کائنات کی ہر تخلیق ظاہر اور باطن کا مجموعہ ہے، پتھر پہاڑ، دریا،سمندر ایک جیسے نظر آتے ہیں مگر ان کے اندر کے رنگ اور ظاہر کے ڈھنگ مختلف ہوتے ہیں۔انسان بھی ایک کائنات ہے،ظاہر و باطن کے علاوہ تیسری قوت وجدان بھی رکھتا ہے لامحدود مابعدالطبیعاتی دنیا تک اسکی رسائی ممکن بناتا ہے۔ کائنات کی طرح انسان کے اندر بھی کئی خوش کن سرسبز جزیرے،پہاڑ،سمندر، خشکی ، بیا با ن ، صحرا اور ریتیلے علاقے ہیں۔اپنی غلطیوں اور سماج کی نامہربانیوں سے کٹھن آزمائش کے مرحلے سے گزرتا رہتا ہے۔ کبھی کبھی من میں اتنی اداسی اور ویرانی ہوتی ہے کہ باہر ہونے والی جل تھل بارش بھی چہرے پر کوئی پھول کھلانے سے قاصر رہتی ہے۔یوں ہم کئی برسوں سے خزاں کی قید میں ہیں۔ستم گر صیاد نے خوشبو دینے والے پھولوں سے ناطہ منقطع کر کے چمن میں خوف و ہراس اور جمود کی فضا طاری کی ہوئی ہے۔آج کل جب بہار ہماری دہلیز پر کھڑی ہے تو ہر طرف خوف و ہراس کی فضا دلوں کو مجروح کئے جاتی ہے۔ ہم بہارکے موسم میں مل کر خوشی کے گیت گانا چاہتے ہیں، محبت کا بھنگڑا ڈالنا چاہتے ہیں مگر روز کے خبرناموں میں معاشی اور سیاسی صورتحال ہمیں مزید تنہا اور دُکھی کئے جاتی ہے۔ کوئی جھوٹی تسلی بھی دینے کو تیار نہیں۔ہم دعا کر سکتے ہیں۔ہر فرد اپنی سطح پر جبر کے پہروں کو توڑنے کی سعی کر سکتا ہے۔ہو سکتا ہےبدلتا موسم ہمارے رویوں سے خوف نچوڑ لے جائے،ہماری سوچ میں تعمیر کا خاکہ رکھ دے۔ ہم بدلتے موسم کے ساتھ دل کے ڈرائنگ روم کو بھی خوشبو بھرے پھولوں سے سجا لیں۔اپنے بگڑتے مزاج کو تبسم سے ہم آہنگ کرلیں۔ اگر غور کریں تو کوئی آہٹ، رنگ اور خوشبو ہر وقت ہمارے آس پاس گھومتی نئے امکانات کے در کھولتی رہتی ہے۔ اگر ہم اداسی کے جال سے نکلنا چاہتے ہیں تو ہمیں خامشی کا حصار توڑ کر چیخنا اور بولنا ہوگا،سماج کی ٹیڑھی میڑھی لکیروں کو پھلانگنا ہوگا۔ وہ عظیم لوگ جو اپنی دھرتی پر ہی آخری سانس لینے کے متمنی ہیں ان کو ہر طرف ایک ہی بحث بے حال کئے جاتی ہے مگر وہ مایوس نہیں ہیں۔
کل کیا ہوگا کی تکرار انہیں مٹی سے بیوفائی پر اکسانہیں سکتی اور جنہیں اس مٹی نے بڑے عہدے دے کر دولت و عزت سے مالا مال کیا، وہ ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی اپنے خذندان کو باہر سیٹ کر دیتے ہیں اور پھر خود بھی اپنے حصے کے قرضے اور گندگی دوسروں کو الاٹ کر کےلمبی پرواز بھرتے ذرا گلٹی نہیں ہوتے۔حالات کی نزاکت کا رونا ہمارا قومی بیانیہ بن چکا ہے۔ ایسا بندوبست کرنے والوں کو اس ملک کے وفاداروں اور جاں نثاروں کا کوئی احساس نہیں۔وہ اتنے نامہربان ہیں کہ پھولوں کے مسلے جانے کاقلق ہی محسوس نہیں کرتے۔ ماحول میں پھیلی یاسیت اور دلوں میں براجمان وحشت ان کے قریب پھٹکنے کی جرات ہی نہیں کرتی۔ اگر ہم من کی دھرتی پر اُگی زہرآلود بُوٹیاں تلف کرکے گلاب اور چنبیلی صفت فصلیں اگانے کا آعاز کردیں تو خزائوں کی بے رحم آزمائشوں سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ ہمیں اپنے اندر باہر کو حسین، سرشاراور مطمئن بنانا مقصود ہے تو پھرفطرت کا شیوہ اپنانا ہوگا۔فطری اصولوں کی پیروی کرناہوگی۔چیزوں کو اصل حالت میں لانا ہوگا۔دولت کی بے جا ہوس میں اندھا ہو کر زیادہ فصل حاصل کرنے کی خواہش میں نہ زمینوں میں زہربھریں اور نہ ہی جانوروں کو ٹیکے لگا کر ان کی ہڈیاں نچوڑیں۔یہ زہر ہماری خوراک کا حصہ ہی بنتے ہیں۔یہی شر ہے۔عدم توازن اول مسئلہ ہے۔ہمارے اوپر خیر کے چشمے لہلہا رہے ہیں انہیں استعمال میں لانا ہمارا کام ہے۔
ان سے اس طرح استفادہ کرنا ہے کہ وہ بھی زندہ رہیں،یہ ہمار ی ذمہ داری ہے۔ اس بار ہم نے بدلتے موسم کے ساتھ خود کو بدلنے کی ابتدا کرنی ہے۔اپنی سوچ،عمل اور جذبوں میں تعمیر کا جذبہ اگانا ہے۔اگر ہم آج سے اپنی دھرتی کے وسائل کو بروئے کار لانا شروع کردیں تو بھوک ہمارے قریب پھٹکنے کی جرات بھی نہ کرے۔اگر ہم اپنے ہنرمندوں کو وسائل مہیا کردیں تو برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کر سکتے ہیں۔ہماری زمین زہر سے پاک ہو گی ،ہم فطرت کے قریب ہوگئےتو ہمارے وجود کو بیماریوں میں جکڑتا فضا میں پھیلا زہر خود بخود مرجائے گا۔کبھی کبھی کوئی ایک فرد معاشرے کی تقدیر بدل کے رکھ دیتا ہے۔اس کی بات ہر فرد کا وظیفہ بن جاتی ہے۔شاید کوئی ایسا رہنما میسر ہو جس کے مثبت عمل اور منصوبہ بندی سے وطن پر چھائی خزاں کا تسلط کم ہو سکے جو ہم سب کو بے حسی کے پنجرے سےنکال کر عمل کی رہگزر پر رواں کر دے۔ہم فارغ بیٹھ کر حالات کا رونا رونے اورایک دوسرسےپر تنقید کرنے کی بجائےجدوجہد میں مصروف ہو جائیں۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)
فیس بک کمینٹ

