ڈاکٹر علی شاذفکالملکھاری

ڈاکٹر علی شاذف کا کالم : فیشنی سرخے اور موقع پرست مڈل کلاسیے کی لمبی چوڑی تحریر

نام نہاد ویلفیئر ہسپتالوں نے اپنے ایک ادنیٰ ملازم کے ساتھ کیسا سلوک کیا

اگر دوران ملازمت کوئی شخص بیمار ہو جائے تو مالکان یا ریاست کی ذمہ داری ہونی چاہیے کہ وہ اس کا علاج کروائیں اور اس کو جب تک کہ وہ مکمل صحت یاب نہ ہو جائے تمام سہولیات فراہم کریں۔ لیکن ایک سرمایہ دار شخص یا ریاست کا نظریہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ اس معاشرے میں ایسا شخص جو کسی وجہ سے عارضی یا مستقل طور پر انہیں کما کر دینے کے قابل نہیں رہتا اسے ادارے پر بوجھ اور سرمایہ دار مشینری کا ایک ناکارہ پرزہ تصور کر لیا جاتا ہے اور ایک دن مکھن میں سے بال کی طرح اٹھا کر الگ کر دیا جاتا ہے۔ پھر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ وہ مزدور یا ملازم کتنا قابل اور اہل رہا ہے اور اس نے ادارے کے لیے کتنی گرانقدر خدمات سرانجام دی ہیں. یونائیٹڈ کنگڈم یا یو کے خود کو ایک ویلفیئر اسٹیٹ کہلوانا پسند کرتا ہے۔جب کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ میں 2019 میں یو کے گیا اور میں نے وہا‌ں کے ایک نام نہاد ویلفیئر ہسپتال رائل مارسڈن میں کام کرنا شروع کیا۔ بدقسمتی سے وہاں جانے کے بعد میں صحت کے کچھ مسائل سے دوچار ہو گیا۔ مجھے ان وجوہات کی بنا پر جبری رخصت پر بھیج دیا گیا اور میری تنخواہ نصف کر دی گئی۔ مجھے کہا گیا کہ جب تک میرا ڈاکٹر مجھے صحت یابی کی سند عطا نہیں کر دیتا، میں ہسپتال میں دوبارہ کام شروع نہیں کر سکتا۔
اس نام نہاد ویلفیئر اسٹیٹ میں کسی ماہر ڈاکٹر سے وقت لینے کا طریقہء کار بھی بہت پیچیدہ اور صبرآزما ہے۔ اس کے لیے پہلے آپ کو ایک جنرل پریکٹیشنر یا جی پی سے وقت لینا پڑتا ہے۔ وہ جی پی اگر محسوس کرے کہ واقعی آپ کو ایک اسپیشلسٹ ڈاکٹر کی ضرورت ہے تو وہ آپ کو اس کے پاس بھیج دیتا ہے۔ بصورت دیگر وہ خود آپ پر طبع آزمائی کر سکتا ہے۔ مجھے جی پی سے بحث کرنا پڑی کہ مجھے واقعی ایک ماہر ڈاکٹر کی ضرورت ہے تب کہیں جا کر وہ مجھے ریفر کرنے پر راضی ہوا۔ مجھے کچھ ہفتے بعد کا وقت دیا گیا اور اس دوران میں اپنی چھوٹی سی کوٹھڑی میں فارغ پڑا رہا۔ رائل مارسڈن ہسپتال میں کام کرنے والی ایک سینیر پاکستانی ڈاکٹر گاہے بگاہے مجھے فون کر کے میری پراگریس کے بارے میں مجھ سے پوچھتی رہیں۔ آخرکار میں اسپیشلسٹ ڈاکٹر سے ملا۔ ان ماہر ڈاکٹر صاحب کو میرے علاج سے زیادہ اس بات کی فکر لاحق تھی کہ دوران علاج وہ خود کو جنرل میڈیکل کونسل یا جی ایم سی کے عتاب سے کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے بہت محتاط ہونے کے باوجود یہ سند مجھے عنایت کر دی کہ میں ہسپتال میں کام کرنے کا اہل ہوں۔
