گزشتہ سے پیوستہ
۔۔۔۔
یاسمین کو اپنوں کی بے گانگی، عدم توجہی اور بے رُخی کا بہت قلق اور شکوہ رہتا تھا۔ وہ میرے ساتھ تمام دِل کی باتیں کر لیتی تھی کئی بار وہ اکیلے میں میرے کاندھے پر سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیتی تھی۔ اہل خانہ کی تمام تر مالی معاونت کے باوجود بھی اُسے جلی کٹی سُننے کو ملتی تھیں۔ بہن بھائیوں اور اُن کے بچوں کی طرف سے اُس کے ساتھ جو بے اعتنائی برتی جاتی تھی وہ اس کے لیے نا قابل برداشت تھی۔ کئی بار اتنی دل برداشتہ ہو جاتی کہ اُسنے فیصلہ کر لیا کہ وہ ورکنگ ویمن ہاسٹل چلی جائے گی۔ اُسے ہر بار سمجھایا کہ اپنا گھر اپنا ہی ہوتا ہے تم گھر والوں سے تعلق نہ تورو ادھر ہی گزارہ کرو ہمارے معاشرے میں اکیلا رہنا بہت مشکل ہے اور پھر تم بیمار بھی ہو۔ دوست یہ بھی سمجھاتے کہ اللہ کا حکم ہے کہ والدین کو اُف تک نہ کہو اور اب جب کہ تم خود ریٹائر ہونے والی ہو تو والدین کا دیکھو کہ انہیں تو اس عمر میں خود دیکھ بھال کی ضرورت ہے وہ تمہاری صحت وغیرہ دیکھ کر کڑھتے رہتے ہیں مگر دُعا تو کرتے ہیں ناں، اگر کوئی سخت بات کہہ بھی دیتے ہیں تو بس درگزر سے کام لینا چاہیے تو وہ فوراً سنبھل جاتی اور تو بہ استغفار کرتی۔ واپسی پر اُن کے لیے کوئی اچھا سا گفٹ لیکر جاتی اور معافی کی طلبگار ہوتی۔
یاسمین کے قریب رہنے والے سب جانتے ہیں کہ وہ ہاتھ کی بھی بہت سخی تھی اور دل کی بھی بہت اچھی تھی مگر حالات کی سِتم گری سہتے سہتے اور طویل اور شِدت کی بیماری نے اُس کے لہجے کو بھی کچھ تلخ بنا دیا تھا۔ عام طور پر تو نہیں لیکن کبھی کبھار وہ اتنی خطر ناک اور تلخ ہو جاتی تھی کہ سامنے والا یہ سوچنے اور کہنے پر مجبور ہو جاتا تھا کہ آج کے بعد اس سے بالکل کلام نہیں کرنا۔ وہ پل بھر میں دوستوں کی بھی لاپاکے رکھ دیتی تھی۔ اصل زَد میں مسز زبیدہ جاوید اور مسزِ خالدہ امتیاز زیادہ آتی تھیں۔ میری یہ خوش قسمتی ہی رہی کہ میرے ساتھ اُس کا رویہ ہمیشہ دوستانہ ہی رہا لیکن بہت سے معرکے میری موجودگی میں ہی ہوئے۔ مگر آفرین صد آفرین ہے ان دونوں پر کہ اتنا کچھ سننے اور سہنے کے باوجود بھی بُرا نہ مناتیں بلکہ شام تک جب توپوں کے دھانے ٹھنڈے پڑ جاتے تو گھر پہنچ جاتیں اور بس پھر جنگ بندی ہو جاتی۔
ایک بار میں ان کے ہاں گئی کہ اُس دِن بھی کچھ جھڑپیں ہوئی تھیں تو کیا منظر دیکھا کہ مسزِ زبیدہ نے یاسمین کے پاؤں گود میں رکھے ہوئے ہیں اور کٹوری میں تیل لیے ان کے پاؤں کی مالش کر رہی تھیں اور مسز خالدہ امتیاز اُسے لپٹے ہوئے ہی کچھ نہ کچھ کِھلانے کی کوشش کر رہی تھیں اور یاسمین تھی کہ راضی ہو کے نہ دے رہی تھی۔
