ملتان: ایم این ایس زرعی یونیورسٹی میں ڈائریکٹوریٹ آف پبلک ریلیشنز اور سینئر ٹیوٹر آفس کے زیر اہتمام تعلیم کے عالمی دن کے موقعے کی مناسبت سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔جس کی صدارت رئیس جامعہ پروفیسر ڈاکٹر آصف علی (تمغہ امتیاز)نے کی۔جبکہ مہمان مقرر رضی الدین رضی تھے۔اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے کہا کہ آج کے دور میں تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کو بھی اہمیت دینے کی اشد ضرورت ہے۔تعلیم کا اصل مقصد معاشرے اور انسانیت کی فلاح اور خدمت کے اسباب پیدا کرنا ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم قوم کی بنیاد ہوتی ہے جو لوگوں کو ملازمت کے ساتھ ساتھ اچھا انسان بننے میں بھی مددگار ہوتی ہے۔لیکن المیہ یہ ہے کہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود پاکستان میں شرح خواندگی بہت کم ہے۔اگر ابتدائی تعلیم کے دوران ماحول اور اساتذہ کی حکمت عملی بہتر ہو تو یہ دونوں عوامل بچوں کو ترقی کی جانب گامزن کر سکتے ہیں۔
سینیئر صحافی مہمان مقرر رضی الدین رضی نے کہا کہ پہلے استاد ریسرچ اور تعلیمی نصاب سازی میں آزاد تھے اور حکومت اداروں میں مداخلت کرنے کی بجائے آسانیاں فراہم کرنے میں کوشاں تھی۔لیکن اب موازنہ کیا جائے تو تعلیمی ادارے حکومتی نصاب پر عمل پیرا ہونے کے لئے مجبور ہیں ۔موجودہ نظام تعلیم میں ریسرچ کی بجائے طلباء کو رٹا رٹایا سبق دیا جاتا ہے۔ہم آج تک یہ طے نہیں کر پائے کہ ہمارے نصاب کس زبان میں ہونا چاہیے انگریزی یا اردو ۔
قومی زبان اردو ہونے کے باوجود ہمارے ہاں انگریزی ہی پسند کی جاتی ہے۔مزید کہا کہ اگر ہم چین کی ترقی کی بات کریں تو انہوں نے پہلے علوم کو ترقی دی پھر اپنی قومی زبان سے مدد لی اور ہم نے نہ اپنی قومی زبان کو اور نہ ہی صحیح ڈھب ڈال سکے۔قوم اس وقت تک ترقی نہیں حاصل کرسکتی جب تک اپنے تعلیمی نظام کو ترقی کی راہ پر گامزن نہ کر سکے۔اس موقع پر ڈاکٹر سلمان قادری،ڈاکٹر عبدالقیوم،ڈاکٹر محمد شہباز،ڈاکٹر نگہت رضا،ڈاکٹر عثمان جمشید،ڈاکٹر پلوشہ خانم سمیت دیگر فیکلٹی اور طلباء و طالبات کی کثیر تعداد موجود تھی۔
فیس بک کمینٹ