ماہر ڈاکٹر کی سند لے کر میں واپس خوشی خوشی رائل مارسڈن پہنچا اور انہیں اس سند کی وجہ سے مجھے قبول کرنا پڑا۔ میری تنخواہ جاری رکھی گئی لیکن وہ اس کا نصف ہی رہی جو مجھے کنٹریکٹ میں بتائی گئی تھی۔ اس سلسلے میں میں نے فائنانس کے شعبے سے رابطہ کیا لیکن مجھے بتایا گیا کہ یہی تنخواہ آپ سے طے کی گئی تھی ۔میں نے ان سے زیادہ بحث کرنا مناسب نہیں سمجھا کیونکہ میں صرف کام کرنا، ایک سال کا تجربہ حاصل کرنا اور پھر واپس اپنے ملک جانا چاہتا تھا۔ میرے کام کے دوران میرے شعبے کے ڈاکٹرز نے مجھ سے ایسا سلوک روا رکھا گویا میں ان میں سے نہیں بلکہ ایک خلائی مخلوق ہوں ۔میں نے اپنی خراب صحت کے باوجود پوری جانفشانی سے کام کیا۔میرے شعبے نے میری کارکردگی کی جانچ پڑتال کرنے کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی جو ہر ہفتے یا دو ہفتے بعد مجھ سے ملاقات کرتی رہی۔ میں نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا اور نہ ہی اس بات پر سوال اٹھایا کہ اس ٹیم میں ایک ہندوستانی ڈاکٹر بھی شامل تھا جو ایک پاکستانی سے تعصب برت سکتا تھا۔ میرے شعبے میں اکثریت غیرملکیوں کی تھی جن میں سے بیشتر ہندوستانی تھے۔وہاں کام کرنے والی واحد سینیر پاکستانی ڈاکٹر کو میری سپروائزر بنایا گیا لیکن شاید وہ خود اس بات سے لاعلم تھیں۔وہ جب بھی میرے سامنے آتیں تو مجھے اسکین کرتیں کہ میں انہیں کتنا صحت مند نظر آتا ہوں۔ ایک دفعہ انہوں نے مجھے مشورہ دے ڈالا کہ میں دماغ کا سی ٹی اسکین کرواؤں کیونکہ ان کو شک ہو گیا تھا کہ مجھے دماغ کا کینسر ہے۔ اس دوران مجھے اپنے علاج کے لیے ڈاکٹر سے ملاقات وغیرہ کی اجازت دی گئی۔ میری جانچ پڑتال کرنے والی ٹیم ہر ملاقات میں مجھے میری غلطیاں گنواتی اور مجھے یہ باور کرواتی کہ میں ٹھیک کام نہیں کر رہا۔ مجھ سے میرے شعبے اور اہلیت کا کام کروانے کی بجائے جونیر سطح کا کام لیا جاتا اور مجھے کہا جاتا کہ میں سینیر سطح کا کام کرنے کے قابل ہی نہیں ہوں۔ اس دوران کووڈ آ گیا۔ مجھے میری درخواست پر کچھ دن کے لیے پاکستان آنے کی اجازت دے دی گئی۔ بدقسمتی سے کووڈ کی وجہ سے پروازیں منسوخ کردی گئیں اور مجھے چار ہفتوں کے بعد فلائٹ ملی۔ میں ای میل کے ذریعے اپنے شعبے سے رابطے میں رہا اور جونہی فلائٹ ملی بدترین وبا کے باوجود کام کرنے واپس لندن پہنچ گیا ۔شعبے کی سربراہ میری واپسی پر بہت حیران ہوئیں اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ ان کا خیال تھا کہ میں اب کبھی واپس نہیں آؤں گا۔ شاید انہوں نے ڈھکے چھپے الفاظ میں میرے عزم اور حوصلے کی تعریف کی۔۔
