگو بھی کیا کرتے تھے. اب بھی ہم ملتے ہیں تو یہی موضوعات ہمارے زیربحث ہوتے ہیں.
اب کوئی بچہ کرکٹ یا کوئی اور کھیل کھیلنا یا دیکھنا ہی نہیں چاہتا. جب تک شاہد آفریدی تھا، اسے دیکھنے کی حد تک بچوں کو کرکٹ میں کچھ دلچسپی تھی. غالب، فیض، جوش، ناصر، مجید امجد اور جون کا کوئی نام تک نہیں جانتا اور نہ ہی جاننا چاہتا ہے. میرے بیٹے کو صرف میمز کی حد تک مارکسزم میں دلچسپی ہے.
سب بچوں اور بڑوں کا دین کی طرف رجحان البتہ سو فیصد ہے. جھوٹے سچے نصابی سیاسی اور دینی واقعات سب کو ازبر ہیں. محمد بن قاسم، اقبال اور جناح جیسے تاریخی جعلسازوں سے سب واقف ہیں. عمیرہ احمد کے ڈرامے سب کو پسند ہیں. ہم سب کے گھروں میں انتہا پسندانہ شیعہ سنی دینی نظریات اور جذبہ حب الوطنی عام ہیں.
میرا واسطہ عملی زندگی میں ڈاکٹروں سے رہا ہے. یہ لوگ اس معاشرے کا ڈفر ترین طبقہ ہیں. نشتر ہسپتال ملتان میں میرے ساتھی شاعری کرنے پر میرا مذاق اڑایا کرتے تھے. ایک ڈاکٹر رانا طارق جہاں مجھے دیکھتا، مجھ پر جگت لگاتا، "شاہ زیب!! اس پر کوئی شعر ہو جائے.” یعنی اسے میرا نام تک لینا نہیں آتا تھا یا شاید وہ جان بوجھ کر مجھے شاہ زیب کہہ کر مخاطب کرتا تھا. اس سے شاید وہ یہ ظاہر کرتا تھا کہ میں اس کے لیے اتنا غیراہم ہوں کہ اسے میرا نام تک معلوم نہیں ہے. کہیں کوئی تفریحی دورہ کیا جاتا تو مجھ سے شاعری کی فرمائش کی جاتی اور پھر میرے شعروں پر ہوٹنگ کی جاتی. یہی وجہ تھی کہ ان لوگوں کے ساتھ میں کم ہی کہیں باہر جاتا. میں اب کبھی ان لوگوں کو شعر نہیں سناتا کیونکہ یہ عمومی طور پر بدذوق لوگ ہیں.
ایک دفعہ پروفیسر عمران اقبال جو نشتر ہسپتال ملتان میں میرے سپروائزر تھے میرا مذاق اڑاتے ہوئے بولے کہ ایک شاعر اپنے شعروں سے دنیا میں آگ لگانا چاہتا تھا اور اس کی بیوی اسے کہتی تھی کہ دوچار شعر چولہے میں بھی ڈال دیا کرو. موصوف بہت سنجیدہ اور انٹیلیکچول مشہور تھے جب کہ ادب سے انکی دلچسپی کا یہ عالم تھا.
سیاست میں اس طبقے کی سنجیدگی کا اندازہ لگانے لے لیے یہی کافی ہے کہ یہ اپنے نسخوں پر دوا کے ساتھ "اپنا ووٹ صرف عمران خان کو دیں” تحریر کیا کرتے تھے. آج بھی ان لوگوں میں سے اکثر تبلیغی یا لبیکی ہیں اور فنون لطیفہ اور سنجیدہ سیاست سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے.
سچ یہ ہے کہ یہ سارا معاشرہ ہی اب روبوٹ بن چکا ہے اور آٹو پر چل رہا ہے. تباہی اس کا مقدر ہے بلکہ شاید یہی تباہی ہے.
فیس بک کمینٹ