مسزِ خالدہ نے تو مستقبل وزیر خوراک اور وزیر صحت کی ذمہ داری اٹھائی ہوئی تھی۔ کچھ نہ کچھ بنا کر اُس کے پاس چلی جاتیں اور نوزائدہ بچے کی طرح اُس کی دیکھ بھال کرتی اور چوگا منہ میں ڈال دیتی تھیں کہ توانائی بحال رہے۔ میڈم زبیدہ اکثر اُسے گھر لے آتی تھیں کھانا بھی بجھواتی تھیں کیونکہ نہ صرف وہ بلکہ اُن کے شوہر جاوید صاحب بھی یاسمین کے کلاس فیلو تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد یاسمین زیادہ تنہائی کا شکار ہونے لگ گئی تھی اور بیماری کی شدت میں بھی اضافہ ہونے لگا تھا۔
اُن کی بہاولنگر کی دوستوں کا تذکرہ نہ کرنا زیادتی ہو گی وہ فون پر اکثر بات کرتی تھیں اور کبھی کبھار اپنے ہاں لاہور بھی بلوا لیتی تھیں۔ خاص طور پر مسز آسیہ کا تو یہ کمال تھا کہ انہوں نے یاسمین کو وہیل چیئر پر بٹھا کر حج کروایا اور تمام زیارات وغیرہ بھی کروائیں۔ واقعی یہ بہت حوصلے اور ہمت کی بات تھی۔ جس پر اُن کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے اور اس کا اجر انہیں اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی نہیں دے سکتا ہے۔ کیونکہ تمام ترحج کے مراحل و فرائض ایک عام انسان کو کروانا یا کرنا مشقت طلب ہے چہ جب کہ ایک مریضہ کو کروانا۔ مسز جعفری اور ان کے اہل خانہ اور مسز نسرین جعفری صاحبہ نے یاسمین کا ہمیشہ ساتھ دیا اور ان کی طرف سے ہمیشہ تعاون کی فضا ہی ہموار رہی۔ یاسمین ان سب کا ذکر بہت اچھے الفاظ میں کرتی تھی اور اسی کے توسط سے یہ سب بھی ہمارے حلقہ احباب میں آتی گئیں۔ میں تقریباً چھے سال بعد چین سے مستقل طور پر واپس آئی تو سب کی خوش دیدنی تھی میرے شعبے اور آفس کی رونقیں پھر سے بحال ہو گئیں۔ اب یاسمین کا پھر سے مستقل پڑاؤ ادھر ہی ہوتا تھا۔
2013ءمیں جب گورنمنٹ کالج برائے خواتین کچہری رود ملتان کو ویمن یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا تو یاسمین سمیت سب دوست بہت نالاں تھے۔ سوائے میرے کوئی اس کی حمایت میں نہیں تھا۔ مگر اس میں دوستوں کے کچھ تحفظات تھے اور کچھ یہ بھی تھا کہ کالج کے پُر تعیش دور کو بُھلانا مشکل تھا۔ یونیورسٹی تو اس بات کی متقاضی ہوتی ہے کہ مسلسل کام، تحقیق، محنت اور مزید سے مزید اعلیٰ تعلیم کا حصول ہو۔ میں کہتی دیکھو یار بیٹھے بٹھائے بغیر کسی اور ڈگری کے تم لوگوں پر یونیورسٹی ٹیچر کا ٹھپہ لگ گیا ہے تو خوش ہوا کرو۔ رفتہ رفتہ پھر سب نئے ماحول میں ڈھل گئے اور انہیں احساس ہونے لگا کہ واقعی یہ تبدیلی اچھی ہے ہر شعبہ خودمختار ہے بے شمار فنڈز ہیں اور آگے پڑھنے کے مواقع بھی اور ایسے میں بے شمار دوستوں نے ایم فل اور ڈاکٹریٹ میں ایڈمشن لے لیا تھا۔ یاسمین بھی کچھ کرنا چاہتی تھی مگر اُس کی صحت کے حالات دن بدن دگرگوں ہونے لگی تھی ۔ صبح صبح اور سارا دِن مختلف اوقات میں بے شمار دوائیاں اسے لینا پڑتیں اور رمضان آیا تو تمام تر نصیحتیں بے کار ثابت ہوئیں اور آپ جناب نے دو کھجوروں اور ایک کیلے کے مِلک شیک پر اکتفا کرتے ہوئے روزے رکھنا شروع کر دیئے۔ شام تک افطاری سے قبل ہی حالت غیر ہونے لگی تھی بالآخر سب کے سمجھانے بجھانے پر رضا مند ہو گئیں کہ کسی کو فدیہ دے دو تو وہ روزے رکھ دے گا یا دے گی تمہارے لیے اس میں دلچسپ بات یہ ہوئی کہ کہنے لگی میرا روزہ بدل خاتون ہی ہو گی اور ڈاکٹر تمہیں اس بات کی گارنٹی دینی ہو گی کہ وہ واقعی رکھ بھی رہی ہے کہ نہیں اور یہ بھی کہ کتنے پیسے مناسب ہوں گے اُسے دینے کے لیے۔
اب کسی خاتون کو تلاش کرنا، اس کے متعلق تحقیق کرنا اور پھر کیریکٹر سرٹیفکیٹ فراہم کرنا میری ذمہ داری ٹھہری۔ میں نے کہا یاسمین جتنا تم کھاتی ہو چڑیا جتنا۔۔۔ اتنے میں تو کوئی روزہ نہیں رکھ سکتا تو بہتر ہے کہ علماء کے کہنے کے مطابق فدیہ ادا کرو تو فرمانے لگی مجھے تو بس تمہارے فتوے پر یقین ہے۔ مگر انہوں نے ہمیشہ میرے کہنے پر پھر دِل کھول کر فدیہ صوم دیا۔
یاسمین کے اندر پتا نہیں کہاں سے یکدم اتنی طاقت اور قوت عود کر آئی جب وہ شدید غصے میں آتی۔ ایسی توانائی کہ تیر کی طرح کمرے سے نکلتی نہ گرنے کا خوف نہ چوٹ کا اندیشہ اور ادھر اُدھر پھر پھرا کر ہنستی ہوئی واپس آ جاتی۔ میں کہتی کوئی جِن آ گیا تھا تم پر کیا۔
کینٹ بازار کے مہنگے ترین فروٹ کارنر اور سبزی فروش سے خریداری کا شغف تھا جو بجائے خود ایک الگ داستان ہے۔ شاپنگ مالز پا جانا، دوپٹے پیکو کروانا اور رنگوانا بھی شغل کا درجہ رکھتا تھا۔ مگر ایک دوبار جب بازار میں گِر پڑیں اور کافی دن تکلیف میں مبتلا رہیں تو پھر تائب ہو گئیں۔ مگر ہمیں ڈرائیور کی زبانی معلوم ہو جاتا تھا کہ کبھی کھاار ڈنڈی مار جاتی ہیں لیکن آخر میں بھی بہت ہی محتاط ہو گئی تھیں۔
شادی بیاہ پر پارٹیوں میں کھٹی میٹھی چٹخارے دار ڈشز اور چٹنیوں کی سپلائی کے علاوہ انہیں گردن کی بوٹی کی فراہمی سب دوست بڑھ چڑھ کر کرتے تھے اور وہ بڑی رغبت کیساتھ ان ہی چیزوں پر زیادہ انحصار کرتی تھیں۔ مگر وفات سے چند ہفتے قبل تو یہ شوق بھی ختم ہو گیا تھا تو اب میں سوچتی ہوں کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ دانہ پانی ختم ہو گیا ہے تو یاسمین ہم سمجھ ہی نہ پائے کہ تمہارا بھی دانہ پانی ختم ہوتا جا رہا ہے جو تمہارے منہ میں کھیل تک نہ جاتی تھی بس سانسوں کی مدھم مدھم سی ڈور اٹکی ہوئی تھی۔
یاسمین اکثر مجھے اور طیبہ کو رات گئے فون کر لیتی تھی اُسے معلوم تھا کہ ہم جاگ رہے ہوں گے وہ اپنی حالت، گھریلو مسائل وغیرہ پر دِل کھول کر باتیں کرتی جاتی تھی کہ اس طرح اُس کے دِل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا تھا۔
