وہ بہت تنہا تھی اور اس نے اپنی تنہائی سے نجات کے لئے موسیقی کا سہارا لیا، وہ گیت لکھنے لگی اور گائیکی کا آغاز کیا۔جو بھی اس کی منفرد آواز سنتا وہ اس کا گرویدہ ہو جاتا۔ اس کے گانوں میں عجیب طرح کے کرب اور تنہائی کا احساس نمایاں تھا۔یہ آواز لندن سے متعارف ہوئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں اس کی گائیکی کی دھوم مچ گئی۔ اس کے جادو بھرے گیت مقبولیت کی انتہاؤں کو چھونے لگے۔ دولت اور شہرت کی دیوی اس پر مہربان ہو گئی لیکن اس کے باوجود تنہائی اور اکیلے پن کی آکاس بیل اس سے لپٹی رہی۔ لاکھوں مداحوں، ہزاروں خیرخواہوں اور دوستوں کی موجودگی کے باوجود اس کی تنہائی دور نہ ہو سکی۔ اکلاپے نے اس کی روح کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ وہ ہجوم اور محفلوں میں بھی خود کو تنہا محسوس کرنے لگی اور پھر تنہائی کا یہ زہر اس کی رگوں میں سرایت کرنے لگا۔ اُس نے نشے کو اِس زہر کا تریاق بنانے کی کوشش کی لیکن وہ اور زیادہ اکیلی ہوتی چلی گئی اور بالآخر ایک رات وہ اپنے آرام دہ گھر کے کمرے میں مردہ پائی گئی۔ اَن گنت دولت اور بے تحاشا شہرت بھی اُسے مزید جینے کی مہلت نہ فراہم کر سکے۔ تنہائی نے اس کی اکیلی روح کو اپنی آغوش میں لے لیا۔ جس دولت اور شہرت کے حصول کے لئے لوگ اپنی پوری زندگی صرف کر دیتے ہیں وہ سب کچھ اُسے جوانی میں میسر آ گیا۔ 27برس کی عمر تک شہرت کی بلندیوں کو چھونے والی یہ گلوکارہ ایمی وائن ہاؤس (AMY WINEHOUSE) تھی جو 14ستمبر 1983ء کو لندن کے علاقے ساؤتھ گیٹ میں پیدا ہوئی۔ اس کے والد ایک ٹیکسی ڈرائیور اور والدہ فارماسسٹ تھی۔ 14برس کی عمر میں والدین نے اُسے ایک گٹار لے کر دیا جس کی وجہ سے وہ میوزک کی طرف راغب ہوئی جس کے کچھ ہی عرصے بعد اس نے ایک مقامی گروپ بولشا بینڈ کے لئے گانا شروع کر دیا۔ جولائی 2000ء میں اُسے نیشنل یوتھ جاز آرکسٹرا کے لئے ایک سنگر کے طور پر چُن لیا گیا جس کے بعد وہ شہرت اور مقبولیت کی سیڑھیاں چڑھتی گئی۔ اس کے گیتوں کی پہلی البم 2003ء میں فرینک کے نام سے ریلیز ہوئی۔ 2006ء میں اس کی دوسری البم بیک ٹو بلیک نے مقبولیت کے ریکارڈ توڑ دیئے۔ اس البم میں شامل کئی گیتوں کو انٹرنیشنل ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا جن میں برٹ ایوارڈ اور گریمی ایوارڈ کے علاؤہ موسیقی کی دنیا کے اور بہت سے اعزازات شامل ہیں۔ یہ البم برطانوی موسیقی کی تاریخ میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی البم تھی۔ ایمی وائن ہاؤس نے شادی بھی کی اور دو نوجوانوں سے اس کے مراسم بھی رہے مگر اس کی تنہائی کا مداوا نہ ہو سکا۔ چنانچہ اس نے اکیلے پن کے عذاب سے نجات پانے کے لئے کثرتِ مے نوشی کو وطیرہ بنا لیا اور بالآخر وہ دولت اور شہرت کی دیوی کو حیران چھوڑ کر اس جہان فانی سے رخصت ہو گئی۔ صرف ایمی وائن ہاؤس ہی نہیں بلکہ دنیا کے لاکھوں امیر کبیر اور شہرت یافتہ لوگ ایسے ہیں جن کو ہر طرح کی آسائش اور سہولت میسر ہے لیکن اس کے باوجود وہ تنہائی کا شکار ہیں۔ اُن کے دوستوں اور مداحوں کی تعداد ہزاروں بلکہ لاکھوں میں ہے لیکن پھر بھی وہ خود کو اکیلا محسوس کرتے ہیں۔ جس کو تنہائی اور اکلاپے کا دکھ اپنی گرفت میں لے لیتا ہے وہ انسانوں کے ہجوم کو بھی تنہائیوں کا میلہ سمجھنے لگتا ہے۔ بہاروں کی آمد، دنیا کی رونقیں، حسن و جمال کی رعنائیاں اور فطرت کے حسین نظارے بھی اس کے دِل کی تنہائی کے طلسم کا خاتمہ نہیں کر سکتے۔ ایسے لوگ دوستوں کی محفلوں، گھر والوں کی مجلسوں اور پارٹیز میں شامل ہو کر بھی تنہا اور اکیلے رہتے ہیں۔ تنہائی ہمہ وقت اُنہیں بے چین، مضطرب اور ہر طرح کی گہما گہمی سے بیزار کئے رکھتی ہے۔ کچھ لوگوں کو تنہائی کی یہ کیفیت عالم ذات میں درویش بنا دیتی ہے تو کچھ لوگ طرح طرح کے نشوں کے ذریعے تنہائی کا علاج ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یونائیٹڈ کنگڈم میں تقریباً 80لاکھ لوگ ایسے ہیں جو تنہائی کا شکار ہیں۔اِن میں سے اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو اپنے گھروں میں اکیلے رہتے ہیں۔ کسی کو دوست بنانے یا عام لوگوں سے ملنے جلنے سے گریز کرتے ہیں۔ یہ تنہائی پسندی انہیں رفتہ رفتہ ڈپریشن اور دیگر نفسیاتی مسائل میں مبتلا کر دیتی ہے۔ کرونا کی وبا کے باعث دنیا بھر میں لوگ ایک دوسرے سے الگ تھلک رہنے پر مجبور ہوئے اور تنہائی پسندی کے رجحان میں اضافہ ہوا۔ فنونِ لطیفہ سے وابستہ لوگ (شاعر، ادیب، مصور، مجسمہ سازاور دیگر فنکار) عموماً تنہائی پسندہوتے ہیں کیونکہ تنہائی کی کیفیت میں ہی وہ شاہکار تخلیق کرتے ہیں۔ تنہائی ایک حد تک ہر انسان کے لئے ضروری بلکہ ناگزیر بھی ہوتی ہے۔ تنہائی انسان پر غوروفکر کے دروازے کھولتی ہے۔ اُسے اپنے بارے میں اور اپنے گردونواح سے متعلق سوچنے کی تحریک دیتی ہے لیکن جو لوگ تنہائی کو اپنی زندگی کا مستقل اوڑھنا بچھونا بنا لیتے ہیں انہیں روز مّرہ کے معاملات میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تنہائی کیا ہوتی ہے؟ اس کی کوئی ایک جامع تعریف کرنا ممکن نہیں۔ تنہائی کئی طرح کی ہوتی ہے۔ کچھ لوگ جذباتی اور سماجی طور پر تنہا ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو کوئی محرم راز یا ہم خیال میسر نہیں آتا اور وہ خود کو اکیلا محسوس کرتے رہتے ہیں۔ کچھ لوگ فطری طور پر تنہائی پسند ہوتے ہیں، کچھ لوگ چھٹی والے دِنوں میں تنہائی سے عاجز آ جاتے ہیں۔ مردوں کے مقابلے میں عورتیں تنہائی کے مسائل سے زیادہ دو چار ہوتی ہیں۔ اسی طرح 16سے 24سال کی عمر کے نوجوان یا 60اور 70سال سے زیادہ عمر کے لوگ تنہائی اور اکیلے پن کے احساس کو زیادہ شدّت سے اپنے اوپر طاری کر لیتے ہیں۔ برطانیہ اور مغربی معاشروں میں انسانوں کی شخصی آزادی اور پرائیویسی کا بہت زیادہ خیال رکھا اور احترام کیا جاتا ہے۔ اس لئے لوگوں کی ایک بڑی تعداد تنہا رہنے کو ترجیح دیتی ہے۔ خاص طور پر بوڑھے لوگ اپنی تنہائی اور پرائیویسی میں اپنی اولاد کی مداخلت کو بھی پسند نہیں کرتے۔ جب تک وہ چلنے پھرنے اور اپنے روزمرہ کے معمولات کو آسانی اور سہولت سے جاری رکھنے کے قابل ہوتے ہیں وہ اکیلے رہنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں اور اگر ایسا ممکن نہ رہے تو وہ اولڈ پیپلز ہوم یا نرسنگ ہوم میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ تنہائی انسان کو اس کی روحانی کیفیتوں سے آشنا کرتی ہے۔ بہت سے لوگ محفلوں اور سماجی میل ملاپ کی لاحاصلی اور کھوکھلے پن سے اکتا کر تنہا رہنے کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔ کچھ لوگ مفاد پرستوں کی مجلسوں میں بیٹھنے سے اکیلے رہنے کو بہتر سمجھتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کی ترقی نے بے شمار لوگوں کو تنہائی کی گرفت سے نکالا ہے۔ اپنے کمرے میں اکیلا بیٹھا ہوا شخص بھی اب تنہا نہیں ہے۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے وہ اب پوری دنیا سے ہر وقت رابطے میں ہے۔ اس کے سماجی تعلقات کا دائرہ اب ہر براعظم تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کے دوستوں اور فالوورز کی تعداد ہزاروں اور لاکھوں تک پہنچ چکی ہے۔ رات کے پچھلے پہر جو شخص بے خوابی کا شکار ہو کر تنہائی کی گرفت میں آ جاتا تھا اب وہ سوشل میڈیا پر دُنیا کے کسی نہ کسی کونے میں موجود اپنے فرینڈ سے گپ شپ میں مصروف ہوتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے گلوبل ولیج نے انسانوں کے سماجی رابطے کی راہیں ہموار کر دی ہیں۔ اُن کی تنہائیوں کا مداوا کر دیا ہے۔ طرح طرح کی دلچسپیوں تک رسائی کو آسان بنا دیا ہے۔ یکسانیت سے اکتاہٹ انسانی نفسیات کا ایک اہم پہلو ہے۔ جو لوگ تنہائی کے عذاب سے گزر رہے ہوتے ہیں وہ محفلوں اور رونقوں کے متلاشی ہوتے ہیں اور جو لوگ ہر وقت ہجوم میں گھرے رہتے ہیں اور محفلوں کی رونق ہوتے ہیں انہیں تنہائی پرکشش لگتی ہے۔ ایسے گمنام لوگ جو شہرت اور مقبولیت کے خواہش مند ہوتے ہیں اور جو چاہتے ہیں کہ وہ جہاں بھی جائیں وہاں اُن کے مداح آٹوگراف لینے کے منتظر ہوں جب ایسے لوگوں کو شہرت اور دولت میسر آ جاتی ہے تو وہ جلد ہی گہما گہمی سے اکتا جاتے ہیں۔ انہیں گمنامی کی زندگی زیادہ اچھی لگنے لگتی ہے۔ اپنی پرائیویسی کے بارے میں وہ زیادہ حساس ہو جاتے ہیں۔ انسان اس دنیا میں تنہا آتا ہے اور اکیلا ہی اس جہانِ فانی سے چلا جاتا ہے جبکہ اس کو تخلیق کرنے والے کی ذات بھی تنہا اور یکتا ہے۔ اس لئے تنہائی ہماری روح کا حصہ ہے۔ صوفی تبسم نے کہا تھا کہ
سوبار چمن مہکا سو بار بہار آئی
دنیا کی وہی رونق دل کی وہی تنہائی
ہمیں اپنی زندگی کے مختلف مرحلوں پر ایسے لوگ ضرور ملتے ہیں جن سے مل کر ہمی
فیس بک کمینٹ

