حکومتی حلقوں کے علاوہ عام طور سے اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ کیا پنجاب میں انتخابات کے سوال پر سپریم کورٹ ملک میں ایک اور وزیر اعظم کو قربان کرنے کی تیاری کر رہی ہے؟ یہ سوال خاص طور سے پنجاب انتخابات کیے حوالے سے ہونے والے آخری سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے ریمارکس اور اس کے بعد سہ رکنی بنچ کے جاری ہونے والے حکم کے لب و لہجہ سے نمایاں ہوا ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا حکم واپس لینا مذاق نہیں ہے اور سب سرکاری ادارے پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کروانے کے پابند ہیں۔ اسی طرح سپریم کورٹ کے حکم میں سیاسی اتفاق رائے کے لئے وقت دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات کا حکم واپس نہیں لیا ہے۔ گو کہ اٹارنی جنرل اور پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق نائک نے گزشتہ سماعت میں یقین دلایا تھا کہ فریقین کے مابین 26 اپریل کو مذاکرات ہوں گے تاکہ ملک بھر میں ایک ہی وقت پر انتخاب کروانے کے بنیادی نکتہ پر اتفاق رائے کر لیا جائے لیکن ایسے کسی ڈرامائی اتفاق رائے کا امکان موجود نہیں ہے۔
چیف جسٹس نے عید الاضحیٰ کے عام انتخابات کی بات کی ہے تاکہ سپریم کورٹ کوئی ’آئینی گنجائش‘ نکالے۔ اس موقف کا ایک مطلب یہ ہو سکتا کہ جسٹس بندیال ستمبر میں ریٹائر ہونے سے پہلے انتخابات کی نگرانی کرنا چاہتے ہیں۔ جبکہ حکومت اور الیکشن کمیشن اکتوبر میں انتخابات کے اشارے دے رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات و اتفاق رائے کا بار اپنے کاندھے پر اٹھا کر چیف جسٹس سے توصیفی کلمات ضرور وصول کیے ہیں لیکن اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ سراج الحق کو حکومت یا تحریک انصاف پر کسی قسم کا کوئی اثر و رسوخ حاصل ہے۔ درحقیقت فریقین ان کے ساتھ بات کر کے بالواسطہ طور سے یہ تاثر مضبوط کرنا چاہتے ہیں کہ وہ تو بات چیت اور مفاہمت کے لئے آمادہ ہیں لیکن دوسرا فریق ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ یوں دونوں اپنی ہٹ دھرمی کا جواز تلاش کرتے ہیں۔
زمینی حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو اول تو حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ دونوں پارٹیوں میں بات چیت کا آغاز ہو جاتا ہے تو اس بات کو کوئی امکان نہیں ہے کہ اس اہم سیاسی سوال پر حکومت اور تحریک انصاف جلد ہی کسی تاریخ پر اتفاق کر لیں گے۔ حکومت اکتوبر میں انتخابات پر اصرار کر رہی ہے جبکہ تحریک انصاف فوری انتخابات پر زور دیتی ہے۔ بصورت دیگر اس کا اصرار ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات کروائے جائیں کیوں کہ پی ٹی آئی کے لیڈر سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں یہ تاریخ تو ’پکی‘ ہے ورنہ شہباز شریف کی حکومت ختم ہو سکتی ہے۔ کیوں کہ سپریم کورٹ وزیر اعظم پر توہین عدالت کی شق عائد کر کے ماضی کی روایت کے مطابق انہیں نا اہل کر سکتی ہے۔
اس دوران پنجاب اور خیبر پختون خوا میں نگران حکومتوں کے 90 دن پورے ہوچکے ہیں۔ آئین کے مطابق انتخابات کے لئے نگران حکومت 90 دن ہی کے لئے قائم ہوتی ہے لیکن ان حکومتوں کے نوے روز تو سپریم کورٹ، الیکشن کمیشن اور حکومت و پارلیمان کے درمیان تنازعہ ہی کی نذر ہو گئے۔ اب تحریک انصاف ان حکومتوں کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کر رہی ہے اور اس کا موقف ہے کہ عدالت ان صوبوں میں اپنی نگرانی میں حکومتیں قائم کرے۔ دوسری طرف ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اگرچہ آئین میں نگران حکومت کی مدت مقرر ہے لیکن یہ طے نہیں ہے کہ یہ انتخابات کے بغیر ہی ختم کی جا سکتی ہیں۔ ایک رائے کے مطابق قومی اسمبلی ایک قرار داد کے ذریعے پنجاب اور خیبر پختون خوا کی نگران حکومتوں کی مدت میں توسیع کر سکتی ہے۔ تاہم اس وقت سپریم کورٹ حکومت کے خلاف جیسا رویہ اختیار کیے ہوئے ہے، اس کی روشنی میں اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ سپریم کورٹ ایسے کسی قانونی امکان کو مسترد کردے۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں گزشتہ ایک سال کے دوران اہم ترین آئینی و سیاسی فیصلے کرنے والا سہ رکنی بنچ ابھی تک کسی رعایت کا اشارہ دینے پر آمادہ نہیں ہے اور نہ ہی اس تنقید پر کوئی رد عمل سامنے آیا ہے کہ صرف تین مخصوص جج ہی کیوں تمام اہم معاملات پر فیصلے کرنے کے لئے ایک بنچ میں جمع ہو جاتے ہیں۔ حکومت ان تین ججوں کے اقدامات کے خلاف شدید رد عمل ظاہر کرچکی ہے لیکن سپریم کورٹ پر اس کا کوئی اثر دیکھنے میں نہیں آیا۔ ان حالات میں سپریم کورٹ ہی درحقیقت سیاسی طاقت کا مرکز بنی ہوئی ہے جہاں سے ملکی تقدیر کا فیصلہ صادر کرنے کا مصمم ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔ لیکن دوسری طرف وزیر اعظم اور حکومت نے پارلیمنٹ کو بالادست قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پارلیمنٹ کے اختیار پر نرمی نہیں دکھائی جائے گی۔ اس طرح بظاہر حکومت اور سپریم کورٹ پنجاب انتخابات کے سوال پر ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں لیکن اس مقابلے میں سپریم کورٹ کا پلڑا یوں بھاری دکھائی دیتا ہے کہ وہ کسی بھی آئینی شق یا قانون کو اپنی مرضی کے مطابق بیان کر کے حکم صادر کرنے کا رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ پارلیمنٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر مجریہ 2023 کو نفاذ سے پہلے ہی مسترد کر کے اسی یک طرفہ عدالتی آمریت کا مظاہرہ دیکھنے میں آ چکا ہے۔
گو کہ سپریم کورٹ نے اس قانون کی باقاعدہ منظوری سے پہلے ہی اسے مسترد کرنے اور اس پر عمل درآمد روک دینے کا حکم جاری کر رکھا ہے لیکن قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے اس قانون کے نفاذ کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس معاملہ کو سپریم کورٹ کا آٹھ رکنی بنچ توہین عدالت قرار دے کر حکومت اور وزیر اعظم کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔ قانونی اختلافات سے قطع نظر اس معاملہ پر تشریح اور حکم جاری کرنے کا بنیادی اختیار چیف جسٹس کی نگرانی میں بنائے گئے بنچوں ہی کے پاس ہے جن میں جسٹس عمر عطا بندیال نے چن چن کر اپنے حامی ججوں کو جمع کیا ہے۔ ستم ظریفی البتہ یہ ہے کہ نیا قانون درحقیقت چیف جسٹس کے سوموٹو اختیار کے علاوہ بنچ سازی کا اختیار محدود کرتا ہے اور یہ اختیار سینئر ترین تین ججوں کی کمیٹی کے سپرد کرتا ہے۔
گزشتہ روز صدر عارف علوی کی طرف سے یہ قانون دوبارہ دستخط کیے بغیر واپس بھیجنے کے بعد آئینی طریقہ کار کے تحت اسے پارلیمنٹ کے منظور شدہ قانون کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ ابھی یہ غیر واضح ہے کہ جس قانون کے نفاذ سے پہلے ہی سپریم کورٹ کا ایک متنازعہ بنچ اسے کالعدم یا ناقابل نفاذ قرار دے چکا ہے، اس کا نوٹی فکیشن جاری ہونے کے بعد ، اس کی کیا حیثیت ہوگی۔ خاص طور سے جب یہ غور کیا جائے کہ اس قانون کے تحت چیف جسٹس کے علاوہ جن دوسرے دو سینئر ترین ججوں کو سوموٹو نوٹس لینے کا فیصلہ کرنے اور بنچ سازی کے بارے میں اختیار تفویض کیے گئے ہیں، وہ دونوں اس آٹھ رکنی بنچ میں شامل نہیں جو اس قانون کی تقدیر پر عید کی چھٹیوں کے بعد سماعت کا آغاز کرے گا۔ ایسے میں ان دو ججوں کا ردعمل کیا ہو گا؟ کیا چیف جسٹس قانون نافذ ہونے کے نوٹی فکیشن کو بھی حکومت کی طرف سے ’توہین عدالت‘ سمجھنے کا اعلان کریں گے؟
سپریم کورٹ کے چند مخصوص ججوں نے پارلیمنٹ کے اختیار ات محدود کرنے اور حکومت کو مجبور محض بنانے کے لئے اپنے ’اختیارات‘ پوری شدت سے استعمال کیے ہیں اور اس طرز عمل کو آئین کے نفاذ کا نام دیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف پارلیمنٹ اور حکومت کا متفقہ طور سے موقف ہے کہ یکم مارچ کو پنجاب میں انتخابات کے لئے جس سوموٹو کے تحت فیصلہ کو تین دو کی اکثریت کا حکم کہا جا رہا ہے، وہ درحقیقت اقلیتی فیصلہ تھا۔ کیوں کہ سات میں سے چار ججوں نے اس سوموٹو کی مخالفت کی تھی۔ لیکن چیف جسٹس اور ان کے ساتھی دو جج خاص طور سے اس موقف کو مسترد کرنے پر بضد ہیں۔
ایسے میں عام شہری کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سپریم کورٹ کے احکامات کا اطلاق خود سپریم کورٹ کے ججوں پر بھی ہوتا ہے یا انہیں اس سے استثنا حاصل ہے؟ ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ سات ججوں میں سے چار کی رائے کو کوئی عذر فراہم کیے بغیر اور ٹھوس عدالتی نظیر سامنے لائے بغیر نظر انداز کر دیا جائے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال جب تک اس سوال کا شافی جواب فراہم کرنے کی زحمت نہیں کریں گے، ان کی اخلاقی حیثیت پر سوالیہ نشان موجود رہے گا۔
اسی حوالے سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس امین الدین خان کا فیصلہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہے جس میں تمام سوموٹو مقدمات کو مؤخر کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کو اسپیشل بنچ بنانے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے اس حکم کو پہلے ایک سرکلر کے ذریعے اور بعد میں چھ رکنی ہمنوا ججوں کے بنچ کے ذریعے دائرہ اختیار سے تجاوز قرار دیتے ہوئے بظاہر سرخرو ہونے کی کوشش کی ہے لیکن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اضافی عدالتی حکم میں چھ رکنی بنچ کے فیصلہ کو اختیار سے تجاوز کہا ہے۔ جب ایک ہی معاملہ پر ججوں میں اتنی شدید گروہ بندی موجود ہو تو تمام مشکل اور اہم امور کو طے کرنے کے لئے فل کورٹ سے رجوع کرنا ضروری تھا لیکن چیف جسٹس نے اس سے مسلسل انکار کیا ہے۔
عید الفطر کی چھٹیوں کے بعد سپریم کورٹ 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات پر اصرار کر سکتی ہے جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ پارلیمنٹ کے اختیار پر سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ حکومت پنجاب انتخابات کے بارے میں سپریم کورٹ کے حکم کو اختیارات سے تجاوز قرار دیتی ہے۔ سپریم کورٹ نے تمام اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی وقت کروانے کا اصول مان کر پارلیمنٹ کو شیڈول اور طریقہ کار طے کرنے کا موقع دینے سے انکار کیا تو یہ تنازعہ مزید شدت اختیار کرے گا۔ ایسے میں سوال ہے کہ کیا سپریم کورٹ ایک اور وزیر اعظم کو آئینی تشریح کے نام پر قربان کرنے کے لئے تیار ہے؟ اس امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا لیکن کیا چیف جسٹس اپنی غیر جانبداری پر اٹھنے والے سوالوں کی موجودگی میں ایسا انتہائی قدم اٹھانے کا حوصلہ کر سکتے ہیں۔ اگر ان کے پاس یہ انتہائی آپشن اختیار کرنے کا موقع نہیں ہے تو کیا وجہ ہے کہ سہ رکنی بنچ کے ارکان ریمارکس اور عدالتی فیصلوں میں خود کو بند گلی میں دھکیل رہے ہیں۔
سپریم کورٹ کے متعدد فیصلے قانونی و آئینی حدود سے متجاوز ہیں۔ سیاسی فیصلوں کے لئے آئین کی سربلندی کا نعرہ لگانے والے چیف جسٹس ضرور وزیر اعظم کو نا اہل کرنے کا اقدام کر سکتے ہیں۔ لیکن ایسا کوئی فیصلہ ان کے پاؤں کی زنجیر بھی بن سکتا ہے۔ اس صورت میں چیف جسٹس کا وقار داؤ پر لگے گا اور تصادم کی صورت میں سپریم کورٹ کے ادارے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
(بشکریہ :کاروان۔۔۔ ناروے)
فیس بک کمینٹ