تقریباً سال بھر پہلے صبح کے وقت وہ کچن میں گئیں جو کہ بالکل خلاف معمول بات تھی۔ نہ جانے کیسے چولہا آن کیا تو انہیں خبر ہی نہ ہوئی کہ اُن کے کپڑوں میں آگ لگ گئی ہے ۔ چادر کے پلو سے ہوتی ہوئی آگ جب بالوں تک پہنچی تو انہیں احساس ہوا تو چیخ ماری مگر اُس وقت تک ان کی ٹانگ کا کچھ حصہ، بازو ، بغل کے پاس کا حصہ اور بائیں طرف سے سینے کا حصہ بُری طرح سے جُھلس چکا تھا کہ جسم کے جلنے کی بُو آنے لگی تھی۔ انہیں اس کا احساس نہ ہونے کی وجہ شاید یہ ہی ہو گی کہ اُن کا بدن بیماری کے باعث اکثر سُن اور شل سا بھی رہنے لگا تھا۔ ان کا بھائی اتفاق سے اُدھر سے گزرا تو اُس نے ہاتھ مار مار کر آگ بجھائی اور انہیں بستر تک پہنچایا۔
یہ اس قدر کربناک اور المناک حادثہ تھا کہ ان کی حالت دیکھی نہیں جاتی تھی۔ پہلے ہی صحت کے مسائل کیا کم تھے کہ مزید یہ کچھ سہنا پڑا۔ کافی علاج معالجے کے بعد بھی جب افاقہ نہ ہوا تو پھر نشتر ہاسپیٹل میں برن یونٹ میں ڈاکٹر سرجن ناہید صاحبہ نے سرجری کا فیصلہ کیا۔ ٹانگ سے کچھ گوشت نکال نکال پر متاثر حصوں پر لگایا گیا اور بہت تگ و دو کے بعد وہ اس قابل ہوئیں کہ باقاعدہ لباس پہن سکیں ورنہ اتنے ماہ بس ایک جبہ سا بغیر آستینوں کے حتی کہ وہ بھی تکلیف دیتا تھا۔
اس عالم میں بھی دوستوں نے گزشتہ برس اُن کی سالگرہ منائی تو انہوں نے ایسا ہی لباس پہنا ہوا تھا اور باریک شال سی اوڑھ رکھی تھی ہم انہیں پیار سے انجلینا جولی بھی کہتے تھے اور سب نے کہا کہ آج تو بالکل لگ رہی ہو۔ مگر اُن کے ہنسی میں بھی کربناک کیفیت محسوس کی جا سکتی تھی۔ میں نے انہیں چھیڑنے کی خاطر کہتی کہ یاسمین تم ہمارا دِل دھلائے رکھتی ہو دیکھو تم بالکل ٹھیک ہو۔ آج تک ہم نے تمہارا ایک بال بھی کبھی سفید نہیں دیکھا۔ ہر طرح سے نِک سِک فٹ ہوتی ہو تو وہ دُکھی سی ہنسی ہنس کر کہتی کہ جب تم دوستوں سے ملنا ہوتا ہے تو منہ پر رونق آ جاتی ہے اور پھر کالونی کی ایک بچی ہے ناں وہ آ کر کچھ سنوار جاتی ہے ورنہ تو تم لوگ ڈر ہی جاؤ۔ اور واقعی اُس کے استخوانی ہاتھ پاؤں ٹیڑھی میڑھی سے انگلیاں دیکھ کر دِل ڈوب ڈوب جاتا تھا۔ بمشکل سوپ کے ایک دو چمچ اُس کے منہ میں ڈالتے یا ایک آدھ نوالہ تو ا س پر بھی وہ انکار کر دیتی کہ الٹی آ جاتی ہے کھایا ہی نہیں جاتا ہے۔ کرونا کی وبا کے دنوں میں ہی اُس کی والدہ بھی اس کا شکار ہو گئیں اور چند دن کی علالت کے بعد ان کا انتقال ہو گیا تھا۔ یہ جدائی بھی یاسمین کے لئے عذاب سے کم نہ تھی۔ ان کا اسےبہت سہارا تھا اور بہت قیمتی ساتھ تھا۔ اُن کی وجہ سے گھر میں جو کچھ نہ کچھ سہولت موجود تھی اب وہ بھی ختم ہونے لگی تھی۔ بہنیں اور بھابھیاں اپنے گھروں میں بچوں میں مصروف رہتی تھیں اور آج کے پُر آشوب دور میں کسے اور خاص طور پر قریبی رشتوں میں تو شاز و نادر ہی بھرپور خلوص اور تعاون نظر آتا ہے۔ یاسمین کو والدہ کی وفات سے پہلے اپنی بہن کی کینسر سے وفات کا بھی رنج برداشت کرنا پڑا تھا۔ مگر اُس نے بہن کی شدید بیماری کے دِنوں میں ہی بھانجے کا رشتہ ایک دوست کی بیٹی سے طے کروا دیا اور یوں بہن نے دُنیا میں جانے سے پہلے خوشیاں دیکھ لیں اور بہو گھر میں آ گئی۔ یہ الگ بات ہے کہ شادی ہو جانے کے بعد بھانجا اور سارا ٹبر بہو کے علاوہ یاسمین سے بات کرنا بھی گوارا نہیں کرتا تھا وہ بیچاری حیران ہو کر کہتی تھی کہ آخر میں نے ایسا کیا غلط کیا ہے کہ بہن کے جاتے ہی سب نے آنکھیں پھیر لی ہیں۔
میں اُسے کہتی کہ چھوڑو یاسمین بس کسی سے بھی اچھی توقع نہ رکھنی ہی بہتر ہے مگر وہ تو سارے بچوں کو اپنا بچہ سمجھتی تھی اور اُن کے پاس ہونے پر ڈاکٹر بننے پر، سالگر ہ کے مواقع پر منگنی و شادی کی تقریبات میں اتنی خوش اور سرشار ہوئی تھی کہ اُس سے لگتا تھا کہ بس یہ ہی اس کی دُنیا ہیں۔
یاسمین کو بہت ارمان اور حسرت کیساتھ بہت فکر رہتی تھی کہ چھوٹے بھائی نعمان کا کچھ بن جائے ۔ اس کا C-A مکمل ہو جائے اس کا گھر بس جائے اور اکثر ایسا کہتے ہوئے وہ بہت اُداس اور رنجیدہ ہو جاتی تھی۔ اسے دوسرے بھائی کے بچوں کی پڑھائی کی بھی فکر بھی لاحق رہتی تھی بھتیجے حسن کو لیپ ٹاپ لیکر دینا یا کوئی بھی خواہش ان کی ہوتی تو وہ پوری کر کے سرشار ہو جاتی تھی۔ ایک بار زیورات پر زکواۃ کی بات ہوئی تو کہنے لگی کہ میں نے تو سب کچھ بھابھی کو سونپ دیا ہے اب میرا اس سے کوئی زکواۃ وغیرہ کا واسطہ نہیں جو مالک ہیں وہ جانیں۔
وہ اپنے اثاثہ جات اور بنک اکاؤنٹس کے بارے میں مجھ پر بہت اعتماد کرتی تھی ہمیشہ میرے ساتھ ہی جاتی تھی جب ضرورت پڑتی یا پھر میں نے موجود ہوتی تو خالدہ کو لے لیتی تھی۔ مگر میں کوشش کرتی تھی کہ میرے ساتھ کوئی اور دوست بھی ہو ایک تو اُس کی صحت کے پیش نظر اور دوسرے گواہ کے طور پر کئی بار جب اُس کی طبعیت اچھی ہوئی تو جانے کیا سوچ کر کئی کئی چیک سائن کر کے رکھتی جاتی تھی۔ میں نے پوچھا کہ ایسا کیوں کرتی ہو تو کہتی کہ کئی بار دستخط صحیح نہیں ہو پائے رعشہ کی وجہ سے اور پھر یہ بھی کہ اگر میں ایسے اچانک گزر گئی تو پیچھے گھر والوں کو مشکل تو نہ ہو گی۔ آخری دِنوں میں ایک بار بہت لجاجت اور منت سماجت سے مجھے ساری دستخط شدہ چیک بک دینے کی کوشش کرتی رہی میں نے صریحا انکار کر دیا کہ مہربانی سے تم خود رکھو یا گھر والوں کو دے دو ایسے میری نیت خراب ہو گئی تو کہنے لگی کہ بھلے ہو جاؤ فرار پیسے تم سے زیادہ پیارے تو نہیں ہیں ناں۔ پھر اُس نے سب کچھ بھابھی اور بھائی کے حوالے کر دیا کہ آج بھی ان کا ہے اور کل بھی۔ میں نے کہا کہ ہاں سب چیزوں میں تمہارے نامزدگان بھی تو وہی ہیں تو پھر فکر کاہے کی۔
( جاری)
فیس بک کمینٹ

