ڈاکٹر لال خانکالملکھاری

کشتیاں ابھی جلی نہیں!:جدوجہد/ ڈاکٹرلال خان

نواز شریف نے اپنی سب سے ریڈیکل پریس کانفرنس میں وہ واقعات بیان کر دیئے ہیں جن کو اب تک وہ اور مریم صاحبہ اشاروں کنایوں میں پیش کر رہے تھے‘ لیکن نواز شریف نے جو انکشافات اور الزامات عائد کیے وہ کم از کم عوام کے لئے زیادہ حیران کن نہیں تھے۔ تجزیہ نگاروں اور میڈیا کے شہنشاہوں نے جس غصے اور حیرانگی کا اظہار کیا‘ وہ دیکھ کر لگتا ہے کہ یا تو وہ بہت کند ذہن ہیں یا پھر ناٹک کر رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پولرائزیشن، تناؤ اور منافرت اتنی بڑھ چکی ہے کہ حکمران طبقات کے مختلف دھڑوں اور ان کے مفکروں و دانشوروں کے تجزیے اس دھڑے بندی اور حقارت سے اندھے اور زہریلے ہونے لگے ہیں۔ نواز شریف کو غدار قرار دیا جانا بھی کوئی نئی بات نہیں۔ یہ الزام صرف اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ اس ملک کے حکمران طبقات کے باہمی تضادات اور تناؤ کس قدر شدت اختیار کر گئے ہیں۔ ایک نئے موڑ پر غداری کے الزام لگانے والے انہی غداروں کے حلیف اور اتحادی بن جاتے ہیں۔ سیاسی تناؤمیں ”میثاقِ جمہوریت‘‘ جیسے فرسودہ معاہدے کرنے والے انہی اتحادیوں کو غدار قرار دیتے ہوئے یہ اتحادی سوچتے بھی نہیں کہ تھوڑا عرصہ پیشتر یہ آپس میں کتنی گرم جوشی سے یارانے استوار کر رہے تھے۔ اگرچہ نواز شریف نے چند ایشو اٹھائے ہیں‘ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تمام تر تضادات اور تصادم کے باوجود نواز شریف کی اس پریس کانفرنس میں عمومی تجزیہ اور نظریہ کئی حلقوں کے نظریات سے کسی قسم کے ٹکراؤ یا متصادم سوچ کی غمازی نہیں کرتا۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ نواز شریف پاکستان میں ایک ایسی حقیقی جمہوریت اور سویلین برتری کا خواہاں ہے جس کی مغرب یا چند دوسرے ممالک میں تو شاید گنجائش ہے لیکن پاکستان جیسے ممالک میں نہیں کہ جہاں نظام کے سنگین بحران میں سیاستدان جب ناکام ہوتے ہیں تو پہلے ان کے متحارب دھڑے غیر سیاسی قوتوں کی گود میں جا بیٹھتے ہیں اور ان کو مداخلت کی التجائیں کرتے ہیں۔ نواز شریف اور بہت سے دوسرے لبرل و سول سوسائٹی کے دانشور صرف اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ یہاں کا سیاسی ڈھانچہ ایک مغربی طرز کی پارلیمانی جمہوریت پر استوار ہو اور ان جمہوری حکومتوں کو مکمل اختیارات اور اتھارٹی پر کام کرنے دیا جائے۔
پاکستان کی تاریخ میں آمریتوں کی مداخلت اقتصادیات سے لے کر داخلی اور خارجی پالیسیوں تک میں نظر آتی رہی ہے۔ 1977ء میں امریکی سامراج نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کو معزول کروا کر یہاں ایک فوجی آمریت مسلط کروائی تھی۔ سامراجی آشیرباد کے بغیر ضیاء الحق شاید یہ نہ کر سکتا‘ نہ اس اقتدار کو گیارہ سالوں کی طوالت ہی دے سکتا۔ اس دوران افغان جہاد پر عملدرآمد کے دوران مالیاتی سرمائے کا ایک بہت بڑا اجرا ہونا شروع ہوا اور وہ ملک میں صرف معیشت ہی نہیں سیاست، سماجی اقدار اور انفرادی عقائد کے اداروں تک بھی پھیل گیا۔ اس سے جہاں متوازی یا کالی معیشت ملک کی اقتصادیات پر حاوی ہو گئی‘ وہاں اس نے سیاست کے پرانے اخراجات کی نسبت اَن داتائوں کے ذریعے دولت کی ریل پیل کرکے سیاست کی جہت ہی بدل دی۔ اسی کالے دھن کی وجہ سے کئی طرح کی منافرتیں پھیلیں۔ نواز شریف اسی دوران سیاسی میدان میں لائے گئے اور پروان چڑھے۔ اب ان کے مخالفین میاں صاحب کے ماضی کے اس بوجھ کو ان کی آج کی جدوجہد اور سیاست کو مسخ کرنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں‘ لیکن ایک ایسی فضا بن چکی ہے‘ جہاں حاوی طاقتوں کی پروردہ صحافت، سیاست اور پیٹی بورژوازی مسلسل نواز شریف اور مریم صاحبہ پر حملہ آور ہیں۔ نواز شریف کا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنے نظریات کی وجہ سے اُنہی کی وکٹ پر کھیلنے پر مجبور ہے کیونکہ حالیہ ‘سٹیٹس کو‘ کے ڈھانچے چاہے نواز شریف کے ہی خلاف ہوں لیکن نواز شریف اس سرمایہ دارانہ جمہوریت کی بند گلی سے نکلنے کے لئے تیار نہیں۔ وہ کن نظریات سے کون سے نئے نظریات کے حامل ہو گئے ہیں‘ اس کی وضاحت بھی نہیں ہے اور بنیادی ایشوز پر ان کی پالیسیوں میں نظریاتی اختلاف بھی نہیں ہے۔ ماضی میں بھی بعض رہنماؤں اور زیادہ تر بائیں بازو کے فیض احمد فیض جیسے لیڈروں کو غدار قرار دیا جاتا رہا‘ لیکن بیشتر قوم پرست چونکہ اقتصادی پالیسیوں کے لحاظ سے سرمایہ داری پر بھی یقین رکھتے تھے تو ان قومی تحریکوں کی پسپائی کی صورت میں وہ جلد ہی پاکستان کی ”مین سٹریم‘‘ سیاست میں داخل ہو گئے۔ ان پر لگائے گئے غداری کے الزامات قطعاً کوئی رکاوٹ نہیں بن سکے۔ بائیں بازو کے لیڈر‘ جن پر اس نظام ہی کو بدل دینے کے الزامات بھی تھے اور وہ ان کو تسلیم بھی کرتے تھے‘ اپنے نظریات اور مشن پر قائم رہے۔ ان پر لگنے والے غداری کے داغ وقت کے ساتھ ساتھ مٹ گئے‘ لیکن عوام کے کم از کم ہراول حصوں میں ان کی عزت و مرتبت رضاکارانہ اور دلوں کی دھڑکنوں کے ساتھ موجود رہی۔
ایک مخصوص وقت کے مخصوص ‘سٹیٹس کو‘ میں تو شاید نواز شریف نے اپنی کشتیاں جلانی شروع کر دی ہیں لیکن اس نظام کے حوالے سے ابھی کشتیاں کھڑی ہیں۔ عمران خان نے تبدیلی کا جو نعرہ لگایا تھا وہ تو پچھلے پانچ سال میں بری طرح بے نقاب ہو گیا ہے۔ اب تحریکِ انصاف کسی تبدیلی کی پارٹی کی بجائے ”الیکٹیبلز‘‘ کی اور ‘سٹیٹس کو‘ اور اس نظام کی انتہائی دائیں بازو کی پارٹی کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت تو طویل عرصے سے الیکٹیبلز اور ”سٹیٹس کو‘‘ کی پارٹی میں بدلی جا چکی ہے‘ لیکن ان کی پچھلی حکومت کی کارکردگی اور لوڈ شیڈنگ کے اذیت ناک ظلم نے ان کی ساکھ کو بری طرح مجروح کیا ہے۔ اس پر یہ کہ وہ حاکمیت کی حمایت حاصل کرنے کے لئے تحریک انصاف سے بھی زیادہ ”شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار‘‘ بننے کے جتن کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی والے تو تبدیلی اور انقلاب کا نام لینا بھی چھوڑ گئے ہیں‘ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ”اکیلے‘‘ اور ”ریڈیکل‘‘ ہو کر بھی نواز شریف اس نظام پر آنچ نہیں آنے دے رہے۔ طبقاتی بات ان کی پارٹی کے خمیر میں نہیں ہے۔ ان کا ریڈیکلزم بھی سرمایہ داری سے شروع ہو کر سرمایہ داری میں ہی ختم ہو جاتا ہے۔ طبقاتی سیاست دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک طبقاتی سیاست جو کسی حد تک بھٹو نے کی تھی‘ لیکن پھر اقتدار میں آ کر اس کا چھوٹ جانا ناگزیر تھا۔ اس کا انجام اور اسباق انتہائی دیانت داری سے بھٹو نے اپنی آخری تحریر ”اگر مجھے قتل کر دیا گیا‘‘ میں لکھ دیے تھے۔ لیکن نواز شریف نے تو کبھی ایسی طبقاتی کشمکش کا اشارہ بھی نہیں دیا۔ ”میثاق جمہوریت‘‘ سے لے کر ”ووٹ کو عزت دو‘‘ کی سیاست بنیادی سماجی و معاشی نظام کی تبدیلی کی سیاست نہیں ہے‘ جبکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بنیادی سماجی اور اقتصادی بحران شدید ہے اور اس سے جو نفسیات جنم لے رہی ہے‘ وہ کبھی ٹھوس اور مستحکم پارلیمانی جمہوریت کی متحمل ہو ہی نہیں سکتی۔ اس معاشرے میں دولت کے جبر سے آزاد عوام کی رائے اور ووٹ اور ووٹر کی عزت والی سیاست تبھی ممکن ہو سکے گی جب یہاں کے عام انسانوں کی روزمرہ کی اقتصادی بے عزتی اور ذلت بند ہو گی۔ ایسی طبقاتی سیاست نواز شریف کے شاید نصیب میں نہیں ہے۔ دوسرا‘ طبقاتی سیاست یا تو انقلابی حالات کو جنم دیتی ہے یا پھر ایسی صورتحال کے پیدا ہوتے ہی یہ سیاست تیزی سے ابھرتی ہے۔ انقلابی حالات تاریخ کے وہ غیر معمولی لمحات ہوتے ہیں جب معاشرے کی بنیادوں کو بدلنے کے امکانات جنم لیتے ہیں۔ محنت کشوں میں طبقاتی کشمکش کی نئی تڑپ جاگ رہی ہے۔ اس سیاسی ڈرامے میں ان کے لئے کچھ نہیں ہے۔ لیکن جب تک ایک انقلابی کیفیت نہیں بنتی اس وقت تک شاید نواز شریف عوام کی محرومی کو اپنی مظلومیت سے جوڑنے کا کھیل جاری رکھے گا۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker