کالمکھیللکھاری

سمیع چوہدری کا کالم: کپتان جی! فکسر مافیا کو بھی لٹکائیں

’یہ اپُن کا ایریا ہے، ادھر مستی کرنے کا نہیں، میٹر آؤٹ ہو گیا تو بھیجہ بُھون دیں گے۔۔۔ خلاس۔‘
اس طرح کے ڈائیلاگ نوے کی دہائی کی بالی ووڈ فلموں میں سننے کو ملتے تھے۔ تب ہم سمجھا کرتے تھے کہ یہ سب کچھ صرف فلمی دنیا میں ہوتا ہے، حقیقت میں ایسا ویسا کچھ نہیں ہے۔مگر اب عاقب جاوید کی باتیں سنیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ فلمی دنیا تو کچھ بھی نہیں، اصل فلمیں تو ہمارے اردگرد چل پھر رہی ہیں۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہم انھیں فلمی ہیروز سے کچھ زیادہ قدر و منزلت دے کر قومی ہیروز کے سنگھاسن پر بٹھا ڈالتے ہیں۔عاقب جاوید کہتے ہیں کہ انھیں میچ فکسنگ سے انکار پر قتل کی دھمکیاں ملیں اور اس پر بھی بات نہ بنی تو ڈریسنگ روم میں ان کا سماجی بائیکاٹ کر کے انھیں قبل از وقت ریٹائرمنٹ پر مجبور کر دیا گیا۔
گویا ہر کونے کھدرے سے نکلے الزامات کا لوٹا جتنا بھی گھمایا جائے، گھوم پھر کر وسیم اکرم کی طرف آتا ہے۔
ابھی چار دن پہلے سابق چیئرمین پی سی بی خالد محمود بولے کہ عطا الرحمان بیان نہ بدلتے تو وسیم اکرم تاحیات پابندی کی زد میں آ جاتے۔عطا الرحمان نجانے زندگی کی کن بھول بھلیوں میں ٹیکسی چلاتے پھر رہے ہیں مگر عامر سہیل کا شکوہ بھی بجا ہے کہ انھی کے شریکِ جُرم کو صدارتی ایوارڈ سے کیوں نواز دیا گیا؟
ہلالِ امتیاز ان کے سینے پر سجانے والے صدر عارف علوی تھے، جو صدر ہیں اس وزیرِ اعظم کے جو یہ کہہ کر ووٹ مانگتے تھے کہ کسی مافیا کو نہیں چھوڑوں گا۔
عاقب جاوید کے بقول فکسنگ نیٹ ورک ایک بہت بڑا مافیا ہے۔ جو نقشہ وہ کھینچتے ہیں، اس کے مطابق یہ بالی وڈ فلموں میں دکھائے گئے مافیا کی اصلی شکل ہے جہاں آتے سب اپنی مرضی سے ہیں مگر جا کوئی نہیں سکتا۔
بھلا ہو مظہر عباس کا کہ ایک نجی ٹی وی شو میں عامر سہیل کے دل کی بات کہہ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جو فکسرز ہیں، ان کے روابط بہت اوپر تک ہیں، اس میں بڑے بھاری بھر کم سرمایہ دار ملوث ہیں، یہاں تک کہ کرکٹ بورڈ میں بھی ان کے روابط ہیں۔
فکسنگ مافیا کے کرکٹ بورڈ سے روابط بارے چہ میگوئیاں کوئی نئی بات نہیں۔ باسط علی بھی کہہ چکے ہیں کہ دانش کنیریا کے معاملے میں پی سی بی نے ناانصافی صرف اس لیے روا رکھی کہ بات کھلتی تو کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے۔
عامر سہیل تو کچھ روز پہلے یہاں تک کہہ گئے کہ سلیم ملک نے انھیں کہا ’میں کیا کروں، وقار کا الگ گروپ ہے، وسیم کا الگ گروپ ہے، کبھی ایک نے پیسے پکڑے ہوتے ہیں کبھی دوسرے نے۔‘
زیادہ سنگین الزام یہ ہے کہ ان کے بھی پیسے پکڑ لیے جاتے تھے جنھیں پتا تک نہیں ہوتا تھا۔یہ الزامات اگرچہ پہلی بار نہیں لگے مگر اس بار چونکہ پٹارا سوشل میڈیا کے دور میں کھلا ہے تو ان کی نوعیت بھی سوشل میڈیا سی ہے۔ پہلی بار نام لے لے کر پرانے راز افشا کیے جا رہے ہیں اور کوئی لگی لپٹی نہیں رکھی جا رہی۔
ماضی کی طرح آج بھی ہم حتمی طور پہ نہیں کہہ سکتے کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا کیونکہ یہ بات تو جسٹس قیوم بھی اپنی رپورٹ میں نہیں بتا سکے۔ گو بعد میں ٹی وی انٹرویوز میں انھوں نے بہت طرح کے اعترافات کیے۔
مگر دو باتیں نہایت اہم ہیں، اوّل یہ کہ ایک آدھ کمیشن جسٹس قیوم کی رپورٹ پر بھی بنایا جائے تاکہ یہ روز روز کے انکشافات کا سلسلہ تھمے۔ جسٹس قیوم رپورٹ کے سبھی سزا یافتگان اگر بورڈ کے لیے خدمات سر انجام دے سکتے ہیں تو پھر سلیم ملک کیوں نہیں؟
دوسری بات یہ کہ عامر سہیل کے بقول یہاں پی سی بی کے منظور شدہ بکیز کے ساتھ فکسنگ جائز سمجھی جاتی ہے مگر کسی اور پارٹی سے ڈیل کرنے والے کو پکڑوا دیا جاتا ہے اور بیچ بازار رسوائی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔
عاقب جاوید کے بقول یہ مافیا اس قدر طاقتور ہے کہ اگر آپ اس کے خلاف چلیں تو آپ ایک خاص حد سے آگے ترقی نہیں کر سکتے۔عمران خان صاحب سے دست بستہ عرض ہے کہ حضور! آپ آج جو کچھ ہیں، بنیادی طور پہ اپنی کرکٹ کے بل پر ہیں۔ آپ نے آتے ہی کرکٹ کا سارا ڈومیسٹک سٹرکچر بدل دیا۔ آپ بنیادی فیصلوں میں اپنی ضروری رائے بھی دینے لگے۔
آپ نے کبھی یہ بھی کہا تھا کہ آپ کسی مافیا کو نہیں چھوڑیں گے۔ آپ کی حکومت آئے دو سال ہونے کو ہیں، آپ ابھی تک سیاستدانوں کے ’مافیا‘ سے ہی پنجے لڑا رہے ہیں۔ مگر آج آپ کے سابق ٹیم میٹ چیخ رہے ہیں کہ فکسنگ کا ایک پورا مافیا سرگرم ہے۔ اب آپ یا تو ان کی بات مان کر اس مافیا کو بھی لٹکا دیں۔
اور اگر آپ اس مافیا کو نہیں لٹکا سکتے تو کم از کم اپنے ان سبھی جونئیرز کو کسی شام بنی گالہ بلا کر اچھے سے سمجھا بجھا دیں کہ مافیا وافیا کچھ نہیں ہوتا، سب باتیں ہیں۔اگر آپ صرف اتنا سا بھلا کر دیں گے تو یقین جانیے میری عمر کے لوگوں اور وسیم اکرم کے کروڑوں فینز کا دل کم از کم اتنا تو سنبھل جائے گا کہ کپتان اگر مافیا کو نہیں لٹکاتا تو بات کو بھی نہیں لٹکاتا۔
فکسنگ کی باتیں تیس سال سے ہوا میں لٹک رہی ہیں، اب کچھ کر دیں کپتان جی۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker