اہم خبریں

دو ماہ بعد قومی اسمبلی کا اجلاس، وزیرِ خارجہ کا ٹیسٹنگ ناکافی ہونے کا اعتراف

اسلام آباد : وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان میں تاحال ٹیسٹ ہونے والے افراد کی تعداد ناکافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک دو لاکھ سے زیادہ افراد کی ٹیسٹنگ ہوچکی ہے۔
دو ماہ بعد ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ: ’پاکستان کی آبادی سے اس کا موازنہ کیا جائے تو یہ ناکافی ہے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اس میں بتدریج اضافہ ہوتا چلے جائے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ایشیا کے بعض دیگر ممالک کے مقابلے پاکستان میں ٹیسٹنگ کی صلاحیت سب سے زیادہ ہے۔ان کا کہنا تھا ’پاکستان میں انفیکشن اور اموات کی شرح 2.17 فیصد ہے۔ عالمی سطح پر یہ شرح 6.8 فیصد ہے۔‘
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کووڈ 19 ایک قومی چیلنج ہے اور اس کے لیے ایک نیشنل ایمرجنسی نافذ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ: ’کورونا وائرس ایک قومی مسئلہ ہے جس کا ردعمل قومی ہونا ضروری ہے اور یہ علاقائی نہیں ہوسکتا۔‘ان کا کہنا تھا کہ معاشی بحران کے دوران احساس پروگرام متعارف کرایا گیا جس کے ذریعے پورے ملک میں لوگوں کی مدد کی جا رہی ہے۔انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ وائرس زائرین یا تبلیغی جماعت کے لوگوں کی وجہ سے پھیلا۔’تفتان ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جہاں سہولیات کی عدم دستیابی ہے۔۔۔ ایران پر دباؤ تھا اور انھوں نے چار سے پانچ ہزار لو پاکستان بھیج دیے۔ بلوچستان کی حکومت کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے۔‘وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ گذشتہ اندازوں کے مطابق اب تک پاکستان میں صحت کا نظام بحران کا شکار ہوسکتا تھا لیکن خدا کا شکر ہے کہ حالات قابو میں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے اجتماعی رائے کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ اس سے متعلق فیصلے قومی رابطہ کمیٹی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر میں کیے جا رہے ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ملک کے تمام حصوں سے معلومات لے کر اجتماعی طور پر فیصلے کیے جا رہے ہیں۔انھوں نے اس رائے کی تردید کی ہے پاکستان نے کورونا نے نمٹنے میں سستی دکھائی۔ وہ کہتے ہیں کہ روزانہ ملاقات ہوتی ہے جہاں معلومات پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ صوبائی خودمختاری کا موضوع بہت حساس ہے اور صوبوں کو اپنے فیصلے خود کرنے کی آزادای ہونی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومتوں کو یہ آزادی دی جا رہی ہے۔ ’وزیر اعظم سب سے رائے لیتے ہیں اور پھر فیصلے کرتے ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا بین الاصوبائی سفر کے لیے تیار تھے لیکن کچھ صوبائی نمائندوں نے اس کی مخالفت کی جس کے بعد یہ فیصلہ مؤخر کر دیا گیا تھا۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker