ادبافسانےطلعت جاویدلکھاری

محبت اور گولف(1) ۔۔طلعت جاوید

گولف کلب کے خوبصورت لان میں بریگیڈیئر آفندی کھیل کے اصول و ضوابط پر لیکچر دے رہے تھے ہم تین افراد اس روز نئے ممبر بنے تھے جبکہ بقیہ لوگ سالہاسال سے گولف کھیل رہے تھے مگر وہ بھی بریگیڈیئر آفندی کی باتوں کو نہایت غور سے سن رہے تھے موصوف کلب کے صدر اور سٹیشن کمانڈر تھے اور سامعین ان کے ماتحت ۔
”میجر طلحہ“! بریگیڈئر آفندی بلند آواز میں پکارے۔ ”بھئی جلدی سے ٹی بریک کا بندوبست کرو“، ”یس سار“ میجر طلحہ نے واش روم میں سے جواب دیا۔ معلوم ہوا کہ فوجی اصطلاح میں ”ٹی بریک“ سول لوگوں کی ”ہائی ٹی“ کو کہتے ہیں۔ بریگیڈئر آفندی اس روز بھرپور مہمان نوازی کے موڈ میں تھے ۔ پیاز کے گول گول لچھے بیسن میں ڈبو کر فرائی کئے ہوئے آئے تو بریگیڈئر آفندی نے ویل ڈن کا نعرہ لگایا اور انگلی سے ایک گرم گرم لچھا اٹھایا اور گھماتے ہوئے بڑی بڑی مونچھوں کے نیچے منہ میں دبا لیا ”ویری کرسپی“ اور ہمیں ہاتھ کے اشارے سے شرکت کی دعوت دیتے ہوئے پلیٹ ہمارے آگے سرکا دی۔ ذرا سی دیر میں تکے کباب پکوڑوں اور سینڈوچ کی قابیں بھی میز پر آ گئیں ۔ بریگیڈئر آفندی مزید مہمان تلاش کرتے ہوئے ادھر اُدھر دیکھنے لگے ”فلائٹ آ رہی ہے “ وہ بولے۔ میں نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا آج تو فلائٹ ساڑھے سات بجے آئے گی ۔ ائرپورٹ گولف کلب کے نواح میں واقع تھا۔ بریگیڈئر آفندی نے میری طرف جھکتے ہوئے کہا ”گولف کی ٹیم کوفلائٹ کہتے ہیں ۔“ فیئر وے میں دیکھا تو آٹھ دس لوگ آتے ہوئے نظر آئے۔ دور سے یوں لگ رہا تھا جیسے بکریوں کا ریوڑ ہے اور لوگ بکریوں کو گردن سے پکڑے ہوئے چلے آ رہے ہیں ۔ بقرعید قریب تھی اور ایسے مناظر اکثر سڑکوں پر نظر آتے تھے ۔ یہی فلائٹ تھی جس کا بریگیڈئر آفندی ذکر کر رہے تھے۔ چار عدد کیڈی اپنے کھلاڑیوں کے گولف ٹرالی بیگ لیے آ رہے تھے اور ان کے ہمراہ کھلاڑی تھے۔ محفل برخواست ہونے سے قبل بریگیڈئر آفندی نے ہمیں ڈریس کوڈ کے بارے میں بتایا ”کالر والی ٹی شرٹ پتلون کے اندر …. ڈریس ٹراؤزر ہونا چاہیے۔ جینز کی اجازت نہیں ہے۔ سر پہ فیلٹ ہیٹ یا پھر بیرٹ“ کوچ کو بلا کر ہدایت دی ”حاجی صاحب انہیں دو ماہ تک پریکٹس ایریا میں ٹریننگ دے کر اندر بھجوائیں“۔ ”اوکے جنٹلمین گڈ بائے“۔ بریگیڈئر آفندی نے عجلت میں محفل برخواست کی اور روانہ ہو گئے۔ ہماری امیدوں پر اوس سی پڑ گئی۔ دو تین ماہ پریکٹس پھر فیئر وے میں جانے کی اجازت ملے گی؟
…. میں نے دل ہی دل میں افشیں کو کوسا مگر مجھے علم تھا کہ پریکٹس کے بغیر مشن ادھورا رہ جائے گا۔
