ڈاکٹر محمد امین کا یہ چودھواں شعری مجموعہ ہے ، تنقید ، فلسفہ ، تصوف اور عروض و لغت کے موضوع پر 20 کتب علاوہ ۔
انہوں نے اس کتاب کے انتساب میں اپنی اسم بامسمی ماں صابراں بی بی کو یاد کیا ہے جو محمد امین سمیت سات بچوں کو صبح اٹھ کر ناشتہ کراکے سکول بھیجتی تھیں ، شام کو ان سب کی تختیاں ” پوچتی ” تھیں ، بکھری کتابیں الگ الگ بستوں میں رکھتی تھیں ۔
ان کی دم ساز کتب کے علاوہ شریک حیات (سیمیں ) تین بیٹیاں ( میمونہ ، شہیرہ اور نمیرہ) ہیں یا ان کے شاگرد اور احباب ۔
ایک کم سن طالب علم کے طور پر مجید امجد کاالتفات نصیب رہا ہے بلکہ ممکن ہے اس کتاب کا نام ” اقلیم قلم ” پڑھتے ہوئے آپ کو مجید امجد کا ایک لازوال مصرعہ یاد آرہا ہو
نہ کوئی سلطنت غم ہے نہ اقلیم طرب
حالانکہ محمد امین کو کئی ایوارڈ مل چکے ہیں تازہ ترین جاپانی شہنشاہ کی طرف سے
The order of the rising Sun
کہ وہ ہائیکو کو اردو میں متعارف کرانے والوں میں سے ہیں ان کے علاوہ جاپانی اردو ریڈر ، جاپانی اردو ڈکشنری ، اردو جاپانی فرہنگ مرتب کر چکے ہیں ۔اگر بلاول بھٹو تازہ دورہ جاپان میں اپنی والدہ کی ہم شکل چھوٹی بہن آصفہ بھٹو کے ساتھ محمد امین کو بھی لے جاتے تو اس دورے کی ادبی اور علمی سمت میں اضافہ ہوتا ۔
محمد امین نے تصوف سے سیکھا یا مجید امجد کی درس گاہ سےان میں تعلی نہیں ، ذرا ایک نظم کی دو لائینیں دیکھئے
کبھی اہل سخن کا ذکر چھڑ جائے
مجھے پھر یاد کر لینا
کیوں کہ وہ شاعری کو اپنا اثاثہ خیال کرتا ہے
مرے خواب تھے جو بکے نہیں ، مرے شعر تھے جو سنے نہیں
انہیں جمع کرتے ہوئے جیا ، ہے یہی اثاثہ غریب کا
اس کا دھیما پن اور انکسار اپنی جگہ مگر وہ کچہریوں کے چکر لگائے بغیر بہت سے وکیلوں کے فن سے واقف ہے
مرے وکیل نے محبوب مجھ سے چھین لیا
ذرا کمال ہنر دیکھئے وکالت میں
اس کتاب میں بہت سی نظمیں ہیں جو مجید امجد کے شعری اسلوب کے تاثر کو بڑھاتی ہیں جیسے
خوبصورت بھکارن ، بیوگی جرم ہے ، بے سمتی ، ایک مٹھی آٹے سے کلو آٹے تک ،ہڑپہ کا مسافر،ہڑپہ کا آدمی ، موئن جو ڈارو کی رقاصہ مورتی ۔اس کتاب کے دو بہت اہم حصے ہیں جدید منطق الطیر( چڑیا ، طوطا، کبوتر ، فاختہ ، ہد ہد ) اور خواب نامہ (رومی سے ملاقات ،سلطان باہو سے ملاقات ، سائیں لطیف بھٹائی سے ملاقات ، حضرت لعل شہباز سے ملاقات ، دیو جانس کلبی سے ملاقات ، سقراط سے ملاقات )
اردو اکادمی ملتان نے اب تک نمایاں ترین جو سیکرٹری دیکھے ان میں محمد امین اور خالد سعید تھے دونوں کا مضمون فلسفہ تھا ، (ڈاکٹر امین کی کلاس فیلو ارشاد خالد نے بھی فلسفے میں ایم اے کیا تھا اور ساہیوال کی ہیں ، میرے استاد سید ریاض حسین زیدی کی طرح) مگر بوجوہ مجھے محمد امین کی خواب میں سقراط سے ملاقات اچھی لگی
مجھے کل خواب میں سقراط نے پوچھا
تمہیں معلوم ہے تم نے کبھی سوچا
تمہارے شہریوں کے سب
تصور ہی غلط ہیں
تمہارا فرض ہے ان کو درست رکھو
یہیں سے امن کا آغاز ہوتا ہے
ریاست کیا ، حکومت کیا ،عدالت کیا
مقنن کے تصور ٹھیک رکھو
نہیں تو پھر
سکوں برباد ہوگا ، زندگی دشوار تر ہوگی
محمد امین کے کلاس فیلو اور دوست سعادت سعید نے بہت وقیع دیباچہ لکھا ہے ، آپ جانتے ہیں کہ سعادت سعید بہت سادگی اور آسانی سے پیچیدہ خیال کو بھی بیان کر دیتے ہیں ، دو ایک فقرے دیکھئے :
اقلیم قلم کی نظمیں موجود سماج کی معروضی حقیقتوں کو داخلی فکری جوہر سے ممتزج کرتی نظر آتی ہیں ،شاعر کی ذات کی کٹھالی میں پگھل کر نئی نظمیہ صورت اختیار کرنے والے کوائف علامتی معنویت کی آئینہ بندی کرتے ہیں ۔ ۔۔ شاعر کے خواب ناموں ، اختصاری، ایجازی نسبتوں کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے ”
یہ کتاب ملتان کے نوجوان پبلشر عبدالحنان نے شائع کی ہے جو ہمارے بہت پیارے رضی الدین رضی کے بیٹے ہیں خط و کتابت سے کتاب منگوانا چاہیں تو 73 اے ، جلیل آباد کالونی ، ملتان کو لکھئے اور رابطہ نمبر
03186780423
قیمت صرف 500 روپے ہے 12 دسمبر 1947 میں پیدا ہونے والے ایک شاعر ، عالم اور استاد کو مل جل کر یہ طمانیت تو دیجئے کہ ان کا چودھواں شعری مجموعہ ہاتھوں ہاتھ گیا (تنگ دستی کا بہانہ کسی کام کا نہیں )
فیس بک کمینٹ

