ایک بار پھر سانحہ 9 مئی میں ملوث افراد کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمے چلانے کا معاملہ تعطل کا شکار ہوگیا ہے۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے6 رکنی بنچ نے لارجربنچ بنانے کے لیے اس معاملہ کو ججوں کی سہ رکنی کمیٹی کے پاس بھیج دیا ہے۔ یوں شہریوں کے بنیادی حقوق سے متعلق یک اہم مسئلہ پر ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کوئی حتمی فیصلہ کرنے میں بدستور ناکام ہے۔
گزشتہ سال اکتوبر میں ایک پانچ رکنی بنچ نے فوجی عدالتوں میں شہریوں کے خلاف مقدمے چلانے کو غیر آئینی قرار دیا تھا تاہم اس فیصلہ کے خلاف مرکز، خیبر پختون خوا، بلوچستان اور پنجاب کی نگران حکومتوں نے نظر ثانی کی اپیلیں دائر کی تھیں۔ ان درخواستوں پر غور کرتے ہوئے ایک علیحدہ 6 رکنی بنچ نے پانچ ایک کی اکثریت سے فوجی عدالتوں کو کام کرنے کی اجازت دے دی تھی لیکن یہ ہدایت بھی کی تھی کہ اس وقت تک ان فیصلوں کا اعلان نہ کیا جائے جب تک سپریم کورٹ اس معاملہ پر نظرثانی درخواستوں پر حتمی حکم جاری نہیں کرتی۔
نظر ثانی درخواستوں پر سماعتوں کے دوران میں اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ آرمی چیف نے فوجی عدالتوں سے سزایافتہ 20 افراد کی سزائیں معاف کردی ہیں اور انہیں عید الفطر سے پہلے ہی رہا کردیا گیا تھا۔ البتہ اب بھی ایک سو کے لگ بھگ افراد فوجی عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کررہے ہیں۔ اسی لیے وہ بدستور فوج کی قید میں ہیں۔ اس معاملہ کی سنگینی اور سپریم کورٹ کے ججوں میں اختلافات کی وجہ سے سامنے آنے والی صورت حال میں درحقیقت متاثرہ افراد ہی اصل مشکل میں ہیں جن کے خلاف الزامات پر کوئی فیصلہ نہیں ہورہا۔ دریں اثنا جج، وکیل اور حکومتیں اپنے اپنے نقطہ نظر سے دلائل کے انبار لگا رہی ہیں۔ اس معاملہ میں اگرچہ لارجر بنچ کی درخواست فوجی عدالتوں میں مقدمے چلانے کے خلاف درخواست دائر کرنے والے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے وکیل نے کی تھی لیکن درحقیقت اس معاملہ کو طول دینے میں اصل کردار انتخابات کے انعقاد کے لیے قائم ہونے والی نگران حکومتوں نے ادا کیا ہے۔ اس طرح ایک اہم قانونی و آئینی مسئلہ پر غیر ضروری طور پروقت اور وسائل ضائع کیے جارہے ہیں۔
ملک میں انتخابات کے بعد منتخب حکومتیں کام کررہی ہیں۔ البتہ بنیادی شہری حقوق سے متعلق ایک اہم معاملہ میں خیبر پختون خوا حکومت کے سوا کسی بھی وسری حکومت نے کوئی اصولی مؤقف اختیار کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ خیبر پختون خوا میں امین گنڈا پور کی قیادت میں چونکہ تحریک انصاف کی حکومت قائم ہے، اس لیے نئی منتخب حکومت نے سانحہ 9 کے حوالے سے اصل عدالتی فیصلہ کے خلاف اپیل واپس لینے کا عندیہ دیا ہے۔ البتہ اس اقدام کو سیاسی حوالے سے ہی دیکھا جارہا ہے کیوں کہ گزشتہ سال 9 مئی کو تحریک انصاف کے احتجاج میں ہونے والی توڑ پھوڑ اورعسکری تنصیبات پر حملوں میں تحریک انصاف کے لیڈروں اور کارکنوں پر ہی الزامات عائد ہیں۔ ان میں پارٹی کے بانی چئیرمین عمران خان کے علاوہ خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ امین گنڈا پور بھی شامل ہیں۔
البتہ اس حوالے سے مرکز کی منتخب حکومت یا اس کے زیر نگرانی کام کرنے والی وزارت دفاع نے اس معاملہ کا اصولی جائزہ لینے اور غیر منتخب نگران حکومت کے دور میں دائر کی گئی نظر ثانی اپیلیں واپس لینے کا اصولی فیصلہ نہیں کیا۔ یا اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔ حالانکہ کسی بھی منتخب حکومت کو شہریوں کے حقوق کی حفاظت میں سب سے زیادہ سرگرم ہونا چاہئے۔ اول تو یہی بات ناقابل فہم ہے کہ غیر منتخب نگران حکومتیں جو محض انتخابات کے دوران میں مختصر مدت کے لیے انتظامی معاملات کی نگرانی کے فرائض سرانجام دیتی ہیں، بنیادی حقوق کے حوالے سے ایک اہم معاملہ میں کیسے فریق بن سکتی ہیں۔ البتہ ان کے بعد منتخب حکومت کو اس حوالے سے واضح اور دو ٹوک مؤقف اختیار کرنا چاہئے تھا تاکہ ملک میں سیاسی ماحول میں کشیدگی اور تصاد م کی کیفیت ختم ہوسکے۔ بدنصیبی سے ایسی کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔
یہ معاملہ سپریم کورٹ اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے لیے بھی پریشان کن ہونا چاہئے کیوں کہ عدالت عظمی کے پانچ فاضل ججوں نے اس بارے میں متفقہ حکم جاری کیا تھا لیکن اس فیصلہ کے خلاف نظر ثانی کی اپیلوں کی وجہ سے شہری حقوق سے متعلق یہ اہم معاملہ مسلسل تاخیر کا شکار ہے۔ بنچ بنانے کا فیصلہ کرنے والی سہ رکنی کمیٹی کو ایک پانچ رکنی کے متفقہ فیصلہ کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلیں سننے کے لیے پہلے ہی نو یاا س سے زیادہ ججوں پر مشتمل لارجر بنچ بنانا چاہئے تھا اور یہ اہتمام کرنا چاہئے تھا کہ اس معاملہ پر جلد از جلد فیصلہ ہوجائے تاکہ ایک سنگین الزام میں فوج کی حراست میں لوگوں کی بے یقینی ختم ہو۔ اسی طرح بنچ سازی کے بارے میں سپریم کورٹ کا یہ انتظامی فیصلہ بھی ناقابل فہم ہے کہ پہلے جسٹس طارق مسعود کی سربراہی میں 6 رکنی بنچ بنایا گیا حالانکہ وہ تھوڑی مدت بعد ہی ریٹائر ہونے والے تھے۔ ان کے بعد ایک بار پھر نیا بنچ بنایا گیا لیکن ججوں کی تعداد6 ہی رکھی گئی حالانکہ فل کورٹ یا بڑے بنچ کی درخواستیں سامنے آچکی تھیں۔
نظر ثانی کی درخواستوں پر سماعت کرنے والے 6 رکنی بنچ میں گزشتہ سال اکتوبر کے دوران فوجی عدالتوں میں شہریوں کے مقدموں کے خلاف فیصلہ دینے والے کسی جج کو شامل نہیں کیا گیا ۔ یہ طریقہ بھی تشویش پیدا کرنے کا باعث ہے۔ اس سے سپریم کورٹ میں ججوں کے درمیان اصولی و نظریاتی معاملات پر تقسیم کا تاثر قوی ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ کمیٹی اور چیف جسٹس کو یہ تاثر ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ ججوں کے درمیان قانونی و آئینی تشریحات پر اختلاف تو قابل فہم ہوسکتا ہے لیکن اگر سیاسی نظریات ججوں کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے لگیں تو اس سے پورا نظام انصاف متاثر ہوگا۔ فوجی عدالتوں کے معاملہ کے علاوہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے6 ججوں کی طرف سے عدالتی معاملات میں ایجنسیوں کی مداخلت کے خلاف خط کے معاملہ میں بھی یہی تاثر سامنے آرہا ہے کہ صرف ملک کے وکیل ہی نہیں بلکہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں میں بھی اختلافات کی بنیاد سیاسی وابستگی یا ہمدردی ہے جو ان کے فیصلوں اور اقدامات پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ سپریم کورٹ کو بہر صورت اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ یہ دونوں معاملات جلداز جلد نمٹائے جائیں تاکہ اعلیٰ عدلیہ اور نظام انصاف کے بارے میں پائی جانے والی بدگمانیاں دور ہوں۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کراچی رجسٹری میں ایک معاملہ کی سماعت کے دوران نیول، رینجرز ہیڈ کوارٹرز، گورنر اور سی ایم ہاؤس کے باہر فٹ پاتھوں پر قبضہ کے خلاف ناراضی کا اظہار کیا ہے اور اسے شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی کہا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پبلک پر حملے ہوتے رہیں اور آپ محفوظ رہیں، یہ کہاں کا قانون ہے؟ انہوں نے کہا کہ ’جن اداروں کو سکیورٹی کا مسئلہ ہے وہ اپنے دفاتر کسی دور دراز جگہ پر لے جائیں۔ شہریوں کو پریشان کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی‘۔ ان ریمارکس کی روشنی میں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ قانون و آئین ملک کے عام شہریوں کی حفاظت و سہولت کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ اس لیے جب بنیادی حقوق کے اہم ترین معاملات پر فیصلوں میں عدالتی کھینچا تانی کی وجہ سے تاخیر ہوتی ہے اور مظلوم شہری غیر معینہ عرصہ تک انصاف کے منتظر رہتے ہیں تو اس طریقہ کو بھی قبول نہیں کیا جاسکتا۔
اسی دوران میں ملک کے صنعت کاروں اور تاجروں نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات میں مشورہ دیا ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارت کی بحالی اور عمران خان کے ساتھ مفاہمت کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ ان صنعتکاروں کے خیال میں تجارت و صنعت کے فروغ میں یہ دو عوامل اہم ترین رکاوٹ ہیں۔ تحریک انصاف یا عمران خان کے ساتھ مفاہمت میں سانحہ9 مئی کے حوالے سے قائم ہونے والے مقدمے اہم ترین دشواری بنے ہوئے ہیں۔ حکومت کا فرض ہے کہ یہ رکاوٹ دور کرنے میں کردار ادا کرے۔ اس حوالے سے پہلا قدم تو یہ اٹھایا جاسکتا ہے کہ منتخب حکومتیں اور وزارت دفاع فوجی عدالتوں میں شہریوں کے مقدمات کو ذاتی انا یا سیاسی بقا کا سوال نہ بنائیں بلکہ اسے وسیع تر انسانی و سیاسی حوالے سے سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ خیبر پختون خوا حکومت کی طرح اگر مرکز، پنجاب اور بلوچستان کی حکومتیں اور وزارت دفاع اس معاملہ پر نظر ثانی اپیلیں واپس لے لیں تو سپریم کورٹ کا23 اکتوبر 2023 کا فیصلہ نافذالعمل ہوسکتا ہے اور ایک اہم قانونی گتھی سلجھ سکتی ہے۔ اس اقدام سے ملک میں سیاسی مفاہمت کا سازگار ماحول بھی پیدا ہوگا۔
شہباز حکومت مسلسل معاشی بحالی کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتی ہے لیکن اب تک انہیں اندازہ ہوجانا چاہئے کہ دھاندلی کے الزامات، ایک بڑی سیاسی پارٹی کی شدید مایوسی اور تاجروں میں پائی جانے والے بے چینی کے ماحول میں حکومت یک و تنہا معیشت بحال کرنے کا منصوبہ مکمل نہیں کرسکتی۔ ملکی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے صرف بیرونی سرمایہ کاری اور آئی ایم ایف کو راضی کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ ملک کے شہریوں میں بھی اعتماد اور امید کی کرن روشنی کرنا پڑے گی۔ یہ ضروری کام کیے بغیر نعرے بازی تو کی جاسکتی ہے لیکن عملی طور سے ملک کو آگے لے جانا ممکن نہیں ہوگا۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