افشیں بنک میں میری کولیگ تھی اور بریگیڈئر آفندی کی لاڈلی صاحبزادی۔ وہ خود بھی خواتین کی ٹیم میں گولف کھیلتی تھی۔ اس نے واضح کر دیا تھا کہ اگر ابا کی خوشنودی حاصل کرنا ہے تو گولف کھیلنا پڑے گی۔ تجویز بری نہ تھی اگر میاں بیوی دونوں گولف کے کھلاڑی ہوں تو زندگی خوب مزے میں گزرتی ہے۔ جب دل چاہے کھیلنے چلے جائیں اور جب تک چاہے کھیلیں کوئی ڈر خوف نہیں میں نے چشم تصور میں خود کو اور افشیں کو ایک ہی فلائٹ میں دیکھا بلکہ فلائٹ تھی ہی ہم دونوں کی میں تصورات میں کھویا ہوا تھا کہ بریگیڈئر آفندی کی گونج دار آواز سنائی دی ”ہیلوجنٹلمین“ وہ میز پر رکھا اپنا موبائل اٹھانے واپس آئے تھے اور مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھائے کھڑے تھے۔ دل تو چاہا کہ عقیدت سے ان کے ہاتھ چوم لوں، وہ افشیں کے ابا تھے اور ہمارا مستقبل ان کے ہاتھ میں تھا مگر دونوں ہاتھوں سے مصافحے پر ہی اکتفا کیا۔ بریگیڈئر صاحب میری نیازمندی اور اطاعت گزاری پر بے حد خوش ہوئے اور جاتے ہوئے تھپکی بھی دی گولف کلب سے باہر نکلتے ہی افشیں کو میسج کیا کہ “Object Achieved” ذرا سی دیر میں جواب آ گیا کہ ”ویل ڈن“۔
بنک کی ملازمت بھی عجیب ہے وہی وقت گولف کھیلنے کا ہوتا ہے اور وہی بینک کی کلوزنگ کا۔ مغرب سے پہلے یہ کھیل ختم کرنا پڑتا ہے۔ جاڑوں میں تو انسان لنچ کر کے فوراً گولف کلب چلا جائے تو مناسب وقت ملتا ہے یہ گیم شاید مصروف لوگوں کے لیے نہیں بنی اسی لیے اسے بادشاہوں کی گیم کہتے ہیں۔ عمر کی کوئی قید نہیں آٹھ سال سے اسی سال تک کا انسان گولف کھیل سکتا ہے۔ ٹیم کے سائز اور کھیل کے دورانیے کی بھی کوئی قید نہیں اکیلے بھی کھیل سکتے ہیں اور چار کھلاڑی بھی۔ اکیلے ہوں تو جب چاہیں اور جب تک چاہیں کھیلیں۔
جونہی سہ پہر ہوتی افشیں گھڑی کی طرف اشارہ کرتی یا میسج بھیج کر یاد کرا دیتی کہ اٹھو گولف کا وقت ہو گیا ہے مگر اٹھنے کا موقع ہی نہ ملتا تھا۔ دل بہت کڑھتا کہ ممبر شپ فیس اور گولف کی کٹ پر دو لاکھ روپے خرچ ہو گئے تھے اگر یہی حال رہا تو نہ گولف کھیلی جائے گی اور نہ ہی افشیں ہاتھ آئے گی۔ کئی بار سوچا کہ بینک کی ملازمت چھوڑ دوں ایک پچھتاوا بھی ہوتاکہ کاش میں فوج میں چلا گیا ہوتا گولف کھیلنے کا وقت بھی مل جاتا اور افشیں سے شادی کے چانسز بھی بڑھ جاتے۔ بہرحال یہ طے پایا کہ ہفتہ اور اتوار بینک کی چھٹی ہوتی ہے لہذا خوب پریکٹس کریں گے ۔ دو ماہ خوب محنت کی اور اس قابل ہو گیا کہ فیئر وے میں جا سکوں۔ افشیں نے بتایا تھا کہ وہ بھی ابا کے ساتھ شام کو گولف کلب آئے گی میں بہت خوش ہوا ۔ افشیں نے خبردار کیا کہ ”اگر ابا کو علم ہو گیا کہ تم میرے بینک میں کام کرتے ہو مجھے جانتے اور میری خاطر گولف کھیلنے آتے ہو تو وہ کھڑے کھڑے تمہیں کلب سے نکال باہر کریں گے بلکہ ہو سکتا ہے کہ عقوبت خانے میں ڈال دیں۔ لہٰذا نو لفٹ۔“
”لو بھئی یہ بھی اچھی رہی اس طرح تو کبھی ہم بات بھی نہیں کر سکیں گے۔ یہ کیا عذاب ہے۔“
میں نے غصے میں جھنجھلاتے ہوئے کہا۔ افشیں نے مسکراہٹ لبوں پر لاتے ہوئے کہا:
”Relax مائی فرینڈ گیم پلان کے مطابق چلو گے تو کامیاب ہو جاؤ گے۔ بھئی تم مجھے دیکھ تو سکتے ہو کبھی بات بھی کر سکتے ہو بس یہ خیال رہے کہ ابا یہ نہ سمجھیں کہ یہ ایک گیم پلان ہے۔ وگرنہ ’وار گیم‘ ہو جائے گی۔“
افشیں اکثر بریگیڈئر آفندی کے ساتھ گولف کلب میں آتی مگر الگ سے خواتین کی ٹیم بنا کر کھیلتی تھی اور مجھ سے کلب میں یوں اجنبی بن جاتی جیسے جانتی تک نہ ہو۔ مجھے بے حد غصہ آتا کہ بینک میں تو میرے ساتھ ڈھیروں باتیں کرتی ہے دن بھر میسج کرتی رہتی ہے موبائل پر کالیں کرتی ہے اور سامنے آ کر یوں بن جاتی ہے جیسے پہلے کبھی مجھے دیکھا ہی نہ ہو۔
افشیں کنیرڈ کالج سے گریجوایشن کر کے بطور ٹرینی آفیسر بینک میں آئی تھی کھلتا ہوا رنگ، لانبا قد نیلگوں آنکھیں لمبے براؤن بال نہایت پر اعتماد اور باریک بیں، جو بھی لباس پہن لے وہ اس پر جچ جاتا تھا اس کی طبیعت ایسی تھی کہ کوئی اس کے ساتھ بے تکلف ہونے کی کوشش نہ کرتا تھا اور اگر کوئی کوشش کرتا بھی تو اس کا رویہ ایسا ہوتا کہ وہ خود بخود خجل ہو جاتا افشیں کو زبان سے ایک لفظ بھی نہ کہنا پڑتا۔ میں آفیسر گریڈ میں تھا۔ افشیں کو میرے سیکشن میں بطور ٹرینی آفیسر تعینات کیا گیا تھا جبکہ ہر آفیسر کی خواہش تھی کہ وہ اس کے سیکشن میں کام کرے۔ افشیں جب سے بینک میں آئی تھی تمام آفیسران یکدم سمارٹ ہو گئے تھے کاٹن کی کرسپ شرٹیں عمدہ ٹائیاں بڑھیا کف لنکس اور پالش کئے ہوئے جوتے۔ افشیں کی انگلش میں گفتگو نے سارے عملے کو درست لہجے میں انگریزی بولنے پر مائل کر لیا تھا۔ حسد کی ماری خواتین اہلکار درپردہ تو افشیں کو باتیں بناتیں مگر خود بھی اپنی وضع قطع اور تراش خراش کا خیال رکھنے لگی تھیں۔ منیجر صاحب جو پچاس کے پیٹے میں تھے یکدم سفاری سوٹ ترک کر کے ”مارک اینڈ سپنسر“ کے سوٹ پہننے لگے۔ افشیں نے پورے بنک کا کلچر تبدیل کر دیا تھا۔
افشیں میرے سیکشن میں آئی تو مجھے اچھا لگا۔ وہ بیحد مودب تھی پوری لگن سے کام کرتی تھی ذاتی تعلقات اور کام میں توازن رکھتی تھی۔ یہ ماڈرن اور پڑھی لکھی لڑکیوں کا خاصہ ہے۔ میرا تعلق ایک متوسط گھرانے سے تھا سرکاری اسکول اور کالج سے تعلیم حاصل کی خاندان میں کسی لڑکی سے بات کرنا انتہائی ناگوار سمجھا جاتا تھا۔ اپنی کزنوں سے تو اور بھی زیادہ محتاط رویے میں بات کی جاتی کہ کوئی بڑا دیکھ لے گا تو کیا کہے گا۔ کسی لڑکی سے بات کر لیتے تو ہفتوں احساس جرم نہیں جاتا تھا۔ یہ خوف لاحق رہتا کہ کسی نے دیکھ نہ لیا ہو ۔ طبیعت میں ہر وقت عجب نوعیت کی شرمندگی طاری رہتی تھی۔ افشیں میرے سیکشن میں آئی تو میں بھی نادانستہ احساس جرم، شرمندگی اور خوف کا شکار ہو گیا۔ اسے مس صاحبہ کہہ کر پکارتا کہ مبادا نام لینے سے وہ ناراض نہ ہو جائے۔ کلام اس وقت کرتا جب آس پاس دو چار افراد کھڑے ہوں اور اس قدر بلند آواز میں بات کرتا کہ پورے سیکشن میں سیاق و سباق بھی سنائی دے جائے کہ میں دفتری معاملات کی بات کر رہا ہوں کوئی ایسی ویسی نہیں۔ کبھی افشیں اور میں سیکشن میں اکیلے رہ جاتے تو میری خواہش ہوتی کہ فوراً وہاں کوئی آ جائے وگرنہ میں خود اٹھ کر کہیں چلا جاتا تھا۔ بینک سے چھٹی کے وقت اکٹھے باہر نکلتے میں ذرا دیر رک جاتا اور افشیں کو پہلے جانے دیتا کہ بینک والے یہ نہ سمجھیں کہ ہم اکٹھے جا رہے ہیں۔ کئی بار جب میری کار ورکشاپ میں ہوتی تو افشیں مجھے ڈراپ کرنے کی پیشکش کر دیا کرتی اور میں بہانہ بنا دیتا کہ ابھی ایک کزن مجھے لینے آئے گا جبکہ اس کے جانے کے بعد میں رکشہ پر سوار گھر جاتا تھا۔ میری شدید خواہش ہوتی تھی کہ بینک کا کوئی افسر یا اہلکار افشیں سے گفتگو نہ کرے اور اگر کوئی ایسا کرتا تو میں کان لگا کر سنا کرتا تھا۔ میں افشیں کے سلسلے میں بہت Possessive تھا۔
افشیں میری کولیگ اور ماتحت تھی مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ مجھے اچھی لگنے لگی تھی۔ لاشعوری طور پر ہر وقت اس کے بارے میں سوچنے لگا صبح اٹھتے ہی مجھے اس کا خیال آتا دن بھر میں اس کی یادوں میں کھویا رہتا اور رات کو سونے سے پہلے تک اس کے بارے میں سوچتا رہتا تھا ۔ زندگی میں پہلی بار ایسا ہوا کہ مجھے عشقیہ اشعار اور محبت بھرے نغمے یاد آنے لگے، گلاب کے پھول اچھے لگنے لگے، اچھے اچھے پرفیوم خرید کر لگانے لگا۔میرا دل چاہتا تھا کہ کبھی میں افشیں کو گلاب کا پھول پیش کروں مگر اپنے مرتبے اور عزت کی خاطر خاموش رہتا تھا۔ کبھی کبھار افشیں کا موبائل میسج بھی آ جاتا کوئی دعا کوئی قول اس کے جواب میں کبھی میں بھی کوئی محتاط سا میسج بھیج دیتا تھا۔ دراصل میں اسے چاہنے لگا تھا اور میری چاہت میں بتدریج شدت آ رہی تھی میں اسے اپنے جذبوں سے آگاہ کرنا چاہتا تھا مگر کوئی مناسب موقع نہ ملتا۔
ایک روز جب افشیں کا رزلٹ آیا اور وہ پاس ہو گئی تو میں نے اس سے ٹریٹ کا مطالبہ کیا اور دل میں سوچنے لگا کاش ہم دونوں کسی ریستوران میں اکٹھے لنچ کر سکیں۔ میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب لنچ کے وقت افشیں نے کہا:
”سر آج کا لنچ میری طرف سے۔ ایک اچھا ریستوران کھلا ہے اگر آپ مناسب سمجھیں تو وہاں چلتے ہیں جلد واپس آ جائیں گے۔“
اس پیشکش کو ٹھکرانا کفران نعمت تھا لہٰذا میں نے حامی بھر لی۔ افشیں سے کہا:
”میں دس منٹ پہلے نکلتا ہوں وہاں ٹیبل بک کرا لیتا ہوں آپ دس منٹ بعد آ جائیے گا۔“
”وہ کیوں سر؟ ہم اکٹھے ہی چلیں گے آئیے نہ میری گاڑی میں چلتے ہیں۔“
میں چکرا سا گیا:
”وہ دراصل بینک کے لوگ بہت شکی ہیں نجانے کیا سمجھیں گے میں اس لیے کہہ رہا تھا بہرحال جیسے آپ کی مرضی“ میں نے کہا۔
افشیں حیران سی رہ گئی
”سر آپ میرے باس ہیں وہ کیوں ایسا سوچیں گے“۔
( جاری )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker