ڈاکٹر لال خانکالملکھاری

جب نظام ہی متروک ہو جائے!۔۔جدو جہد/ڈاکٹر لال خان

نیا پاکستان بنانے کے دعوے دار حکمرانوں نے اس کام کی ذمہ داری ایسے عہد میں اٹھائی ہے جب اس معاشی و اقتصادی نظام میں وہ گنجائش ہی ختم ہو چکی ہے‘ جس کے بل بوتے پر عوام کی بہتری اور سماج کی ترقی ہو سکے۔ پاکستان جیسے ممالک میںخستہ حالی تو ہمیشہ ہی رہی ہے‘ لیکن اس نئے پاکستان بنانے کے دور میں حتیٰ کہ ترقی یافتہ سامراجی ممالک میں بھی یہ سرمایہ دارانہ اقتصادی نظام ایسی تنزلی کا شکار ہو چکا ہے ‘ جہاں اب عوام کا خون پسینہ مزید نچوڑے بغیر ریاستی اور اقتصادی ڈھانچے ہی قائم نہیں رہ سکتے۔ ایسے میں ہم اگر ترقی یافتہ ممالک کی معیشتوں کا جائزہ لیں تو کم از کم مستقبل قریب میں بہتری کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی۔
یقینا آج کے دور اور 1930ء کی دہائی میں بہت مماثلت پائی جاتی ہے، جیسے سٹاک ایکسچینج کا کریش، پروٹیکشن ازم کی جانب جھکاؤ، یورپ اور دوسرے خطوں میں نیم آمرانہ‘ حتیٰ کہ فاشسٹ حکومتیں (اگرچہ اس مرتبہ پارلیمانی جمہوریت کے باریک لبادے میں، فاشسٹ جتھوں کے احیا کی پہلی نشانیاں ظاہر ہوئی ہیں)‘ بریگزٹ ریفرنڈم، ٹرمپ کی صدارت، اٹلی میں انتہائی دائیں بازو کے اتحاد، اردوان کی صدارتی آمریت کے صدمے‘ شام کی بربادی، بحیرہ روم میں ڈوبتے ہزاروں تارکین وطن، میکسیکو کی سرحد پر بچوں کی والدین سے جبری علیحدگی، بڑے پیمانے پر ڈی پورٹیشن، پناہ گزین کیمپوں کے وسیع قید خانے، میکسیکو اور افریقہ کے تارکین وطن اور اٹلی کے روما لوگوں کو ”جانور‘‘ قرار دیا جانا… یہ ساری وحشت محض چند سال پہلے تک سوچی بھی نہیں جا سکتی تھی۔ یہ سب نازیوں کی جانب سے بڑے پیمانے کے قتل عام جیسے منصوبوں سے بہت زیادہ دور نہیں ہے۔
ہر طرف رجعت کی ان شکلوں کے ظہور پر تشویش جائز ہے۔ ٹرمپ، سالوینی، کازنسکی، ڈوٹرٹے، مودی جیسے درندے پھر سے سامنے آ رہے ہیں۔ دنیا بھر میں تارکین وطن قید، بے دخل اور سمندروں میں ڈوب رہے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ میں نسل پرست گینگ واپس آ رہے ہیں اور یورپ بھر میں نسل پرست حکومتیں بن رہی ہیں۔
لیکن تصویر کا دوسرا رُخ محنت کشوں کی مزاحمت کا اظہار بھی کرتا ہے۔ 2008ء کے کریش کے بعد آئس لینڈ سے جنوبی افریقہ تک، سپین سے یونان‘ تھائی لینڈ، رومانیہ اور بلغاریہ تک اور سارے وسطی یورپ میں عوامی تحریکوں یا انتخابی زلزلوں کے ذریعے حکومتوں کا خاتمہ ہوا ہے۔ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں انقلابی تحریکیں چلی ہیں اور تیونس، مصر اور لیبیا میں آمریتوں کا خاتمہ ہوا ہے۔ نومبر 2014ء میں جنوبی یورپ کے محنت کشوں کی ہڑتال قومی سرحدوں کو عبور کر گئی تھی۔
یہ فتوحات اور شکستوں کا پر تضاد عہد ہے۔ عرب انقلاب سے سارے خطے کے محکوم عوام کو جابر آمروں کے خلاف ایک امید ملی تھی جو جلد ہی مایوسی میں بدل گئی۔ امید اور پھر مایوسی کی یہی کیفیت سارے لاطینی امریکہ میں بائیں بازو کی حکومتیں بننے سے پیدا ہوئی۔ بظاہر عرب انقلاب مصر میں خون ریز رد انقلاب کے ہاتھوں ختم ہو گیا‘ لیکن رواں برس ہی اردن میں عوامی تحریک کے ذریعے حکومت کا خاتمہ ہوا ہے، تباہ حال عراق میں بھی ہڑتالیں ہوئی ہیں اور ایران میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ لاطینی امریکہ کے زیادہ تر ممالک میں بائیں بازو کی حکومتوں کو کسی نہ کسی طریقے سے ہٹا دیا گیا ہے لیکن میکسیکو میں بائیں بازو کا لیڈر لوپیز اوبراڈور فیصلہ کن انداز میں صدارتی انتخابات میں کامیاب ہوا ہے۔ تھائی لینڈ میں پھر سے فوجی حکومت ہے لیکن ویتنام میں بڑی ہڑتالیں اور احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ یورپ بھر میں عوامی تحریکوں نے حکومتیں گرائی ہیں۔ 2017ء میں برازیل میں 3 کروڑ 50 لاکھ محنت کشوں نے لاطینی امریکہ کی سب سے بڑی عام ہڑتال کی اور ہندوستان میں 20 کروڑ محنت کش دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی ہڑتال میں شریک ہوئے! اپریل 2018ء میں جنوبی افریقہ میں عام ہڑتال ہوئی۔ چین میں بڑے پیمانے پر ہڑتالوں کی لہر نظر آئی ہے۔ تبدیلی کی تحریک کو شکست نہیں ہوئی، یہ زور پکڑ رہی ہے اور اگلے معرکے کے لیے تیار ہے۔
تاریخ کا سفر اب انتہائی پُر پیچ راستوں سے گزر رہا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والے لبرل نظم و نسق کی آخری باقیات بھی مٹتی جا رہی ہیں جن میں صحت کی مفت سہولیات، ریاست کی جانب سے رہائش، بے روزگاری الائونس، یونیورسٹی میں مفت تعلیم، مناسب پنشن اور عمر رسیدہ افراد کی دیکھ بھال وغیرہ جیسے معاملات شامل تھے۔ تین دہائیوں سے حکمران طبقہ محنت کشوں کی ان حاصلات کو واپس لے رہا ہے جو انہیں دوسری عالمی جنگ کے بعد ملی تھیں کیونکہ حکمران طبقہ اس وقت عوامی مزاحمت سے خوفزدہ تھا۔ اب ان سہولیات کا وجود ہی خطرے میں ہے۔ سرمایہ داری کا یہ لبرل لبادہ بڑی غیر مہذب اور بھونڈی جلد بازی سے چاک کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی محنت کش طبقے نے ماضی کے سابقہ اصلاح پسند لیڈروں کو مسترد کر دیا ہے جنہوں نے مدت ہوئی حقیقی اصلاحات کا دکھاوا بھی چھوڑ دیا تھا۔ ماضی میں محنت کشوں کی روایتی پارٹیوں کے اب بچے کھچے چند ٹکڑے ہی رہ گئے ہیں۔
سیاسی ٹوٹ پھوٹ کی دوسری علامات لمبے عرصے سے خاموش سکاٹ لینڈ اور کاتالونیا میں علیحدگی پسند رجحانات کا ابھار ہے، جس میں ممکنہ طور پر اٹلی کے شمالی صوبے بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ برطانیہ میں زہریلا بریگزٹ اور تارکین وطن سے نفرت، امریکہ میں دونوں بڑی پارٹیوں، ریپبلکن اور ڈیموکریٹس، کی مرتی ہوئی اسٹیبلشمنٹ کو ٹرمپ اور برنی سینڈرز سے نمٹنے کے مسائل، فرانس میں بڑی بورژوا پارٹیوں پر میری لی پین اور میکرون کی برتری، جرمنی میں اینجلا مرکل کی سی ڈی یو کی اکثریت کا خاتمہ، ہالینڈ، فرانس، اٹلی، سوئٹزرلینڈ، ڈنمارک، آسٹریا، بیلجیئم، فن لینڈ، سویڈن، ناروے، یونان میں نسل پرست پارٹیوں کا ابھار اور ہنگری، پولینڈ اور سارے وسطی یورپ میں دبے لفظوں میں یہود دشمنی کرنے والی حکومتوں کا قیام، اردوان کی بڑھتی مطلق العنانیت میں ترکی میں بھی برطرفیوں، بڑے پیمانے پر قید و بند اور تشدد کا بازار گرم ہے۔
سابقہ نوآبادیاتی ممالک میں بھی آزادی اور جمہوری حقوق کی جدوجہد میں ابھرنے والی موروثی پارٹیاں کئی دہائیوں کی کرپشن اور اخلاقی تنزلی کی قیمت ادا کر رہی ہیں‘ جن میں ہندوستان میں کانگریس، پاکستان میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ، زمبابوے میں زانو پی ایف اور جنوبی افریقہ میں اے این سی شامل ہیں۔ مصر میں السیسی کی فوجی آمریت 2011ء کے انقلاب کا خونیں انتقام لے رہی ہے۔ لاطینی امریکہ کے زیادہ تر ممالک میں بائیں بازو کی حکومتیں گر چکی ہیں‘ ایشیا میں مودی جیسا فرقہ پرست درندہ اور فلپائن میں غنڈہ ڈوٹرٹے حکومت میں ہے۔ اٹلی سے لے کر ہنگری اور ہندوستان سے فلپائن اور پاکستان تک یہ سب لوگ رسمی طور پر پارلیمانی جمہوری ڈھانچے کے اندر برسر اقتدار آئے ہیں۔
آج پاکستان سے فلپائن تک نیم جابرانہ حاکمیتوں کا راج چل رہا ہے‘ لیکن مودی سے لے کر ٹرمپ تک کی ان مطلق العنان جمہوریتوں کا راج زیادہ طوالت اختیار نہیں کر سکے گا۔ اگرچہ دنیا بھر میں بائیں بازو کی عارضی تنزلی میں دائیں بازو کے رجحانات معاشروں پر حاوی ہو رہے ہیں‘ لیکن ان کا جبر، اختیار اور عمل داری محدود رہے گی۔ محنت کش طبقے کی اتنی وسیع موجودگی میں آج کسی ہٹلر یا میسولینی جیسی فسطائیت معاشرے کو اپنی مکمل جکڑ میں کچل نہیں سکتی۔ لیکن ان حاکمیتوں کے مزدور دشمن اقدامات اور عوام دشمن مہنگائی، بیروزگاری ، لا علاجی اور محرومی کے خلاف معاشروں کی کوکھ میں بغاوتوں کے لاوے بھی بھڑک رہے ہیں۔ یہاں مایوسی و بد دلی ایک جرم بن جاتی ہے۔ فیصلہ کن اور سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب یہ معاشرے پھٹیں گے تو کیا انقلابی سوشلزم کے لیے کوئی قوتیں تعمیر کی جا رہی ہیں‘ جو عوام کے ابھرے ہوئے ان طوفانوں کو نجات اور خوشحالی کی منزلوں سے ہمکنار کر سکیں؟
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker