ملتان اگر شہر طلسمات ہے تو ڈاکٹراسلم انصاری بھی میرے لیے ایک طلسماتی شخصیت کا ہی نام ہے۔ میں جب انہیں دیکھتا ہوں یا ان سے بات کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ جیسے خود ملتان میرے ساتھ ہم کلام ہے۔ ایسی کیفیت اس سے پہلے ڈاکٹر حنیف چوہدری،فاروق انصاری،پروفیسرحسین سحراوراقبال ارشد کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران بھی پیدا ہوئی۔ان کے ساتھ بات کرتے ہوئے بھی ملتان کے ماضی کی متحرک تصویریں میری نظروں میں روشن رہتی تھیں۔ڈاکٹراسلم انصاری کے فن کی کئی جہتیں ہیں۔وہ صاحب طرز شاعر،نقاد،ماہر اقبالیات اور ملتان میں فارسی کے واحد صاحب دیوان شاعر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ ان کی نئی کتاب ”ملتان شہر طلسمات“ مجھے کئی روز قبل موصول ہوئی تھی لیکن میں نے فوری طورپر اس پر تبصرے سے گریز کیا۔ میں چاہتا تو اسی روز ان کی کتاب پر مضمون لکھ سکتاتھا کہ ملتان اور ڈاکٹر اسلم انصاری پر مضمون لکھنے کے لیے مجھے کبھی کسی تیاری کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی۔ میں ملتان اور ڈاکٹر اسلم انصاری دونوں کو اس انداز سے جانتا ہوں کہ دونوں کے بارے میں پہروں گفتگو بھی کرسکتاہوں اور ان کے بارے میں تفصیلی مضامین بھی تحریر کرسکتا ہوں لیکن اس کے باوجود میں نے ان کی کتاب ”ملتان شہر طلسمات“ پر مضمون لکھنے میں اتنی تاخیر اس لیے کردی کہ میں اس کتاب کو پڑھنے کے بعد ہی اس پرکچھ لکھنا چاہتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کی اس کتاب میں پڑھنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ میں ملتان کے بارے میں جتنا جانتاہوں اس کتاب کے مطالعے کے بعد محسوس ہوا کہ میں کچھ بھی نہیں جانتا۔ بہت سے نام، بہت سے محلے،بہت سے علاقے اس کتاب کے ذریعے پہلی بار میرے سامنے آئے۔ قیام پاکستان کے بعد کاملتان اس سے پہلے مجھے فاروق انصاری صاحب کی کتاب”میرے زمانے کاملتان“ میں متحرک دکھائی دیاتھا اوراب یہی مناظر ڈاکٹر اسلم انصاری کی کتاب میں موجودہیں۔ کپ بازارکوکپ بازار کیوں کہتے ہیں؟،چہلیک کی وجہ تسمیہ کیا ہے؟، باولیاں کیا ہوتی تھیں؟،ایمرسن کالج کے پروفیسر تاج محمد خان کون تھے؟، پاک گیٹ میں کپتان کاہوٹل کس جگہ تھا؟ ملتان کی تصویری تاریخ کیسے مرتب ہوئی؟ اورخطوط غالب میں ملتان کاذکر کس طرح ہے؟ اس کے علاوہ ملتان کے فن تعمیر، ملتان میں حسن نگارش کی روایت اور علامہ عتیق فکری سمیت اس کتاب میں ملتان کے بہت سے محسنوں کا تذکرہ موجودہے۔ کتاب کا سب سے اہم باب میرے نزدیک سقوط ملتان والا ہے جس میں ڈاکٹر صاحب نے بہت تفصیل کے ساتھ ملتان پر انگریزوں کے حملے اورمولراج کی شکست کااحوال بیان کیا ہے۔ اس کے علاوہ امیرخسرو کامرثیہ اور علی منزل،انسانی رشتوں کی زندہ دستاویز بھی اس کتاب کے اہم مضامین میں شامل ہیں۔ یہ اور ایسی بہت سی باتیں اس کتاب میں موجودہیں۔
اسلم انصاری ایک وسیع المطالعہ ہستی کا نام ہے۔ ان کا فارسی کابھی بھرپور مطالعہ ہے اور ا ردو، سرائیکی،انگریزی زبانوں پربھی وہ مکمل عبور رکھتے ہیں۔ اور یہ تمام علوم اورمہارتیں ان کی تحریر کوخوبصورت بنادیتی ہیں۔چہلیک کے بارے میں ہمیں یہ تو معلوم تھا کہ چہلیک فارسی میں 41کو کہتے ہیں لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ تھانہ چہلیک سے ملحقہ علاقے کو چہلیک کیوں کہاجاتا ہے۔ اسلم انصاری نے بتایا کہ کسی زمانے میں ملتان دہلی سے اونٹوں کا 39واں پڑاؤ تھااور یہ پڑاؤ شاید آج کے ملتان کے مضافات میں کہیں ہوگا۔اور اس سے دوپڑاؤ آگے چہلیک کا علاقہ تھا۔اسی طرح انہوں نے کپ بازار کے بارے میں کبیر کے دوہے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کپ کے معنی گڑھے کے ہیں جس میں بارش کاپانی جمع ہوگیا ہو۔ ڈاکٹر صاحب کے خیال میں شاید اس علاقے میں پانی کا ایک ایسا گڑھا کبیر کے زمانے میں موجودتھا جس کی وجہ سے اس کانام کپ بازار ہوگیا۔
اورباولیاں کیا تھیں یہ بھی بہت حیران کن بات ہے۔ اسلم انصاری کے مطابق باولی کے لفظی معنی ایسی چیز کے ہیں جو پھری ہوئی ہو۔اسی لیے باولی اس عورت کوکہتے ہیں جس کاسر پھرگیاہو۔باولی ملتان میں اس کنویں کوکہتے تھے جس کے اندر سیڑھیاں گھومتی ہوئی اترتی تھیں۔اسلم انصاری کے مطابق ان میں سے ایک باولی ریلوے روڈ پر واقع تھی جس کے صدر دروازے کی برجیوں پر مٹی کے پتھر کے بنے ہوئے دو اونٹ ہوتے تھے۔ دوسری باولی گھنٹہ گھر کے شمال میں واقع تھی۔
128صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت 600روپے ہے اوراسے کتاب نگر نے شائع کیا ہے۔
فیس بک کمینٹ

