اختصارئےشہزاد عمران خانلکھاری

یاسمین راشد کیسی ڈاکٹر ہیں ؟ ۔۔ شہزاد عمران خان

حساب کاایک فارمولا ہے جس میں دونفی جمع بن جاتے ہیں ، آجکل کورونا کے حوالے سے حکومتی ترجمان اور وزیرصحت کے بیانات دیکھ کر لگتا ہے اور یہ دونوں کسی اور ملک کے اعداد وشماربتا رہے ہیں اورپھرڈاکٹراپنی الگ رائے دے رہے ہیں ۔
ملک بھر کے ڈاکٹرز کے مطابق آئندہ دوماہ کورونا کے حوالے سے انتہائی پریشان کن ہوسکتے ہیں کیونکہ ابھی تک پاکستان کی عوام کورونا وائرس کوسنجیدگی سے نہیں لے رہی۔ وزیر صحت نے دعوی کیا کہ پاکستان میں روزانہ چھ ہزار سے زائد ٹیسٹ کورونا کے ہورہے ہیں جبکہ ڈاکٹر اس حوالے سے کہہ رہے ہیں کہ پنجاب حکومت غلط بیانی سے کام لے رہی ہے۔ اس وقت روزانہ کی بنیاد پرفقط1500ٹیسٹ ہورہے ہیں ۔ان کاکہنا ہے کہ اگرٹیسٹوں کی تعداد بڑھائی جائے تو مریضوں کی تعداد میں بے شمار اضافہ نہ ہوجائے گا۔ڈاکٹر باربار عوام سے گزارش کررہے ہیں کہ خدارا اپنی اور اپنے گھروالوں کی زندگیاں خطرے میں نہ ڈالیں اور احتیاط کے ساتھ گھرو ں میں رہیں۔
دوسری طرف ہماری وزیر صحت جو خودبھی ڈاکٹر ہیں اگر ہم اپنی یادداشتوں کوماضی قریب میں لے جائیں تو جب سابق وزیراعظم نوازشریف کے بیمارہونے کے دعوے کیے گئے ۔ڈاکٹر یاسمین راشد خودروزانہ پریس کانفرنس کرکے ان کی حالت کے بارے میں تشویش کااظہارکرتیں اور کہتی کہ وہ سمجھتی ہیں کہ نوازشریف کی زندگی بچانے کے لئے انہیں ملک سے بھیجناضروری ہے ۔نوازشریف کوطبی بنیادوں پر آزادی کا پروانہ مل گیا اور وہ ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ان کے جانے کے بعد انہوں نے کہاکہ ڈاکٹرنے غلط رپورٹ پیش کی جس کی وجہ سے سابق و زیراعظم ملک سے باہر جانے میں کامیاب ہوگئے۔کورونا کے حوالے سے بھی عوام انتہائی تشویش میں مبتلا ہیں کہ وہ وزیرصحت یاسمین راشد کی باتوں پر اعتبار کریں جو کہہ رہی ہیں کہ پاکستان حکومت نے کورونا کے حوالے کی کافی حد تک کامیابی حاصل کرلی ہے یا ان ڈاکٹروں پر اعتبار کریں جوکسی بااختیار شخص اثرورسوخ رکھنے والی وہ شخصیت جو تین بارملک کے وزیراعظم رہے ان کی رپورٹ کوانتہائی بیمازظاہر کرنے والے ڈاکٹروں پر یقین کریں۔ اگر وزیرصحت اورڈاکٹروں دونوں سچ بول رہے ہیں توپھرجھوٹ کون بول رہاہے۔ملک میں بڑھتے ہوئے کورونا کے مریضوں کودیکھتے ہوئے اس بات کااندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آنے والے وقت میں مریضوں کی تعداد میں خاطرخواہ اضافہ ہوگا اوروینٹی لیٹر کی کمی کے باعث اموت میں بھی اسی تناسب سے اضافہ ہوسکتا ہے۔کچھ بھی ہو ہمیں تو جعلی ڈگری کیسوں والی فضول سی خبریں یاد آ رہی ہیں اور ہم سوچ رہے ہیں یاسمین راشد کیسی ڈاکٹر ہیں ؟

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker