ڈاکٹرصغراصدفکالملکھاری

عورت، تعلیم، طاقت اور آزادی۔۔ڈاکٹر صغرا صدف

مسئلہ بہت سیدھا ہے صرف غلط نمبر کی عینک نے اسے ٹیڑھا بنا دیا ہے۔ برابری کا تصور فطرت میں سرے سے مفقود ہے۔ فطرت جو کچھ ہمیں دکھاتی اور سکھاتی ہے اس میں طاقتور کمزور کو کھا جاتا ہے۔ جب عورت اور مرد کے حوالے سے برابری کی بات کی جاتی ہے تو یہ مکمل طور پر انسانی شعور کے ارتقا کا نتیجہ ہے، کلچر اور تہذیب کی ترقی ہے، انسان نے صدیوں کی تعلیم، تجربے اور تہذیب و تمدن کے بعد یہ سیکھا کہ تمام انسان مرد و عورت برابر ہیں۔ یوں برابری کا یہ تصور انسانی تصور ہے جو فطرت کے کسی اور مظہر یا مخلوق میں نظر نہیں آتا۔ یہ فیصلہ ہم نے کرنا ہے کہ اگر ہم نے ایک انسانی معاشرے کو تشکیل دینا ہے تو پھر ہمیں انسانی تصور کے مطابق زندگی گزارنا ہوگی اور اگر جنگل کا معاشرہ ہمارا مقصد ہے تو پھر طاقتور اور کمزور، برتر اور کمتر کی تقسیم کو برقرار رکھنا پڑے گا۔ ہو سکتا ہے کہ بعض معاملات میں مرد جسمانی طور پر عورت سے زیادہ طاقتور ہو، خصوصاً جب عورت حاملہ ہوتی ہے تو وہ سخت کام نہیں کر سکتی، تیز حرکت نہیں کر سکتی، اس وقت مرد اسے جنگل کی آفات سے محفوظ رکھتا تھا، سفر میں اس کا سہارا بنتا تھا لیکن یہ بھی دیکھیے کہ اس دور میں عورت کا کام کتنا طاقتور ہے، وہ بچے کو جنم دیتی ہے، زندگی کو محفوظ کرتی ہے، اب ہمارے آج کے معاشرے کے کچھ اذہان ابھی تک عورت کے اسی کردار تک محدود ہیں جہاں دوسروں کے رحم و کرم پر رہنا اس کی ذمہ داری ہے۔
حالانکہ آج زمانہ بدن سے آگے بڑھ چکا ہے، بدن میں طاقت کے حوالے سے فرق ہو سکتا ہے لیکن ذہن میں نہیں۔ جدید سماج میں جسم کی طاقت سے زیادہ علم و فنون میں مہارت کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اب تمام کام ذہن سے سر انجام دیا جاتا ہے حتیٰ کہ جنگیں بھی میدانوں کے بجائے ذہنوں میں لڑی اور جیتی جاتی ہیں۔ اور اس میں عورت مرد سے کہیں آگے ہے۔ تعلیم یا کسی اور شعبے میں کامیابی کا تناسب دیکھیں تو ہر جگہ عورت نمایاں نظر آئے گی شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے اپنا وقار، آزادی اور خود مختاری حاصل کرنے کیلئے تعلیم کی طرف زیادہ توجہ دی ہے اور اپنی ذہنی صلاحیتوں کو زیادہ بہتر طریقے سے بروئے کار لانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ عورت کی برابری کے برعکس دیے گئے دلائل جہالت اور بدنیتی پر مبنی ہیں۔ بہن، بیٹی کے ہوتے ہوئے عورت کے حقوق کے مطالبے کو بدکرداری سے جوڑنا ذہنی معذوری کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر آج کی عورت کے مطالبات پر غور کریں تو وہ ایک فرد، ایک انسان کے طور زندہ رہنے کی خواہاں ہے۔ وہ چاہتی ہے اسے کمزور، لاچار اور بوجھ بنا کر ترس نہ کھایا جائے، بلکہ سر اٹھا کر جینے اور صلاحیتیں آزمانے کا موقع فراہم کیا جائے۔ مرضی کی شادی، تعلیم کے حق اور معاشرے میں وقار کی تمنا کرنا کیا غلط ہے۔ وہ یہ مطالبہ کرتی ہے کہ نرینہ اولاد کی پیدائش کے لیے اسے سات سات بیٹیاں پیدا کرنے پر مجبور نہ کیا جائے، وہ ہر معاملے میں سر جھکا کر فیصلہ تسلیم کرنے کے بجائے خود اپنی مرضی استعمال کرنا چاہتی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ اگر وہ کسی کو پسند نہ کرے تو دوسرا فریق اس کے انکار کو اپنی بےعزتی سمجھتے ہوئے اس کے چہرے پر تیزاب نہ پھینکے، دو خاندانوں کے درمیان جائیداد کے تنازع کو اس کی قربانی دے کر حل نہ کیا جائے، والدین اپنے گھر میں تمام اولاد کو یکساں نظر سے دیکھیں اور معاشرہ بھی اسی سوچ کو پروان چڑھائے،
عورت نے بہت سی صعوبتیں جھیل کر ترقی کا لمبا سفر طے کیا ہے جس نے اس کے نظریات کو جلا بخشی ہے۔ پہلے عورتیں اپنے بھائیوں سے اپنے حصے کی زمین لینے کو بہت برا خیال کرتی تھیں لیکن پھر ان کے شعور کی ترقی نے انہیں بتایا کہ وہ زمین یا جائیداد جو ان کے باپ کی ملکیت ہے، اس میں ان کا بھی حصہ ہے کیونکہ وہ بیٹوں کے ساتھ بیٹیوں کا بھی والد ہے۔ عورت کے مطالبات میں کچھ غلط نہیں ہے۔ کچھ غلط ذہن بینرز پر لکھے ہوئے جملوں پر اپنے ذہن کی گندگی مل کر انہیں برا بنا کر پیش کرتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب بھی عورت کے حقوق کے حوالے سے بات کی جاتی ہے تو مقدس عقائد کے پیچھے پناہ تلاش کرنے والے متحرک ہو جاتے ہیں اور مکالمہ روک دیا جاتا ہے حالانکہ اس کے تمام مطالبات مذہب نے بھی تسلیم کیے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایک طبقہ عورت کو سماجی، معاشی، معاشرتی حوالے سے خودمختاری کی طرف بڑھتا ہوا کیوں نہیں دیکھنا چاہتا، وہ مسابقت سے کیوں خوفزدہ ہے۔ بہرحال اتنے سالوں کی جدوجہد اور شعور نے آج کی عورت کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہےکہ اب غلامی کی زنجیریں پہن کر جینا اس کے بس میں نہیں رہا۔ وہ بطور انسان جینا چاہتی ہے۔ اس نے کسی ایسے عمل کی نفی نہیں کی جو اس کے وجود کا وظیفہ ہے۔ اس نے بچے پیدا کرنے ترک نہیں کیے، صرف نرینہ اولاد کی خواہش میں درجن بھر بچے اور دوسری شادی کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔ اس نے ونی ہونے، کم عمری میں شادی، تعلیم ترک کرنے، غیرت کے نام پر قتل ہونے اور مالِ غنیمت بننے سے انکار کیا ہے۔ کیا یہ انکار بدکرداری کے زمرے میں آتا ہے؟ اسے نصف کہلانے اور نصف سمجھ کر رویہ رکھے جانے پر اعتراض ہے، بھلا نصف ہستی پورے وجود کو کیسے جنم دے سکتی ہے؟ جب وہ مکمل وجود ہے تو ہر سطح پر اس کی مشاورت کو یقینی بنایا جائے۔
آج 8مارچ ہے، آج اس کو احساس دلائیے کہ وہ کتنی اہم ہے۔ اس کے ذہن کی سلیٹ سے ڈر، خوف اور خدشات زائل کرنے کے لیے پورے معاشرے کو کردار ادا کرنا پڑے گا۔
جنگ اور صلح کے میثاق سے ڈر لگتا ہیے
کر نہ دیں وہ کہیں دشمن کے حوالے مجھ کو
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker