بڑے معرکے سر انجام دینے کے لیے بڑے حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔دل میں سمندروں کی سی وسعت پیدا کرکے سب کے لیے جگہ بنانی پڑتی ہے، فکری تعصبات سے ماورا ہو کر مخالف نظریات والوں کو مکالمے کی دعوت بھی دینی پڑتی ہے اور ان کی بات سننی بھی پڑتی ہے۔ ایسا ہی کچھ کراچی میں اردو کانفرنس میں دیکھا جب احمد شاہ نے آخری سیشن میں کچھ سفارشات پڑھ کر سنائیں اور اس بات پر زور دیا کہ تمام مادری زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دیا جائے اور انہیں تعلیم کا حصہ بنایا جائے۔ انھوں نے ہمسایہ ملک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں چھبیس قومی زبانیں ہیں۔ اگر ہم صوبوں کی بات کریں تو بلوچستان میں سب سے کم آبادی کے باوجود چار مادری زبانوں کو لازمی مضمون کا درجہ دیا گیا ہے اور ان کی تدریس جاری ہے۔ پنجابی سیشن میں بابا نجمی، بشریٰ اعجاز، طاہرہ کاظمی اور راقم موجود تھے، نظامت توقیر چغتائی نے کی۔ صدیوں سے پنجاب اور پنجابی زبان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر بات کی گئی۔
پنجاب کی زرخیز اور شاداب فضاؤں میں مہکتی امن پسند دھرتی، جسے صوفیاء نے آفاقیت کا رنگ دیا، کو فرقہ پرستی کی آگ میں جھونکنے کا آغاز ضیاء سے پہلے ہو چکا تھا۔ انگریزوں نے جس طرحپنجاب کو غلام بنانے کے لیے پنجابیوں کو زبان اور ثقافت سے دور کرنے کے علاوہ کئی حربے استعمال کئے ضیاء نے اس نیم سلگتی آگ پر سوکھی لکڑیاں بھی رکھیں اور تیل بھی خوب چھڑکا اور مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر کے انتہا پسندی کو عروج بخشا۔ اس کے بعد اشرافیہ اور سیاستدانوں نے اس روش کو آگے بڑھایا۔ جعلی پیروں اور کم علم لوگوں کو معاشرے میں رہنمائی کا فریضہ سونپا گیا۔ لوگ بھی کچھ عقیدت اور کچھ اپنی حاجتوں کے سبب ان کے قریب ہوتے گئے۔ بہت کم ایسی ہستیاں تھیں جنہوں نے علم اور روحانیت کو فروغ دیا اور سرکار دربار سے واسطہ نہ رکھا۔ زیادہ تر ہواؤں کے رُخ بہنے لگے اور پھر سیاسی ایماء پر عقیدت مندوں کو روبوٹ بنانے کا عمل شروع ہوا۔
پنجاب میں تقسیم اور تفریق کا یہ عمل اگر زبان اور کلچر کی بنیاد پر ہوتا تو بھی خیر تھی کہ صوفیاء کی امن پسندی، دھرتی کی میٹھی تاثیر اور لوکائی کی دانش پنجاب کے معاشرے کو آفاقی قدروں سے جوڑتی مگر زبان اور کلچر کی ترقی و ترویج تو ممنوع قرار دی گئی۔ حکمرانوں کو مادری زبان میں خطاب کرنا ناگوارگزرتا رہا۔ کبھی کوئی کلچرڈے منایا گیا نہ ثقافتی سرگرمیوں میں پنجابیت کو اُبھارا گیا جس سے لوگوں میں لطیف احساس اور جمالیاتی قدریں مفقود ہونے لگیں۔ زمین سے جڑے کلچر کی بجائے اسلام کے نام پر اجنبی کلچر کو مسلط کیا گیا۔ نصف صدی کے اس سفر میں پنجابی دن بدن زمین سے دور ہوتے گئے جس کے نتیجے میں ان کے دریا سوکھنے لگے، فصلیں اُجڑنے لگیں اور زمین کے ساتھ ذہن بھی بانجھ ہونے لگے اور دُکھ کی بات یہ کہ انہیں اس نقصان پر کوئی پریشانی ہوئی نہ ندامت۔
اب تو یہ عالم ہے کہ جس طبقے کو ریاست کو نیچا دکھانا مقصود ہو وہ موجود جماعتوں میں سے ایک شاخ یا گروہ کو اُکساتا ہے اور ریاست کے پاس اپنے شہریوں کی جان و مال کی خاطر بپھرے ہوئے ہجوم کے سامنے سرنڈر کرنے اور ان کے مطالبے ماننے کے سوا چارہ نہیں ہوتا حتیٰ کہ پولیس والے بھی ان کے شر سے محفوظ نہیں۔ پون صدی بیت گئی۔ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ گیا۔ نئی نسل تک ہزار سال کا ادب پہنچا نہ ثقافتی قدریں منتقل ہوئیں۔ وہ گملے میں لگے پودے ہیں جن کے پاس فخر کرنے کے لیے کچھ نہیں اس لیے انگریزی پڑھ اور بول کر خود کو مہذب اور اعلیٰ تصور کرنے کی کوشش کرتے ہیں حتیٰ کہ کاغذوں میں سرکاری اور رابطے کی زبان کے مضمون بھی انگریزی ڈکشنری کی مدد سے سمجھتے ہیں۔ اب آج سے بات شروع کرنی ہوگی کہ اس نسل کی کیسے اپنی زبانوں اور ثقافت سے جڑت پیدا کی جائے۔ ان والدین سے مادری زبانوں میں تعلیم کی توقع کیسے رکھی جائے جو پنجابی کا لفظ بولنے پر بچے کے پھول سے رخسار پر تھپڑ رسید کردیتے ہیں۔ پنجابی کے لیے بڑھ چڑھ کر بولنے والوں کے بچوں کے بچے بھی پنجابی نہیں بولتے۔ ایک دائرے میں محدود رہنے سے بات بنے گی نہ زبانی کلامی نعروں سے۔ ضروری ہے کہ دیگر صوبوں کی طرح پنجاب میں بھی پنجابی کو پہلی جماعت سے لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جائے۔ پنجاب میں دیگر اقوام کے لوگ بھی آباد ہیں اس لیے ان بچوں کو بھی اپنی مادری زبان کے انتخاب کا حق ہونا چاہئے۔ سرائیکی کو مردم شماری میں الگ زبان کے طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔ کیا صحیح ہے کیا غلط ہے اس بحث سے نکل کر دیکھنا ہو گا۔ اگر ہم اسی طرح لڑتے رہے تو بیس پچیس سال بعد ہم اپنی مادری زبانیں کھو دیں گے۔ صوبے میں نصاب ایک اوراسکرپٹ مختلف ہو سکتا ہے۔
سیاسی جماعتوں کو مذہبی انتہا پسندی روکنے کے لیے تمام اختلافات بھلا کر ایک پلیٹ فارم پر آنا ہو گا۔ پوائنٹ اسکورنگ ہوتی رہی تو ریاست کمزور ہوتی جائے گی۔ اس ملک کو امن کا گہوارا بنانے اور قومی ہم آہنگی کے لیے رابطے کی زبان کو سرکاری زبان بنایا جائے اور مادری زبانوں کو پوری عزت و تکریم کے ساتھ قومی حیثیت دے کر نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ موجودہ حکومت کا بہرحال یہ عمل قابل تحسین ہے کہ انہوں نے یکساں نظامِ تعلیم کو متعارف کروایا ہے یقیناً اس میں مزید پیش رفت ہو گی اور ہم آہنگی کا سفر مثبت سمت میں آگے بڑھے گا۔ پنجاب میں وزیر اعلیٰ پنجاب جناب عثمان بزدار کی خصوصی ہدایت پر محکمہ اطلاعات و ثقافت نے گزشتہ دو سال سے پنجاب کلچر ڈے منانے کا اہتمام کیا ہے، جو بہت خوش آئند ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)
فیس بک کمینٹ