واپس جانے کے بعد مجھے امید ہونے لگی کہ اب مجھ سے میری صلاحیتوں کے مطابق کام لیا جائے گا اور مجھے کھلے دل سے قبول کر لیا جائے گا۔ لیکن یہ محض میری خام خیالی ہی رہی ۔
چار ہفتوں کے بعد مجھ سے آخری ملاقات کی گئی اور مجھے صاف بتا دیا گیا کہ انہیں میری صحت سے نہیں بلکہ میرے کام سے غرض ہے۔ مجھے ایک بار پھر گن گن کر میری غلطیاں بتائی گئیں۔ یاد رہے کہ میری ان غلطیوں میں سے کوئی ایک بھی ایسی نہیں تھی جس سے کسی مریض کو کوئی نقصان پہنچا ہو یا پہنچنے کا خطرہ ہوا ہو۔ وہ غلطیاں محض اس وجہ سے سرزد ہوئی ہوں گی کہ میں پاکستانی انداز سے اپنی تربیت کے مطابق کام کر رہا تھا ۔مجھے آخری ملاقات میں بتایا گیا کہ مجھے ایک اعلٰی تربیت یافتہ ڈاکٹر سمجھ کر ملازمت دی گئی تھی جب کہ ان کے مطابق میں تربیت یافتہ تھا ہی نہیں۔ یعنی میں نے پاکستان میں دوران ملازمت کبھی کسی مریض کو ہاتھ تک نہیں لگایا تھا۔ مجھے صاف اندازہ ہو گیا کہ ہندوستانی ڈاکٹر مجھ سے میرے پاکستانی ہونے کی وجہ سے تعصب برت رہا ہے۔ حقیقت یہ تھی کہ وہ لوگ مجھے ناپسند کرتے تھے۔ وہ کسی بھی شکل میں میری مدد نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ مدد کرنے کی صرف اداکاری کر رہے تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ مزید مجھے اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتے اور میرے بارے میں اپنی سفارشات ہسپتال کی بالائی انتظامیہ کو بھیجنا چاہتے ہیں۔ میں نے جواب میں انہیں کہا کہ میں مزید کسی کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہونا چاہتا کیونکہ میں اس کا فیصلہ جانتا ہوں اور فوری طور پر اپنا استعفیٰ پیش کرتا ہوں۔ یہ استعفیٰ مجھ سے میری ملازمت کے نو ماہ بعد وصول کیا گیا جب میرا کنٹریکٹ ختم ہونے میں صرف تین ماہ باقی تھے۔
استعفیٰ دینے سے پیشتر میں نے لاہور میں اپنے ہسپتال شوکت خانم اپنے شعبے کی سربراہ کو ای میل بھیجی کہ میں استعفیٰ دے رہا ہوں اور واپس شوکت خانم جوائن کرنا چاہتا ہوں۔انہوں مجھے جواب دیا کہ وہ میری ای میل ایم ڈی کو فارورڈ کر رہی ہیں۔ اس کے بعد مجھے شوکت خانم کے ایم ڈی کی ای میل موصول ہوئی ۔انہوں نے مجھے صاف بتایا کہ ایک سال کے بیرون ملک تجربے کے بغیر وہ مجھے واپس شوکت خانم ہسپتال میں قبول نہیں کر سکتے۔پھر مجھے ایم ڈی نے فون بھی کیا اور مجھے سمجھانے لگے کہ تین مہینے کی بات ہے، جیسے تیسے گزارا کر لو اور استعفیٰ نہ دو۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ ویلفیئر اسٹیٹ کے ہسپتال میں مجھے پہلے ہی استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا گیا ہے،میں نے ایم ڈی کو اس وقت تفصیلات بتانا مناسب نہیں سمجھا کیونکہ میں اپنی صحت کے مسائل خفیہ رکھنا چاہتا تھا۔ استعفیٰ لینے کے بعد ویلفیئر اسٹیٹ نے کسی نامعلوم قانون کے تحت اگلے تین ماہ کی تنخواہ دے کر مجھ پر احسان عظیم کر دیا حالانکہ میں وہاں تنخواہیں وصول کرنے نہیں بلکہ کچھ سیکھنے گیا تھا۔ لیکن انہیں خود کچھ آتا ہوتا تو وہ مجھے سکھاتے۔ میں شرطیہ کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان میں موجود میرے شعبے کے ماہر ڈاکٹر ویلفیئر اسٹیٹ کے ڈاکٹروں سے کئی گنا بہتر ہیں۔ نیز شوکت خانم ہسپتال کے شعبہ سرطان بچگان کا نظام اس ہسپتال سے بہت بہتر ہے۔آغا خان ہسپتال کے شعبہ سرطان بچگان کا تو رائل مارسڈن ہسپتال سرے سے مقابلہ ہی نہیں کر سکتا۔
میں ان دونوں بڑے ہسپتالوں میں کام کر چکا ہوں اور ان ہسپتالوں میں موجود میرے سینیئر ڈاکٹرز کو کبھی مجھ سے کوئی شکایت نہیں ہوئی۔ رائل مارسڈن ہسپتال کا ہندوستانی ڈاکٹر مجھ سے کہتا تھا کہ وہ حیران ہے کہ میری سی وی میں اتنا کچھ کیسے شامل ہے۔ رائل مارسڈن میں کام کرنے والی خاتون پاکستانی ڈاکٹر کسی کانفرنس میں شرکت کرنے پاکستان گئیں تو میرے کولیگز سے پوچھتی پھریں کہ کیا شاذف سے آپ کو بھی کوئی مسائل درپیش تھے۔ مجھے پتا چلا تو میں نے ان ڈاکٹر صاحبہ سے گلہ کیا کہ آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ میں اپنی صحت کے مسائل راز میں رکھنا چاہتا تھا جو کہ میرا ایک مریض کے طور پر حق تھا۔ ان کا جواب تھا کہ وہ لوگ آپ کی سی وی میں آپ کے ریفرینسز تھے اور اپنے ادارے کی “وفادار” کارکن ہونے کے ناتے میرے بارے میں ان کی رائے جاننا وہ اپنا فرض سمجھتی تھیں۔ انہیں کسی نے بتایا کہ شاذف زیادہ سوال نہیں کرتا اور اسے سوال پوچھنے چاہییں۔ میرے متعلق یہ رائے بالکل درست ہے اور میں ہمیشہ اپنی اس خامی کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
کووڈ کی وجہ سے مجھے پاکستان واپسی کی فلائٹ نہیں مل رہی تھی اور میرے پاس اس وقت پیسے بھی ختم ہو رہے تھے۔ بالآخر تین ہفتے بعد ویلفیئر اسٹیٹ سے مجھے ایک ائر لائن کی بہت مہنگی فلائٹ مل گئی۔ پاکستان پہنچ کر میری صحت کے مسائل مزید شدت اختیار کر گئے. اسی حالت میں میں نے شوکت خانم ہسپتال کے چیف میڈیکل آفیسر کو ای میل کی، انہیں کچھ تفصیلات بتائیں اور واپس شوکت خانم ہسپتال میں کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ یہ وہی صاحب ہیں جنہوں نے 2014 میں میری آغاخان میں فیلوشپ کے دوران خود مجھے فون کیے تھے اور مجھے شوکت خانم ہسپتال میں کام کرنے کی آفر کی تھی۔جی نہیں، اس کی وجہ میری اہلیت یا قابلیت ہرگز نہیں تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ 2014 میں اس ہسپتال کا بچوں کا شعبہ کئی ڈاکٹرز کے ایک ساتھ ہسپتال چھوڑنے کی وجہ سے شدید بحران کا شکار ہو گیا تھا۔ ورنہ حضرت تو اتنے مغرور ہیں کہ مجھ جیسے غریبوں کو منہ تک نہیں لگاتے۔ وہ میری ای میل پر شدید برہم ہوئے اور مجھے جواب دیا کہ میں نے ہسپتال کے قوانین توڑے ہیں، بروقت ہسپتال سے رابطہ نہیں کیا وغیرہ وغیرہ۔ یاد رہے کہ شوکت خانم ہسپتال بھی عمران خان کے خوابوں کی تعبیر ہے اور انتظامی لحاظ سے بالکل ویلفیئر اسٹیٹ کی طرز کا ہسپتال ہے اور اپنے ملازمین سے یوکے کے ہسپتالوں کی طرح ہمیشہ بےحد محبت اور شفقت سے پیش آتا ہے۔ اگلے دن مجھے شوکت خانم کی طرف سے ایک شوکاز نوٹس ملا کہ میں نے شوکت خانم کے ساتھ کنٹریکٹ کی خلاف ورزی کی ہے، میں فوری طور پر اس نوٹس کا جواب دوں، بصورت دیگر میرے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔میں غریب نوٹس پڑھ کر بےحد خوفزدہ ہو گیا۔ میرے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے کیونکہ معاہدے کی خلاف ورزی پر مجھے ایک بہت بڑی رقم بطور جرمانہ بھرنا پڑنی تھی۔ یہ رقم اتنی بڑی تھی کہ شاید میری نسلیں بھی یہ ادا نہ کر پاتیں۔ شوکاز نوٹس کے جواب میں سہمے ہوئے علی شاذف نے لکھا کہ وہ کووڈ کی وجہ سے کچھ دن پہلے ہی لاہور پہنچا ہے ورنہ فوراً حکام بالا سے رابطہ کر لیتا۔ می‍ں نے یہ بھی لکھا کہ استعفیٰ دینے سے پہلے میں شوکت خانم ہسپتال کو ایک ای میل کر چکا ہوں۔ اس کے علاوہ صحت کے جتنے مسائل مجھے یوکے میں درپیش آئے تھے اور جو کچھ رائل مارسڈن ہسپتال نے میرے ساتھ کیا تھا وہ سب میں نے من و عن بیان کر دیا اور ہسپتال سے درخواست کی کہ فدوی کے خلاف قانونی کارروائی نہ کی جائے۔اگلے دن مجھے خلاف توقع ای میل موصول ہوئی کہ ایچ آر نے بادشاہ سلامت سے میرے متعلق بات چیت کی ہے۔ ظل الہی نے میری دکھ بھری داستان سن کر شدید رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنے شاہی فرمان میں لکھا کہ سائل کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہ کی جائے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ معذرت خواہ بھی ہوئے کہ وہ قوانین کے مطابق مجھے درباری کی ملازمت پر مزید نہیں رکھ سکتے نیز ویلفیئر اسٹیٹ کے شاہی ہسپتال کی طرح یہاں بھی میں ایک استعفیٰ فوری طور پر جمع کرواؤں۔ میں فوراً حکم کی تعمیل بجا لایا۔ یہاں بھی مجھ پر ایک احسان کیا گیا اور کچھ رقم دے کر مجھے عزت کے ساتھ رخصت کر دیا گیا۔
کہانی کچھ زیادہ ہی لمبی ہو گئی۔ باقی ایک سال اور ایک ماہ کی بےروزگاری کی زندگی میں نے کیسے گزاری اور کن کن لوگوں نے مجھے مایوس کیا یہ پھر کسی دن لکھوں گا۔ خود کو عقل کل سمجھنے والے فیشنی سرخے اور موقع پرست مڈل کلاسیے کی یہ لمبی چوڑی “میں میں” پڑھنے کا شکریہ۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker