ہم اس سرزمین کی تاریخ کا وہ حصہ بن چکے ہیں جہاں اقتدار کی کشمکش میں اس سرزمین کی جغرافیائی سرحدیں بھی محفوظ نہیں ہیں دنیا بھر میں پاکستان ایک تماشہ بن چکا ہے پاکستان کے تمام ادارے ایک کٹھ پتلی کی طرح قائم ہیں لوگوں کی زندگیاں اس خطے میں اجیرن بن چکی ہیں۔
اقتدار کی کشمکش کے پس منظر کا مطالعہ کریں تو 14 اگست 1947 سے کاروبار مملکت چلانے کے لئے 1935 گورنمنٹ آف انڈیا رولز ایکٹ کے تحت وجود تھا ملک کی سیاسی اور سماجی نظام کے ساتھ معاشی حالات بھی کافی خراب تھے ملک کو چلانا ایک مشکل کام تھا اور اس 1935 ایکٹ کے تحت قائداعظم محمد علی جناح کو حکومت پاکستان کا پہلا سربراہ یعنی جنرل گورنر منتخب کیا گیا اور پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو مقرر کیا گیا اس وقت پاکستان کے سیاسی حالات کافی ناساگار تھے ملک میں ایک شدید بحران تھا مہاجرین کی دونوں طرف سے آمد رفت کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا تھا
ماضی کی اگر حالات کا جائزہ لیں پاکستان کے ساتھ بڑا المیہ یہ تھا کہ پاکستان کی سیاسی نظام میں اقتدار کی جنگ کی شروعات پاکستان بننے کے بعد شروع ہو گئیں ۔سیاسی نظام میں عدم استحکام کی وجہ سے ملک کی سیاسی نظام چلانا مشکل ہوگیا تھا آج بھی ہاکستان اقتدار کی کشمکش میں ملکی معاملات کو بحران کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی جارہی ہے سیاسی انارکیت کے باعث ملک میں معاشی بحران کا سامنا ہے ۔
پاکستان ابتدا سے اپنوں اور بیگانوں کی مسلسل سازشوں کا نشانہ بنارہا قائداعظم محمد علی جناح کی بے وقت موت کا بڑا سبب جنرل گریسی جو اس وقت افواج پاکستان کا کمانڈرانچیف تھا جس نے قائداعظم کے احکامات کے باوجود پاکستانی فوج کو کشمیر میں داخل ہونے نہیں دیا اور آج بھی پالستان کو اتنا عرصہ گذرجانے کے باوجود بھی پاکستان کی خودمختاری ایک سوالیہ نشان ہے اور جہاں تک ھم کشمیر کی ابتدائی حالات کا جائزہ لیں تو اس وقت عبدالقیوم خان نے بارہ مولا اس طرح فتح کیا برتن اور عورتیں تک اٹھالائے کہ یہ مال غنیمت ہے جب قائد ملت نے مال اور خواتین کی واپسی کا حکم دیا تو یہ قبائل راول کیمپ سے یہ کہتے ہوئے واپس چلے گئے یہ اگر مال غنیمت نہیں تو بھر یہ جہاد بھی نہیں انہی قبائلیوں میں سے ایک سید اکبر نے نیشنل گارڈ کے سپاہ سالار ریٹائرڈ میجر خورشید اندر کی انگیخت برتاو قائد ملت کو راولپنڈی میں شہید کیا کہاجاتا ہے کہ اس قتل کی سازش میں پاکستان کے سابق گورنر جنرل غلام محمد بھی ملوٹ تھا اور آج تک اس قتل کی تحقیقات نہیں ہوئی ۔
18اپریل 1953 کو غلام محمد نے فوج کے تعاون سے خواجہ ناظم الدین کو برطرف کیا بنگالیوں نے بنگالیوں کو اقتدار سے محروم کرنے کی سازش قرار دے دیا اور اس کے بعد غلام محمد نے محمد علی بوگرہ کو وزیر اعظم بنایا اور بوگرہ سے اسلحہ کے زور پر اسمبلیاں تڑوائیں اور اس کے بعد سکندر مرزا نے گورنر جنرل کا عہدہ سنھبالا 28مئی اور 7 جولائی 1955 کی دستور ساز اسمبلی کی اجلاس میں چوہدری محمد علی نے 1956 کا آہین ترتیب دیا 16 اکتوبر 1956 کو ون یونٹ وجود میں آیا اور مغربی پاکستان صوبہ بنا اور 23 مارچ 1956 کو سکندر مرزا نے صدر مملکت کا عہدہ سنھبالا۔
جب ون یونٹ کا قیام عمل میں آیا تو اس وقت سیاسی رنچشوں نے جگہ لی اور آخر کار سکندر مرزا نے 1956 کا آئین منسوخ کرکے اسمبلیاں توڑدیں اور ملک مزید بحران کی زد میں آگیا اس دوران جنرل ایوب خان کو چیف مارشل ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا اور آٹھ سال کے بعد ایک آئین وجود میں آیا تھا وہ بھی منسوخ کرنا پڑا ایوب خان جو سکندر مرزا کا انتہائی قرہبی دوست تھا لیکن اقتدار کی اس دوستی نے ایک ایسا زہر اگل دیا کہ سکندر مرزا کو بیوی کے ساتھ رات کے اندھیرے میں جبری جلاوطن کیا گیا اس جلاوطنی میں ایوان صدر کو فوجیوں نے گھیرلیا اور جنرل شیربہادر اور لیفٹنٹ جنرل برکی کی قیادت میں سکندرمرزا اور ان کی اہلیہ کو کراچی ماری پور ایئربیس پر لے گئے جہاں ایئرفوس کے خصوصی جہاز کے ذریعے جبری جلاوطن کیا گیا اور ملک کی باگ ڈور جنرل ایوب خان نے سنھبال لی۔اقتدار کی اس کشمکش میں ملک مزید خانہ جنگی کی لپیٹ کی زد میں آگیا اور ملک جنرل ایوب خان کی حکومت کے خلاف تحریک شروع ہوئے اک طرف قائد اعظم محمد علی جناح کی بہن فاطمہ جناج کسی بھی صورت مارشل لاء کی حق میں نہیں تھی اور ریفرنڈم کے ذریعے جنرل ایوب خان کی حکومت خاتمہ چاہتی تھی اس وقت تمام ترقی پسند مشرقی پاکستان اور کراچی کے اردو بولنے والے فاطمہ جناح کی اس ریفرنڈم میں ساتھ دینے کو تیار تھے لیکن حالات کے اس جبر نے اور جنرل ایوب خان کی آمرانہ نظام نے فاطمہ جناح کو بھی اس جہاں فانی سے رخصت ہونا پڑا اس اقتدار کی جنگ میں جنرل ایوب خان نے ملک میں ایک نیا بحران پیدا کیا اور ملک میں ہر طرف سیاسی انارکیت کی وجہ سے ملک کی اندرونی معاملات کافی خراب ہونے لگے ایوب خان نے اقتدار کی منتقلی جنرل یحیی خان کے سپرد کیا اور جنرل یحیی خان نے اپنی عیاشیوں سے اس ملک کو دو حصوں میں تقسیم کیا اور حالات کے ذمہ دار سیاسی جماعتوں پر عائد کی اس سیاسی مفادات کی جنگ میں ھمیشہ پاکستان کی عوام کو بھگتنا پڑا ملک کی معاشی بحران کا سامنا پاکستانی عوام کو کرنا پڑا ذوالفقار علی بھٹو سے لیکر جنرل ضیاء الحق اور نواز شریف سے بےنظیر بھٹو کی حکومت اقتدار کی کشمکش میں پاکستان کے اندر کبھی استحکام نہیں آیا اور نہ ملک نے ترقی کی جنرل پرویز مشرف اعتدال پسندی کی روایت کو زندہ رکھتے ہوئے مارشل لاء قائم کیا دو جماعتوں کے بعد جب ایک نئی جماعت تحریک انصاف نے حکومت قائم کی تو نیا پاکستان کا نعرہ لگاکر عوام کے دل جیت لیئے لیکن اس جماعت کو بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا
سوال یہ بنتا ہے کہ اس ملک میں سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ کب ہوگا اس ملک میں تمام سیاسی جماعتیں ملک کے عوام کی زندگی اور ان کی معاشی حالات کی بہتری کے لئے کام کب سر انجام دینگے اور کب یہ ملک کامیابی سے ہمکنار ہوگا
فیس بک کمینٹ

