2018 انتخاباتاختصارئےڈاکٹر علی شاذفلکھاری

پرانا پاکستان کیسے نیا ہو گا ؟ ۔۔ ڈاکٹر علی شاذف

سب سے پہلے تو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس تحریر کوطنز نہ سمجھا جائے ۔ اب جب کہ عمران خان اقتدار سنبھال رہے ہیں ضروری ہو گیا ہے کہ انہیں وہ تمام وعدے یاد دلائے جائیں جو وہ اپنی تحریک اور دھرنوں کے دوران کرتے رہے ہیں ۔ توقعات ان سے بہت زیادہ ہیں اس لئے اب محاذ آرائی ختم کر کے انہیں وعدے پورے کرنے چاہیئں ۔ ہم یہاں کسی اضافی جملے کے بغیر یہاں وہ مطالبات درج کر رہے ہیں جو عمران خان خود کرتے رہے ہیں اور کچھ مطالبے وہ ہیں جو ہم ہر حکمران سے کرتے رہے لیکن پورے نہ ہو سکے ۔ ہمیں یقین ہے کہ اب یہ مطالبات اب وہ پورے کر دیں گے تاکہ نئے پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہو ۔۔
ٌ۔۔نئے پاکستان میں طلبہ یونینز کو بحال کیا جائے ۔
۔۔ مزدور کی کم سے کم اجرت ایک تولہ سونے کے برابر کی جائے۔
۔۔ سرکاری اسکولوں،اسپتالوں، اسٹیل مل، واپڈا، پی آئی اے اور ریلوے سمیت تمام محکموں کی نجکاری روک کر ان محکموں کو قومی تحویل میں لیا جائے۔
۔۔ نچلے گریڈ کے ریٹائرڈ ملازمین کی پینشنوں میں اضافہ اور اس کا حصول آسان بنایا جائے۔
۔۔ تمام بیروزگار نوجوانوں کو نوکریوں کی فراہمی تک مناسب بےروزگاری الاؤنس دیا جائے۔
۔۔ تمام ایڈہاک ملازمین کو مستقل کیا جائے۔
۔۔ مل مزدوروں اور محنت کشوں کو عیدین، کرسمس، ہولی، دیوالی کے مواقع پر ایک اضافی تنخواہ کا بونس دیا جائے۔
۔۔ چھوٹے کاشتکاروں کو ان کی پیداوار کا مناسب معاوضہ دیا جائے۔
۔۔ جاگیرداروں کی زمینوں میں ان پر کاشتکاری کرنے والے مزارعوں کو حصہ دار بنایا جائے۔
۔۔ کارخانوں کی آمدنی میں مزدوروں کو حصہ دار بنایا جائے۔
۔۔ پرائیویٹ اسپتالوں کے کنسلٹنٹس کی فیسوں کی حد مقرر کی جائے۔
۔۔پیسوں کی کمی کی وجہ سے مریضوں کے علاج سے انکار کرنے والے پرائیویٹ اسپتالوں کے خلاف قانون سازی اور سخت کارروائی کی جائے۔
۔۔ لواحقین کے پاس محض پیسوں کی کمی کی وجہ سے مہنگے سے مہنگا علاج بھی نہ روکا جائے۔
۔۔ سرکاری اسپتالوں میں تمام ادویات کی موجودگی اور مفت فراہمی یقینی بنائی جائے۔
۔۔ زیادہ سے زیادہ نئے اسپتال بنائے جائیں اور موجودہ اسپتالوں میں بستروں کی تعداد میں اضافہ اور وارڈز کو زیادہ سے زیادہ وسعت دی جائے، تاکہ مریض بستر نہ ہونے کی وجہ سے نجی اسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور نہ ہو۔
۔۔ پرایئویٹ اسکولوں کی فیسوں کی حد مقرر کی جائے۔
۔۔ گداگری کے مافیا کے خلاف کارروائی کر کے اس فعل کا مکمل سدباب کیا جائے۔
۔۔ بچوں کی مزدوری پر مکمل پابندی یقینی بنائی جائے۔
۔۔ بچوں سے زیادتی کے مجرموں کو سرعام پھانسی دی جائے۔
۔۔ عورتوں پر تشدد کرنے والوں کے خلاف فوراً قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے۔
۔۔ سڑکوں اور فٹ ہاتھوں پر سونے اور بھیک مانگنے والے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے خصوصی ادارے بنائے جائیں اور ان بچوں کی ذہنی اور جسمانی بحالی کی جائے ۔
۔۔ خصوصی بچوں کی بحالی کے لیے زیادہ سے زیادہ تربیتی ادارے بنائے جائیں۔
۔۔ فوجیوں کی تعمیراتی رہائشی اور کاروباری اسکیموں کو روک کر اس سرمائے کو مندرجہ بالا اقدامات اور ڈیموں کی تعمیر پر استعمال کیا جائے۔
۔۔ دفاع کے بجٹ میں 50 فیصد کمی کر کے وہ رقم تعلیم اور صحت کے لیے مختص کر دی جائے۔
۔۔ سرمایہ داروں کا کالا دھن قومی میں تحویل لے کر عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جائے۔
۔۔ کرپشن کی سزا موت رکھی جائے۔
۔۔ عوام پر قدم قدم پر لاگو کیے گئے ٹیکسوں کا خاتمہ کیا جائے۔
ایک سو دنوں میں صوبہ جنوبی پنجاب ، ایک کروڑ نوکریوں ، اور پرویز مشرف اور الطاف حسین سمیت تمام غداروں کو کٹہرے میں لانا ، نواز شریف جرنل کیانی او ر دیگر لٹیروں سے لوٹی ہوئی دولت واپس لا کرقومی خزانے میں جمع کرانا ، اپنے گھر کو بھی وزیر اعظم ہاؤس کا درجہ نہ دے کر ہر پروٹوکول اور سکیورٹی ختم کر کے تمام سڑکیں عوام کے لئے کھولنا تو ایسے مطالبے ہیں جو شائد وہ خود ہی پورے کر دیں گے ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker