جہالت کا منظر جو راہوں میں تھا
وہی بیش و کم درس گاہوں میں تھا
ایک ایسا ملک جہاں نفسیاتی امراض کے بارے میں آگاہی کا یہ عالم ہے کہ نفسیاتی بیماریوں کو خدا سے دوری اور نفسیاتی مریضوں کو دین سے رنجوری کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہو اور جہاں ذاتی مقاصد واسطے دین و مذہب کو بہ بانگ دہل استعمال کیا جاتا ہو اور جس کی متعدد مثالیں ملک کے طول و عرض میں سال بھر کے ہر مہینے قائم ہوتی رہتی ہوں اور عاشقان حرمت دین ذہن کو استعمال کرنے کی جگہ دین کو تلپٹ کرنے پر مرکوز رہتے ہوں وہاں اس خبر کا بن رہنا کسی طور بھی میرے واسطے حیران کن نا رہا کہ فیصل آباد میں ایک مشتعل ہجوم نے ایک ایسی خاتون کے گھر پر دھاوا بول چھوڑا جس نے اپنے تئیں نبوت کا دعوی کیا ہوا تھا اور جس کے اس دعوے کی حمائت میں اُس کے اہل خانہ بھی شامل تھے۔
کسی بھی ذی شعور قوم میں ایسے کسی دعوے کے بعد یہ خیال ضرور پیدا ہوتا کہ خاتون کا ذہن بہک گیا ہے اور بہتر ہے کہ اس کا معائینہ ہی کروا لیا جاۓ خصوصا جب حال ہی میں ہم تلمبے میں ایک نفسیاتی بیماری شیزوفرینیا میں مبتلاایک فرد کا مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل ، سیالکوٹ میں سری لنکن شہری کا توہین مذہب کے الزام میں قتل دیکھ چکے ہیں۔ ماضی بعید1983 میں چکوال کی ایک 18 سالی بچی نسرین فاطمہ جس کا یہ دعوی تھا کہ وہ اپنے امام سے رابطے میں ہے۔ اس سے رابطے میں رہنے والے اس کے خاندان کے 38 افراد نے اس کے اس دعوے پر یقین کر کے اپنے آپ کو لکڑی کے بکسوں میں بند کر کے کراچی میں ہاکس بے پر اپنے آپ کو عراق جانے کی لئے سمندر کے حوالے کر دیا۔ عورتوں اور بچوں سمیت کئی افراد افراد ڈوب گئے باقی افراد کو ایدھی کے رضاکاروں نے بچا لیا۔ بعد کے نفسیاتی تجزیے نے ثابت کیا کہ وہ بچی شیزوفرینیا کا شکار تھی
Folie a Deux (مشترکہ جھوٹے، غیر متزلزل یقین جو افراد کے معاشرتی اور سماجی حیثیت سے مطابقت نہ رکھتے ہوں ) ایک ایسی نفسیاتی بیماری ہے جس میں دو یا دو
سے زائد افراد ایک جھوٹے نا قابل یقین ،غیر متزلزل خیال پر یقین لے آتے ہیں۔ ایسے افراد مناسب ، بر وقت علاج سے صحت یاب ہو سکتے ہیں اور یہ افراد اور معاشرہ نا خوشگوار نتائج سے اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں ۔
وقت نے اک بار پھر دیکھا کہ ناموس دین کی حفاظت کے لئیے پاکستان کی سڑکوں پر ببانگ نعرے لگاتے،رسول کی حرمت کی خاطر جانوں کی بازی لگانے کا دعوئ کرتے،منہ سے کف نکلتا ہوا،بات بات میں مکے لہرانے اور آنکھوں سے غیظ چھلکاتے جلوس کی صورت اس خاتون کے گھر کی طرف رواں دواں تھے۔معلوم پڑتا تھا کہ یہ لوگ جہاد کے لئیے کسی ایسی بکتر بند بستی کی طرف جا رہے ہیں جہاں کا ہر مکین خود کش جیکٹ پہنے ان کے خلاف بستی کے باہر موجود ہے۔دیکھنے والے سبحان اللہ کا ورد کرتے نم آنکھوں کے ساتھ ان کے جذبہء ایمانی کو سراہتے گزر رہے تھے۔حیرت انگیز طور پر اس جذبہء ایمانی سے سرشار جلوس کے شرکاء میں وہ لوگ شامل تھے جن میں سے کوئی ایک بھی قرآنی زبان سے واقف نہیں تھا۔کسی کو یہ معلوم نہ تھا کہ حدیث کی کتنی کتابیں موجود ہیں۔کسی ایک کی نگاہ سے بھی فقہ کی کوئی کتاب نہ گزری تھی۔کوئی ایک بھی رومی و خسرو کے صوفی فلسفے،غالب اور سر سید کے خیالات یا فیض اور منٹو کی باغی تحریروں کے نام تک سے واقف نہیں تھا۔
اس جلوس کے اکثر شرکاء اس بات سے بھی نا واقف تھے کہ جس نبی کی حرمت کے دعوے کرتے وہ نکلے ہیں ان کی آل میں کون کون لوگ شامل ہین اور انہوں نے کیا کیا کارنامے سر انجام دئے ہیں۔کوئی ایک بھی اس بات سے واقف نہ تھا کہ اسلام میں آئمہ کی تعداد کیا ہےاور انہوں نے اسلام کی موجودہ شکل کے لئیے کیا تحریر کیا ہے۔ان میں سے ہر ایک کے لئیے اسلام وہ تھا جس پر وہ عمل پیرا ہے اور ان کے طریقے سے مختلف پیروکار ان کے لئیے مسلم نہیں کافر تھے۔
البتہ سبھی اس بات پر اکٹھ کیے ہوۓ تھے کہ خاتون نے ان کے دین کی حرمت پامال کی ہے اور واجب القتل ہے۔ عجب سانحہ درپیش ہے کہ ہم اک ایسے معاشرے اور عہد میں جیتے ہیں جہاں نفسیاتی عارضوں سے متعلق شعور و آگاہی کا فقدان اس قدر شدید ہے کہ نفسیاتی عارضے میں مبتلا کوئی شخص یا اس سے منسلک اس کے چاہنے والوں میں سے کوئی ایک یہ تسلیم کرنے پر بھی راضی نہیں ہو رہتا کہ وہ خود یا اس کے آس پاس بسنے والے ان کے پیارے کسی ایسے عارضے کا شکار ہو بھی سکتے ہیں جو جسمانی عارضوں سے مختلف انداز میں نمودار ہوا کرتا ہے اور جس کے خوائص جسمانی عارضوں کی طرح ظاہر و نمایاں نہیں ہو رہتے۔
ہم نے بارہا دیکھا ہے کہ جب بھی کسی نفسیاتی عارضے میں مبتلا کسی شخص میں عارضے کے زیر اثر مزاج و عادات و اطوار کی تبدیلی رونما ہونا شروع ہوتی ہے تو مریض اور لواحقین اپنے دانتوں میں انگلیاں داب کر اپنے کردہ و ناکردہ گناہوں کی معافی کے طلبگار ہوتے ہوۓ دین اور دینی شخصیات سے رجوع کرنا مناسب سمجھتے ہیں اور عارضہ آگاہی کے فقدان کے سبب توہمات اور معاشرتی نظریات کی بھینٹ چڑھ رہتا ہے۔ عارضہ تو پھر عارضہ ہے سو عدم توجہی کے زیر اثر شدید تر ہوتا چلا جاتا ہے اور مریض کی عادات و اطوار میں ہوتی تبدیلیاں اسے اپنے گھر اور گھر سے باہر قابل نفرت قرار دلوا رہتی ہیں۔
اس تمام قضیے کے دوران معاشرے کے کسی طبقے بشمول پڑھے لکھے طبقے کے کسی فرد کے گمان میں بھی یہ خیال نہیں گزر رہتا کہ ایک ہنستا کھیلتا شخص اگر یک بہ یک مزاج و عادات کی تبدیلی کا شکار ہو رہا ہے تو اس کے پیچھے کوئی نفسیاتی عوامل بھی کارگر ہو سکتے ہیں۔ مریض کے لواحقین میں سے ہر ایک اس مشکل وقت میں اپنے پیارے کا ساتھ دینے کے بجاۓ اسے ملعون و مطعون قرار دیتے ہوۓ حالات کے دھارے پر تنہا چھوڑ دیتا ہے اور پھر مرض اسے قطرہ قطرہ موت کی طرف لے جاتا ہے۔
اس تناظر کے پیش نظر ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے میں نقسیاتی عارضوں سے متعلق عوامی آگاہی و رابطہ مہم کا انعقاد کیا جاۓ۔ بہتر ہوگا کہ مدرسوں و جامعات کے طلبہ سے اس مہم کا آغاز کیا جاۓ اور ان کو یہ ذمہ داری سونپی جاۓ کہ ان کے آس پاس اگر کسی شخص میں مزاج و اطوار کی تبدیلی دیکھنے میں آۓ تو اس شخص کو حوصلہ دیں کہ وہ اس پر کھل کر بات کرے اور پھر اس بات کو کسی ماہر سے مشورے کے لیے لے جانے پر راضی ہو سکے۔ اگر یہ آگاہی ہنگامی بنیادوں پر نا کی گئی تو معاشرے میں بڑھتی عدم برداشت کی روش خدا معلوم اور کتنے بے گناہوں کو سنگساری فتوے کی نذر کر چھوڑے گی۔
فیس بک کمینٹ

