لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہےکہ وزیراعلیٰ کی کرسی اللہ تعالیٰ نے مجھے دی ہے اور مجھے آگ کا دریا عبور کرکے یہاں تک پہنچنا پڑا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پولیس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں پولیس یونیفارم پہن کر شرکت کی۔
پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب میں مریم نواز نے کہا کہ خو شی ہوئی پولیس پاسنگ آؤٹ پریڈ میں 650 خواتین اہلکار شامل ہیں، پولیس میں خواتین اہلکاروں کو ڈیوٹی پر دیکھ کر خوشی ہوتی ہے، آئی جی پنجاب سے کہا ہے کہ 7 ہزار خواتین پولیس اہلکار کم ہیں اس تعداد میں اضافہ ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ آج پہلی بار پولیس یونیفارم پہنا تو اندازہ ہوا کہ یہ کتنی بڑی ذمے داری ہے، آپ کی ہمدردی مظلوم کیلئے ہونی چاہے ظالم کے لیے نہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھاکہ میرے دل میں انتقام کا جذبہ نہیں معاشرے میں انصاف قائم کرنا ضروری ہے، وزیراعلیٰ کی کرسی پر بیٹھ کر اگر کسی کے خلاف کوئی فیصلہ کرنا پڑتا ہے تو دل پر پتھر رکھ کر کرتی ہوں، وزیراعلیٰ کی کرسی اللہ تعالٰی نے مجھے دی ہے اور مجھے آگ کا دریا عبور کرکے یہاں تک پہنچنا پڑا ہے، ان حالات نے میری ٹریننگ کی ہے اور یہ نہیں سننا پڑا کہ نوازشریف کی بیٹی ہوں اس لیے یہاں تک پہنچی ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں گھر جاتی ہوں تو اپنے والد کے ساتھ پورے دن کا احوال شیئر کرتی ہوں اور والد کے چہرے پر تشکر کے تاثردیکھتی ہوں تو لگتا ہے میری محنت کامیاب ہو گئی۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ مجھے احساس ہے کہ انصاف کرنا ہے اور 12 کروڑ افراد کی خدمت کرنی ہے، یہ خواتین گھر کی ذمے داریاں بھی ادا کرتی ہیں اور خوشی ہوئی کہ آج پہلی خاتون پولیس اہلکار کو اعزازی شمشیر عطا کی گئی۔
واضح رہے کہ پنجاب کی وزارت اعلی سنبھالنے کے بعد سے مریم نواز شہ سرخیوں اور سوشل میڈیا کی زینت بنی رہی ہیں جس کی ایک وجہ ان کی میڈیا مینیجمنٹ کو بھی قرار دیا جاتا ہے۔
سکول میں طالبات کو میکڈونلڈز کھلانے کا معاملہ ہو یا پھر ایک سرکاری دورے کے دوران ٹی وی کیمروں کے سامنے خاتون پولیس اہلکار کے سر پر دوپٹہ ٹھیک کرنے کا تنازع، یہ سوال اکثر اٹھتا ہے کہ آیا مریم نواز کارکردگی دکھانے سے زیادہ اپنی تشہیر میں مصروف ہیں اور ایسا کرنے کے فوائد زیادہ ہیں یا نقصانات؟
ان سوالات پر عام لوگ سیاست کی طرح ہی تقسیم ہیں۔ جمعرات کے ہی دن کی بات کریں تو سوشل میڈیا پر سیاسی مخالفین کی جانب سے تنقید کو ایک جانب رکھ کر دیکھیں تو دو قسم کی آرا کا اظہار دیکھنے کو ملا۔
محسن مسعود کا کہنا تھا کہ ’مریم نواز نے آج وہ حاصل کر لیا جو وہ کرنا چاہتی تھیں اور وہ یہ کہ انھیں توجہ ملے اور اب سب ان کی پولیس وردی کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ مارکیٹنگ کی کیا بہترین حکمتِ عملی ہے‘۔
فیصل ڈھکو نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’اگر مریم نواز پولیس کی حمایت میں ایسا کوئی اظہار کرنا چاہتی تھیں تو اس کی ضرورت بہاولنگر کے پولیس تھانے میں تھی جہاں اظہار یکجہتی کی کافی ضرورت تھی لیکن بدقسمتی سے آئرن لیڈی کی جانب سے ایک جملہ بھی سامنے نہیں آیا۔‘
صحافی ماجد نظامی نے بھی لکھا کہ ’کیا پنجاب پولیس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ تقریب میں شرکت کے بعد وزیراعلی مریم نواز شریف بہاولنگر پولیس سٹیشن کا دورہ بھی کریں گی؟‘
فیس بک کمینٹ

