Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
پیر, جولائی 6, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • خامنہ ای کے تین بیٹے والد کی نمازِ جنازہ میں شریک : کچھ ایرانیوں کو روتے دیکھ کر حیرت ہوئی : ٹرمپ
  • پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مظاہرین پر فائرنگ سے ایک ہلاک : راولا کوٹ میں چار پولیس اہلکار اغوا
  • قلعے کی فصیل پر کھڑے ہو کر دیکھنے والے : یاسر پیرزادہ کا کالم
  • خاموشی کا منطقہ : وجاہت مسعود کا ناقابل اشاعت کالم
  • پاکستان میں سرمایہ کاری کیوں نہیں ہوتی؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے میں کروڑوں افراد کی شرکت : مرگ بر امریکا کے نعرے
  • لاہور: غیرملکی خواتین سے اسحاق ڈار کے نواسے اور ساتھیوں کی مبینہ اجتماعی زیادتی : خاتون کے تہلکہ خیز انکشافات
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک روپے 97 پیسے کی کمی
  • کینیا کی سپریم کورٹ نے ارشد شریف کےقتل میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی درخواست مسترد کر دی
  • جہانیاں : معروف عالم ناصر مدنی کو نمازِ جمعہ کے دوران دل کا دورہ : ملتان میں زیرِ علاج
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»لکھاری»فاروق عادل»فاروق عادل کا کالم:انتخابات جلد کیوں نہیں؟
فاروق عادل

فاروق عادل کا کالم:انتخابات جلد کیوں نہیں؟

ایڈیٹراگست 1, 20221 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
farooq adil
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

سینیٹر جناب عرفان صدیقی کی شہرت صحافی کی ہے۔ انھیں سیاست دانوں کی فہرست میں بھی شامل کیا جاتا ہے لیکن فی الاصل ہیں تو وہ ادیب اور شاعر۔ ویسے تو ان کے کالم اور صحافتی تحریریں بھی ادب پاروں کا درجہ رکھتی ہیں لیکن سفر حجاز پر ان کا سفر نامہ ’مکہ مدینہ‘ اور شخصی خاکے ’جو بچھڑ گئے‘ قرطاس ادب پر اپنا نقش جما چکے ہیں۔ حال ہی میں ان کا شعری مجموعہ ’گریز پا موسموں کی خوشبو‘ خوشبو دے رہا ہے۔ زبان و بیان پر قدرت رکھنے والے شعرا ہمارے یہاں ایک سے بڑھ کر ایک ہیں لیکن فیض صاحب ان سب سے بڑے ہیں۔
وہ بڑے اس لیے ہیں کہ وہ نہ فقط زلف و قاتل کی بات کرتے ہیں اور نہ گردش زمانہ سے متاثر ہو نے کے بعد پڑھنے والے کا لہو گرما کر اسے توپ و تفنگ اٹھانے پر مجبور کرتے ہیں۔ ان کے اسلوب کی ندرت یہ ہے کہ غم دل اور غم زمانہ کو باہم یک جان کر کے انفرادی اور اجتماعی درد میں رومانی احساس پیدا کر دیتے ہیں جو ان کے غنایت بھرے لہجے کی پشت پر سوار ہو کر انسانی فکر و خیال میں مستقل جگہ حاصل کر لیتا ہے۔
عرفان صاحب کو فیض صاحب کا پیرو کہیں نہ کہیں، یہ موضوع الگ ہے، قدما کے پیرو تو وہ ہیں۔ وہ کلاسیکی رنگ میں شعر کہتے ہیں لیکن ان کے شعر میں جہاں اکیسویں صدی کے انسان کے احساسات اور معاملات اپنی تمام تر انفرادیت کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں، وہیں سیاسی اور اقتصادی دبا ؤکی وجہ کسی حساس انسان کی روح کے چٹخنے کی آواز بھی ان کی شاعری میں سنائی نہیں دیتی بلکہ اس ظلم سے نبرد آزما ہونے کی آرزو بھی پیدا کرتی ہے جیسے ؂
تمام ہو گا یہ آزمائش کا مرحلہ کیا
کہ تا قیامت رہے گا یوں ہی یہ سلسلہ کیا
میں اسی خوب صورت شاعری پر بات کرنے بیٹھا تھا لیکن حالات حاضرہ کی بلی راستہ کاٹ گئی ہے۔
ہمارے حالات ’حاضرہ‘ دہائیوں سے ایک جیسے رہے ہیں لیکن ادھر کچھ عرصے سے ان میں ایک جوہری تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ وہی عرفان صدیقی کے شعر جیسی بات کہ جگر پھاڑ احتجاج بھی نہیں لیکن ایک غنائی احساس کے ساتھ تسلیم خم بھی نہیں بلکہ عہد نو کے تقاضوں پر پورا اترنے کی جان توڑ جستجو۔ ہماری سیاست میں شعر جیسی خوب صورتی تو شاذ ہی پیدا ہوتی ہے لیکن ادھر کچھ دنوں سے اس میں کسی قدر مثبت، دیرپا اور انقلابی تبدیلی کے آثار ہیں۔
پنجاب اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کی اچھی کارکردگی اور بعد میں چودھری پرویز الہی کے وزیر اعلی بن جانے کے بارے میں عمومی خیال یہی تھا کہ کھیل ختم ہو گیا۔ شاید یہی احساس تھا کہ بعض حلقوں کی طرف سے قبل از وقت انتخابات کی باتیں کی جانے لگیں۔ ان میں سیاست دان بھی شامل ہیں اور سیاسی مبصرین بھی۔ سیاسی پیشین گوئی میں شیخ رشید کا درجہ بہت بلند ہے۔ وہ اکثر پیشین گوئی کرتے ہیں۔ ان کا بس چلے تو تاریخ اور دن کے علاوہ پل اور گھڑیاں بھی بتا دیں لیکن حالات بے وفائی کر جاتے ہیں۔
اس کے باوجود شیخ صاحب حوصلہ نہیں ہارتے، نئی پیشین گوئی کر دیتے ہیں۔ شیخ صاحب اب بھی وہی ہیں اور وہی ان کی باتیں ہیں۔ انھوں نے اکتوبر میں انتخابات کی سناونی سنائی ہے۔ ایک صحافی دوست نے تو یہ بھی بتا دیا ہے کہ اگست کی 18 تاریخ کو آئندہ انتخابات کی تاریخ دے دی جائے گی اور اسی سال 8 اکتوبر کو انتخابات ہو جائیں گے۔ پیشین گوئیوں کی اس دوڑ میں طلعت حسین نسبتاً مختلف ہیں۔ وہ انتخابات کی بات نہیں کرتے۔ ان کا خیال ہے کہ انتخابات ہونے چاہئیں لیکن یہ حکومت انتخابات کی طرف جانے کا ارادہ نہیں رکھتی۔
وہ انتخابات کی طرف تب آئے گی جب اسے مجبور کر دیا جائے گا۔ اس رائے تک پہنچتے پہنچتے وہ اپنے مزاج کے برعکس کافی تلخ ہو جاتے ہیں۔ اس کا سبب سلمان شہباز سے ان کی تازہ تکرار رہی ہو یا کچھ اور، یہ ہم نہیں جانتے لیکن ان کے تجزیے توجہ دی جائے تو ان کی پیشین گوئی کا پہلا حصہ زیادہ قرین حقیقت محسوس ہوتا ہے یعنی عمومی خیال کے برعکس فوری طور پر انتخابات نہیں ہونے جا رہے بلکہ یہ اپنے وقت پر ہوں گے یا اس سے کسی قدر قبل۔
ضمنی انتخابات کے نتائج اور چودھری پرویز الٰہی کے وزیر اعلی بن جانے پر رہوار خیال رک جائے تو یہ الگ بات ہے لیکن ان دو واقعات کے بعد بہت کچھ ایسا ہو گیا ہے جس نے سیاست کا تقریباً منظر نامہ ہی بدل ڈالا ہے۔ منظر کو بدلنے میں پہلا اور جوہری واقعہ عدالتی محاذ پر اس وقت رونما ہوا جب جوڈیشل کمیشن میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی طرف سے اپنی مرضی کے جج مقرر کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔ واقعات ایک دوسرے سے منسلک ہوتے ہیں۔
یہ واقعہ بھی تنہائی میں نہیں ہوا۔ اس پسپائی کے پہلو بہ پہلو حکمراں اتحاد بھی متحرک ہے۔ اس نے عدالتی تقرریوں کا معاملہ آئین کی روح کے مطابق طے کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم میں طے کر دیا گیا تھا کہ ججوں کا تقرر دنیا بھر کے جمہوری طریقے کے مطابق پارلیمنٹ کے ذریعے ہو گا۔ اس موقع پر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اعتراض کیا اور دھمکی دی کہ اگر ججوں کے تقرر کا اختیار پارلیمنٹ کو منتقل کیا گیا تو وہ پورے آئین پر نظر ثانی شروع کر دیں گے۔ جسٹس افتخار اس وقت مقبولیت کے گھوڑے پر سوار تھے۔ یوں کئی نئے پنڈورا باکس کھلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔ اس لیے ججوں کے تقرر کے سلسلے میں انیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے پارلیمنٹ کا اختیار سلب کر لیا گیا۔
یہ اختیار سلب ضرور ہوا لیکن جمہوری قوتوں نے اپنی رائے اور ارادہ تبدیل نہیں کیا۔ یہی سبب تھا کہ دو برس قبل میاں نواز شریف نے پی ڈی ایم کے جلسوں سے خطاب شروع کیا تو انھوں نے جمہوریت کے اس نامکمل ایجنڈے کو بھی مکمل کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ اب موجودہ حکومت نے اس پر کام شروع کر دیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کے قومی اسمبلی کے خطاب پر اگرچہ بعض حلقوں نے تنقید کی ہے لیکن وہ اس اعتبار سے تاریخی اہمیت رکھتا ہے کہ اس میں اسی نامکمل ایجنڈے کی تکمیل کا اعلان کیا گیا۔ اس معاملے پر پارلیمانی کمیٹی بنا دی گئی ہے۔ آئندہ چند ہفتوں میں اس پر پیش رفت دیکھنے کو ملے گی جس کے نتیجے میں حکومت اور ریاستی اداروں کے درمیان جو کیفیات پیدا ہوں گی، وہ جلد الیکشن کی طرف اشارہ نہیں کرتیں۔
حکمراں اتحاد نے الیکشن کمیشن پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے کہ وہ فارن یا ممنوعہ فنڈنگ کیس کے محفوظ فیصلہ جلد سنائے۔ الیکشن کمیشن پر اب تک صرف پی ٹی آئی اور عمران خان کا دباؤ تھا۔ حکمراں اتحاد کا دباؤ ظاہر کرتا ہے کہ اس نے معاملات کو انجام تک پہنچانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ بھی ایک طویل لڑائی ہے۔ یہ لڑائی اگست یا اکتوبر تک رہنے والی حکومت نہیں لڑ سکتی۔
پی ٹی آئی کے گیارہ اراکین قومی اسمبلی کے استعفوں کی منظوری آنے والے دنوں میں کئی انتخابی معرکوں کی نوید دیتی ہے۔ یہ انتخابی معرکے اب نہ کسی ایک صوبے میں ہوں گے اور نہ صرف دو جماعتوں کے درمیان ہوں گے۔ اس کشمکش کا دائرہ بھی وسیع ہونے والا ہے۔ شہباز شریف کو ہومیو پیتھک انقلابی قرار دینے والے ایسا کہتے رہیں لیکن ایک طویل فیصلہ کن لڑائی اور دیرپا اثرات رکھنے والے فیصلوں کی بنیاد ان کے دور میں رکھی گئی ہے۔ مکرر عرض ہے کہ اس ماحول میں آئندہ چند ماہ کے دوران میں انتخابات کا امکان کم سے کم ہو گیا ہے۔ اس تذکرے میں عرفان صدیقی صاحب کے مجموعہ کلام پر بات درمیان میں رہ گئی لیکن یہ بھی اچھا ہی ہوا۔ یہ شاعری ایسی نہیں ہے جس پر رواروی میں بات کی جائے۔
(بشکریہ: ہم سب)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleڈاکٹر صغرا صدف کا کالم:فریدا جے تُوں میرا ہو رہیں، سبھ جَگ تیرا ہو
Next Article نصرت جاویدکا تجزیہ:ہم سنبھال لیں گے کا بیانیہ اور سیاسی خودکشی
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

