ادبافسانےطلعت جاویدلکھاری

محبت اور گولف(2) ۔۔طلعت جاوید

( گزشتہ سے پیوستہ)
افشیں پارکنگ سے گاڑی لے آئی اور میں اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔ میرا دل چاہتا تھا کہ میں افشیں سے دل کی بات کروں مگر پھر یہ خیال آیا کہیں وہ برا نہ مان جائے اور میں اس نظر کرم سے بھی محروم ہو جاؤں افشیں نے میرے خاندان میرے سٹار، ابتدائی تعلیم اور مشاغل کے بارے میں پوچھا اور اپنے بارے میں بتایا۔ دل چاہتا تھا کہ یہ ملاقات کبھی ختم نہ ہو مگر افشیں گھڑی دیکھتے ہوئے اٹھ گئی کہ ”سر بہت وقت ہو گیا ہے منیجر صاحب ناراض ہونگے۔“ میں بھی بادل نخواستہ اٹھ بیٹھا۔
انہی دنوں گھر میں میرے رشتے کی بات ہو رہی تھی۔ ابا کے کوئی پرانے جاننے والے تھے اماں نے ایک روز میری رائے لینے کے لیے شادی کی بات چھیڑی مگر میں نے صاف انکار کر دیا نجانے کیوں؟ حالانکہ میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ میں افشیں کے ساتھ شادی کروں گا۔ میں نے اماں کو ٹال دیا۔ ”کیا کوئی لڑکی تمہیں پسند ہے جو انکار کر رہے ہو؟“ اماں بولیں ”نہیں بھئی جب کوئی پسند ہو گی تو بتا دوں گا۔“ میں نے اماں سے جان چھڑاتے ہوئے کہا اور وہ میرا چہرہ پڑھتی رہ گئیں اور زیر لب مسکرانے لگیں۔ اس رات مجھے احساس ہوا کہ میں درحقیقت افشیں کے علاوہ کسی اور سے شادی کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔
اس رات ایک عجیب واقعہ ہوا۔ سونے سے قبل مجھے افشیں کا میسج موصول ہوا کہ
”میں اس کے بارے میں کیا سوچتا ہوں کہ میں کیسی لڑکی ہوں آج جو کچھ بھی ہے سچ سچ بتا دو۔“
یہ دراصل دوستوں سے اپنے بارے میں رائے لینے کا ایک عام سا میسج تھا مگر مجھے یوں لگا جیسے افشیں اپنے بارے میں رائے طلب کر رہی ہے۔ میں نے موقع جان کر کہ یہ اپنے جذبات کے اظہار کا مناسب وقت ہے افشیں کو جواب دیا کہ
”میں تم سے محبت کرتا ہوں۔“
میرا خیال تھا کہ فوراً افشیں کا کوئی ڈانٹ پر مبنی جواب آئے گا۔ رات بھر اس کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا تو میرا ماتھا ٹھنکا کہ بات غلط نہ ہو گئی ہو اور افشیں ناراض ہی نہ ہو گئی ہو۔ اس روز افشیں بھی خاموش خاموش سی لگی مجھے ندامت ہوئی اور میں نے رات کے پیغام پر اس سے معذرت کر لی۔ افشیں بولی:
”سر میں آپ سے تفصیل میں بات کرنا چاہتی ہوں۔“
میں ڈر گیا۔ نجانے افشیں کیا کہنا چاہ رہی ہے۔ اس شام بینک کے وقت کے بعد ہم دونوں گلبرگ کے ایک ریستوران میں ملے افشیں اس روز بیحد خاموش تھی اور مَیں اسی قدر نادم۔ میں نے کافی کا آرڈر دیا اور افشیں سے دوبارہ معذرت کرنے لگا افشیں بولی:
”آپ کس بات کی معذرت کر رہے ہیں اپنے جذبات کی؟ کیا یہ آپ کے بس میں ہے؟ کیا آپ میرے بارے میں جو جذبات رکھتے ہیں وہ معذرت کرنے کے بعد ذہن سے نکال سکیں گے؟“
”کبھی نہیں، زندگی بھر نہیں“ میں بولا۔
”تو پھر معذرت کس بات کی کر رہے ہیں؟“ مجھے سمجھ نہ آئی کہ افشیں کیا کہنا چاہ رہی ہے اور مجھے کیا کہنا چاہیے۔
”دیکھیں“ اس بار افشیں نے مجھے سر نہیں کہا۔
”انسان زندگی میں محبت بھی کرتا ہے اور نفرت بھی اسے غصہ بھی آتا ہے اور پیار بھی ہم اپنے جذبے کیوں چھپاتے ہیں؟ ان کے اظہار میں کیوں بخل سے کام لیتے ہیں؟ اپنے جذبوں پر شرمندہ کیوں ہوتے ہیں؟ مجھے دکھ اس بات پر نہیں ہوا کہ آپ نے محبت کا اظہار کیا ہے بلکہ اس بات پر ہوا ہے کہ آپ نے اظہار کر کے اس پر معذرت کی ہے …. میں آپ کے کونسے جذبے کو سچ جانوں؟“
میں بے حد گھبرایاہوا تھا کوئی جواب نہ بن پا رہا تھا کچھ بولنے لگا تو حلق سے آواز نہ نکلی میں بیحد کنفیوزڈ تھا یوں لگ رہا تھا کہ میں محبت کے پہلے معرکے میں ہی افشیں سے شکست کھا گیا ہوں۔ یکدم افشیں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ابھری اور وہ بولی ”میرا خیال ہے میں آپ کی مشکل آسان کر دوں۔ میرا دل کہہ رہا ہے کہ آپ واقعی مجھ سے محبت کرتے ہیں ۔ مگر ایسا کر کے آپ آخر کیا چاہتے ہیں؟“
مجھ سے جواب بن نہ پا رہا تھا ”کیا چاہتا ہوں؟“
”بھئی محبت کا کوئی مقصد تو ہو گا آپ محبت کیوں کرتے ہیں میرے ساتھ صاف بات کریں نا آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟“
”میں بس آپ کو چاہتا ہوں“ میں نے کہا۔
افشیں نے ماتھے پر ہاتھ مار کر کہا ”وٹ اے سمپلی سٹی“
”بھئی مجھے چاہ کر کیا چاہتے ہیں واضح بات کریں نا تاکہ میں آپ کی بات کا جواب دے سکوں۔“
”شادی“ میں نے یکلخت کہا اور میز سے اٹھ کر ریستوران سے باہر جانے لگا تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا۔ مجھے افشیں کے قہقہوں کی آواز دروازے تک آ رہی تھی میں بیحد پریشان تھا مجھے افشیں کے رویے کی سمجھ نہ آ رہی تھی مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ میرا مذاق اڑا رہی ہو۔ میں نے گاڑی سٹارٹ کی تو یکلخت میرے موبائل پر میسج کی Beep ہوئی دیکھا تو افشیں کا میسج تھا۔ اس نے لکھا تھا “Proposal Accepted”۔
حیران کن بات یہ تھی کہ اگلے روز افشیں نے بینک میں کیک منگوایا اور سب کو بتا دیا کہ اس کی منگنی ہو گئی ہے خدا کا شکر ہے اس نے یہ نہیں بتایا کہ اس نے میری پرپوزل مان لی ہے۔ وہ یہ بھی کر سکتی تھی اور بینک میں میری خوب گت بنتی۔ اب میرے اور افشیں کے درمیان اس معاملے پر کھل کر بات ہونے لگی اس نے کہا ” دیکھو میں نے تمہاری بات مان لی ہے اب تمہیں بھی میری کچھ باتیں ماننا پڑیں گی ہم دونوں شادی پر راضی ہیں مگر ہمیں مل کر اس کو ممکن بنانا پڑے گا۔ تمہیں میرے ابا کو راضی کرنا ہو گا اور وہ نہایت اعلیٰ گولفر ہیں تم بھی اگر ترقی کر جاؤ اور گولف کے چیمپئن بن جاؤتو صرف اسی صورت میں میرے ساتھ شادی کر پاؤ گے۔“ میرے متغیر چہرے کے تاثرات دیکھ کر افشیں نے وضاحت کی۔ ”شادی میں یقینا ًتمہارے ساتھ کروں گی مگر جتنی جلدی اپنے اہداف حاصل کر لوگے اتنی جلدی مجھے پا سکو گے ”گو اہیڈ ینگ مین“ افشیں نے مجھے کمانڈروں کی طرح حکم دیا …. ”عجیب لڑکی ہے“ میں نے دل میں سوچا ”اس کے سامنے تو میری ساری خود اعتمادی ہوا ہو جاتی ہے“
گولف کلب کے ’فیئر وے‘ نہایت خوبصورت تھے سر سبز میدان ہرے بھرے درخت خوشنما جھیلیں۔ بڑی میخ جیسی پلاسٹک کی ”ٹی“ کو زمین میں گاڑا گیا اور اس پر گولف کا بال رکھا۔ یہ فیئر وے میں جانے کا پہلا روز تھا۔ میری فلائٹ میں تمام لوگوں کی نگاہیں بال پر گڑی تھی۔ میں نے Stance لیا دونوں پاؤں برابر رکھے ایلمونیم کا وڈ شانوں سے اوپر لا کر ایک خوبصورت Swing کا اعادہ کیا اور شاٹ لگا دی۔ وڈ بال سے ذرا اوپر سے آگے کو نکل گیا۔ اور شاٹ مس ہو گئی۔ سونگ تو نہایت خوبصورت تھا مگر بال ابھی ٹی پر دھری تھی۔ میں نے کھسیانا ہو کر ادھر اُدھر دیکھا مگر سب بظاہر نارمل تھے۔ بریگیڈئر آفندی نے کہا ”بال کو ہٹ کریں اپنی نگاہیں اور توجہ بال پر رکھیں۔“ میں نے دوسری شاٹ لگائی تو وہ زمین پر لگی اور تقریباً ایک فٹ گھاس اڑ گئی۔ میرے پسینے چھوٹ گئے اور شرمندگی میں سر اٹھا کر ادھر اُدھر دیکھا میری فلائٹ کے تمام کھلاڑی مجھے شرمندگی سے بچانے کے لیے دوسری طرف دیکھ رہے تھے۔ بریگیڈئر آفندی بولے ”ایک اور شاٹ لگائیں اور نروس بالکل مت ہوں آج آپ کا پہلا دن ہے۔“ میں نے دیکھا تو ٹی ندارد۔ بال بھی کہیں جھاڑیوں میں گم ہو گیا تھا۔ کیڈی نے دوسری ٹی اور ایک نیا بال نکال کر دیا اور میں پھر شاٹ لگانے کی تیاری کرنے لگا ایک چھوٹی سی سورت پڑھ کر تیسری بار شاٹ لگائی تو بریگیڈئر آفندی کے منہ سے عجیب طرح کی آواز نکلی ایک سسکی بھری چیخ جیسی۔ بریگیڈئر آفندی میرے پیچھے اس انداز میں کھڑے تھے کہ بال کا ان کی طرف جانا قطعی ناممکن تھا وہ اپنا بایاں بازو چینک کے کنڈے کی طرح کولہے پر رکھ کر کھڑے تھے کہ میرا بال اس کنڈے کے درمیان میں سے ہوتا ہوا کلب کی چھت پر چلا گیا تھا۔ میں نے دیکھا کہ ان کی مونچھیں تھرتھرا رہی تھیں۔ مجھے اپنی رقم اور افشیں سے رشتہ ڈوبتے نظر آئے۔ بریگیڈئر آفندی نے بمشکل چہرے پر مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا ”کوئی بات نہیں ایسا ہو جاتا ہے ۔ اب ایسے کریں کہ بال کو ہلکی سی ہٹ لگا دیں تاکہ سب آگے چلیں۔“
اب بریگیڈئر آفندی کی باری تھی انہوں نے بیش قیمت وڈ کو مخملی غلاف سے نکالا اسے ملائم رومال سے صاف کیا اس اثناءمیں ان کا کیڈی ایک بیش قیمت بال ٹی کے اوپر رکھ چکا تھا۔ بریگیڈئر آفندی نے جب ٹی شاٹ لگائی تو ہر طرف سے آوازیں آئیں ”شاٹ“ یہ تعریف کا ایک انداز تھا۔ بریگیڈئر آفندی ایک منجھے ہوئے کھلاڑی تھے اور ان کی پہلی شاٹ ہی گرین کے قریب جا کر رکی۔ جبکہ مجھے گرین تک جانے کے لیے مزید دس شاٹیں لگانا پڑیں۔ بریگیڈئر آفندی نے سب سے چھوٹی سٹک (آئرن) سینڈ سے نہایت خوبصورت دوسری شاٹ لگائی جو ”ہول“ سے صرف ایک فٹ کے فاصلے پر جا کر گری اور ساکت ہو گئی۔ میری شاٹ گرین عبور کر کے دوسری طرف ریت سے بھرے ہوئے ”بنکر“ میں جا کر گری تھی۔ اب تک بریگیڈئر آفندی مجھے نظر انداز کر چکے تھے۔ میں نے دیکھا کہ بریگیڈئر آفندی پاؤں کی ٹو اور ہتھیلیوں کے بل گرین پر دراز اپنے بال اور ہول کے درمیان کی جگہ کا معائنہ کر رہے ہیں اور پھونکیں مار مار کر تنکے اور پتے ہٹا رہے ہیں۔ ساڑھے چھ فٹ لمبے اور اڑھائی فٹ چوڑے بریگیڈئر آفندی اس حالت میں کوئی عجیب سی مخلوق لگ رہے تھے مجھے یکدم دریائی گھوڑے کا خیال آیا اور میری ہنسی نکل گئی بریگیڈئر صاحب نے چہرہ میری طرف گھمایا اور بولے ”یہ دراصل بیحد “complex” شاٹ ہوتی ہے۔ اس کے بعد اٹھے اپنا ”Putter“ دونوں پاؤں کے ساتھ رکھا اور گھڑی کے پنڈولم کی طرح سونگ کرتے ہوئے ہلکی سی چوٹ لگائی۔ بال سیدھا ہول میں چلا گیا۔ ہر طرف سے آواز آئی ”پَٹ“ یہ تعریف کا ایک اور انداز تھا۔ مجھے ہول تک پہنچنے میں مزید چار شاٹیں لگانا پڑیں۔ میرے موبائل پر میسج کی Beep آئی دیکھا تو افشیں نے پیغام بھیجا تھا ‘very bad’ افشیں نجانے کہاں سے میرا کھیل دیکھ رہی تھی۔
پہلے ہول میں ہی میرا وزن کافی کم ہو گیا تھا۔ کہیں تو میں عالمی چیمپئن ٹائیگروڈ کی طرح ایکشن بنا بنا کر کھیل رہا تھا اور اب بریگیڈئر آفندی کے سامنے نہایت عاجزی سے کھیلنے لگا۔ بریگیڈئر صاحب کو اندازہ تھا کہ میں نروس ہو رہا ہوں انہوں نے میرے ساتھ باتیں کرنا شروع کر دیں۔ ”آپ کہاں کام کرتے ہیں؟ “ میرا ماتھا ٹھنکا کہ اب بریگیڈئر صاحب میری اصلیت سے واقف ہونے والے ہیں ”جی ایک بینک میں کام کرتا ہوں“ میں بولا ”ایک بینک میں؟ بھئی کوئی نام تو ہو گا اس بینک کا؟“ میں نے ہلکے سے بینک کا نام بتایا۔ ”اوہ اچھا وہاں تو میری بیٹی بھی کام کرتی ہے کیا نام بتایا آپ نے بینک کا“ میں نے دوبارہ بتایا ۔ ”ہاں وہی تو ہے“ وہ بولے ”اچھا جی؟“ میں نے روہانسا ہو کر کہا۔ ”تو آپ افشیں کو نہیں جانتے ابھی میرے ساتھ آئی ہے گولف کھیلتی ہے“ بریگیڈئر صاحب حیران ہو کر بولے۔
”جی نہیں میں نہیں جانتا“ میں صاف مکر گیا مگر مجھے احساس ہوا کہ گمبھیر معاملہ ہے میرا جھوٹ پکڑا جائے گا لہٰذا لہجے میں حیرت پیدا کرتے ہوئے بولا ”اچھا وہ جو ابھی آپ کے ساتھ آئی تھیں مجھے لگتا ہے انہیں کہیں دیکھا ہے۔“ برگیڈئر صاحب نے پرکھنے کے انداز میں مجھے دیکھا اور کہنے لگے ”گولف توجہ مرتکز کرنے کا بہترین ذریعہ ہے آپ بال کی طرف توجہ دیں اور شاٹ لگائیں ہمیشہ کامیاب ہوں گے۔ آپ کے لیے گولف بے حد ضروری ہے۔“
میں نے افشیں کو نظر بچا کر میسج کیا ”چوری پکڑی گئی ہے محتاط رہنا۔“ اس کا فوراً جواب آ گیا ”فی الحال کوئی چوری نہیں کی، تم دھیان سے کھیلو۔“
( جاری )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker