پولیس تھانہ شاہ رکن عالم نے عید کے موقع پر اتوار کی صبح پیش آنے والے واقعہ میں مبینہ طورپرفائرنگ کرکے دونوجوانوں کوقتل کرنے پر تین پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ۔
پولیس ترجمان کے مطابق 24 سالہ سید سمیع اللہ ولد سید سعید اللہ جو وائی بلاک شاہ رکن عالم کالونی کارہائشی تھا ، اپنے دو دوستوں عرفان اور محمد عثمان کے ہمراہ موٹر سائیکل پر گھر واپس جا رہا تھا۔ جب یہ نوجوان جناح پارک میٹرو اسٹیشن کے قریب پہنچے تو معمول کی گشت پر مامور پولیس وین نے انہیں روکنے کا اشارہ کیامگر نوجوانوں نے پولیس کی ہدایت پر عمل کرنے کے بجائے موٹرسائیکل بھگا دی جس پولیس اہلکاروں نے ان کاپیچھا کیا اورنہ رکنے پر موٹر سائیکل سواروں پر مبینہ طورپرفائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں سید سمیع اللہ اور محمد عثمان گولی لگنے سے زخمی ہو گئے۔پولیس نے انہیں نشتر اسپتال منتقل کیا جہاں دونوں نوجوان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے تاہم تیسرے نوجوان کو معمولی زخم آئے۔
واقعہ کی اطلاع ملنے پر ورثانے لاشیں سڑک پر رکھ کر قتل میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔شاہ رکن عالم پولیس نے پولیس اہلکاروں کے خلاف دفعہ 302/324 کے تحت مقدمہ درج کر کے واقعہ کی تفتیش شروع کر دی ہے تاہم اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) یاسر، ڈرائیور جاوید سمیت پولیس اہلکار موقع سے فرار ہو گئے۔واضح ہو کہ جا ں بحق ہونے والے عثمان کاچندروز بعد نکاح تھا جبکہ سمیع اللہ دوروز قبل ہی اعتکاف سے اٹھاتھا۔۔
دریں اثناریجنل پولیس آفیسرکیپٹن (ر) محمد سہیل چوہدری نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس افسران کو ہدایت کی کہ ملوث اہلکاروں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کا کڑا احتساب یقینی بنایا جائے گا اور ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میںلائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں، اختیارات کا ناجائز استعمال کسی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔آر پی او نے ورثاکو یقین دلایا کہ ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنا کر انہیں انصاف فراہم کیا جائے گا۔
فیس بک کمینٹ