خامنہ ای کے تین بیٹے والد کی نمازِ جنازہ میں شریک : کچھ ایرانیوں کو روتے دیکھ کر حیرت ہوئی : ٹرمپ

جولائی 6, 2026

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مظاہرین پر فائرنگ سے ایک ہلاک : راولا کوٹ میں چار پولیس اہلکار اغوا

جولائی 5, 2026

قلعے کی فصیل پر کھڑے ہو کر دیکھنے والے : یاسر پیرزادہ کا کالم

جولائی 5, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • خامنہ ای کے تین بیٹے والد کی نمازِ جنازہ میں شریک : کچھ ایرانیوں کو روتے دیکھ کر حیرت ہوئی : ٹرمپ جولائی 6, 2026
  • پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مظاہرین پر فائرنگ سے ایک ہلاک : راولا کوٹ میں چار پولیس اہلکار اغوا جولائی 5, 2026
  • قلعے کی فصیل پر کھڑے ہو کر دیکھنے والے : یاسر پیرزادہ کا کالم جولائی 5, 2026
  • خاموشی کا منطقہ : وجاہت مسعود کا ناقابل اشاعت کالم جولائی 5, 2026
  • پاکستان میں سرمایہ کاری کیوں نہیں ہوتی؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ جولائی 5, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.