کراچی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ شہر سے لاپتہ ہونے والی دعا زہرہ لاہور سے مل گئی ہیں اور انہوں نے اپنی مرضی سے نکاح بھی کر لیا ہے، جبکہ ان کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ ابھی اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
دعا زہرہ کاظمی 16 اپریل کو کراچی کے علاقے گولڈن ٹاؤن سے اپنے گھر کے نیچے سے غائب ہوئی تھیں جب وہ دوپہر کے وقت اپنے گھر سے باہر کچرہ پھینکنے گئی تھیں۔ 10 دن بعد پولیس نے دعا کا سراغ لگا لیا ہے۔
اس کیس کے تفتیشی افسر زبیر شیخ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا، ’دعا زہرہ لاہور میں موجود ہیں۔ دعا زہرہ کا نکاح نامہ جعلی نہیں ہے، البتہ ہم اس کی مزید تصدیق کر رہے ہیں۔ تصدیق ہونے پر اس معاملے کی تمام تفصیلات شیئر کریں گے۔
’لاہور پولیس نے دعا کا سراغ لگا لیا ہے مگر ابھی تک انہیں تحویل میں نہیں لیا گیا ہے۔‘
لاہور پولیس کی جناب سے موصول ہونے والی 17 اپریل 2022 کی تاریخ کے نکاح نامے کی کاپی کے مطابق دعا کا نکاح ظہیر احمد نامی شخص سے ہوا ہے۔ نکاح نامے میں دعا کی عمر 18 سال، تاریخ پیدائش 17 دسمبر 2001 لکھی ہوئی ہے اور والد کا نام مہدی علی کاظمی ہی ہے۔
جب کہ دعا کے والد مہدی علی کاظمی کے مطابق دعا کی عمر 14 سال اور تاریخ پیدائش 27 اپریل 2008 ہے۔
نکاح نامے کے مطابق دعا اور ان کے شوہر ظہیر کی جانب سے کوئی وکیل موجود نہیں تھا اور دونوں نے خودمختاری سے اپنا نکاح کیا۔
اس حوالے سے دعا کے ماموں حیدر علی کا کہنا ہے، ’ہمیں میڈٰیا سے معلوم ہوا ہے کہ دعا مل گئی ہے جب کہ ہماری آئی جی صاحب مشتاق احمد مہر سے بات ہوئی تو ان کا کہنا ہے کہ ہمیں ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی کہ یہ دعا ہی ہے یا نہیں۔
’آئی جی صاحب نے ہمیں بتایا ہے کہ ہم ایک ٹیم تیار کر رہے ہیں لاہور بھجوانے کے لیے۔ کچھ دن پہلے کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد سے ایک اور بچی اغوا ہوئی تھی جس کی کنیت بھی کاظمی ہی ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ جہاں تک نکاح نامے کی بات ہے اس پر کہیں مہر نہیں لگی ہوئی ہے تو ہوسکتا ہے کہ یہ جعلی نکاح نامہ ہے۔ اگر پولیس نے ابھی تک ہمیں تصدیق نہیں کی کہ دعا مل گئی ہے تو ہم کیسے کہہ سکتے ہیں۔
’جب تک آئی جی سندھ ہمیں تصدیق نہیں کریں گے ہم تسلیم نہیں کریں گے کہ یہ ہماری دعا ہی ہے اور اس نے لاہور میں نکاح کر لیا ہے۔‘
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بھی کچھ دیر قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعا کاظمی کے لاہور سے ملنے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ کراچی پولیس لاپتہ ہونے والی تینوں بچیوں کے کیسز دیکھ رہی ہے۔
خیال رہے کہ کراچی میں 10 روز کے دوران تین لڑکیاں مبینہ طور پر لاپتہ پوئیں۔ دعا کاظمی 16 اپریل کو گولڈن ٹاؤن سے، 20 اپریل کو نمرہ کاظمی ملیر سعودہ آباد سے اور 22 اپریل کو دینار نامی لڑکی سولجر بازار سے لاپتہ ہوئی۔
تنیوں لڑکیوں کی گمشدگی کی درخواست پولیس کے پاس درج ہے۔ البتہ پولیس ابھی تک صرف ایک لڑکی کا سراغ لگا پائی ہے جس کی مکمل طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
اس سے قبل دعا کے والد سید مہدی علی کاظمی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ 16 اپریل کی دوپہر دعا گھر سے کچرے کی دو تھیلیاں لے کر باہر گئیں تاکہ گھر کے بالکل سامنے انہیں ایک چبوترے پر رکھ دیں۔
تاہم دعا جب تیسری تھیلی لینے گھر کی طرف بڑھی تو گھر کے دروازے کے پاس آنے سے پہلے ہی وہ غائب ہوگئی۔
(بشکریہ:انڈیپنڈنٹ اردو)
فیس بک کمینٹ

