وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے سنگین الزامات کیس میں الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی) سے معافی مانگ لی۔
اسلام آباد میں الیکشن کمیشن میں سنگین الزامات کیس کی سماعت کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ بہت سارے بیانات میرے نہیں ہیں یہ میری نوکری بھی ہے۔
الیکشن کمیشن نے ریمارکس دیے کہ پہلی بار ایسی نوکری دیکھ رہے ہیں جس میں گالی دینا شامل ہے جس پر وفاقی وزیر نے گالی دینے کے الزام کی تردید کردی۔
وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اپنے بیان میں کمیشن سے معافی کی استدعا کرتےہوئے موقف اپنایا کہ میں خود وکیل ہوں جواب میں الجھنا نہیں چاہتا، کیس ختم کرنے کی درخواست کرتا ہوں میں حکومت کا ماؤتھ پیس ہوں معاملے پر معذرت قبول کریں۔
تاہم الیکشن کمیشن نے فواد چوہدری کو تحریری معافی نامہ دینے کی ہدایت کردی۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اعظم سواتی غیرحاضری پر ان کے وکیل نے موقف اپنایا کہ اعظم سواتی سینیٹ اجلاس کے باعث پیش نہیں ہوسکتے۔
کمیشن نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن میں پیش نہیں ہوتے جواب جمع نہیں کرایا، سینیٹ کا بہانہ بناتے ہیں ، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے تحریری معافی نامہ طلب کرتےہوئے سماعت 3دسمبر تک ملتوی کردی۔
الیکشن کمیشن میں سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ دیکھا ہےکہ جب بھی نواز شریف یا مریم نواز کی پیشی ہوتی ہے کوئی نا کوئی سازش گھڑی جاتی ہے، کوئی ویڈیو ریلیز کی جاتی یا کوئی ایفٹ ڈیوٹ سامنے آجاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ایم ایل این نے جس طرح پہلے فوج کے خلاف مہم شروع کی تھی اب اسی طرح اداروں کے خلاف مہم شروع کی ہے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ یہ ایسا عمل ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس پہلے بھی جب پی ایم ایل این کے رہنماؤں کو جب سپریم کورٹ میں بلایا گیا تھا تو انہوں نے سپریم کورٹ پر حملہ کردیا تھا اور یہ بھی عدالت پر حملہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ ایسے شخص کی طرف سے کیا گیا جس کے خرچے لندن میں نواز شریف کا خاندان اٹھا رہا ہے اور جو انہوں نے ایفٹ ڈیوٹ دیا اس کی فیس بھی نواز شریف نے دی اور اس وقت حسین نواز شریف ان سے معاملات طے کر رہے ہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ اگر آپ کسی ایک شخص کا استعمال کرتے ہوئے اداروں کی ساخت خراب کریں گے تو نتیجتاً ایک بحران پیدا ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس من اللہ نے نوٹس لیا ہے اس کی کارروائی کے حوالے سے کیا پیشرفت سامنے آتی ہے آگے دیکھا جائے گا۔
آئندہ انتخابات میں ای وی ایم مشین کے استعمال کے معاملے پر وزیر اطلاعات کا کہنا تھاکہ پارلیمان کا اجلاس طلب کرلیا گیا ہے، ای وی ایم اور انتخابی اصلاحات پی ٹی آئی کا ذاتی ایجنڈا نہیں ہے یہ قومی ایجنڈا ہے، جب الیکشن ہوتے ہیں ہم کہتے ہیں ہمیں اصلاحات چاہیے جب حکومت اصلاحات کی طرف جارہی ہے تو اپوزیشن شور مچا رہی ہے۔
میں اپوزیشن کو کہتا ہوں کہ اجلاس میں وہ کھلے دل سے ترامیم پر گفتگو کریں جہاں وہ ترامیم چاہتے ہیں وہ ترامیم لے کر آئیں ہم تبادلہ خیال کریں گے، لیکن اصلاحات ہونا لازمی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بل کل ہم پاس کروا رہے ہیں، ہمارے اتحادی ہمارے ساتھ ہیں ہمیں تمام معاملات میں اصلاحات چاہیے ، انتخابات میں اصلاحات، میڈیا میں اتحاد اور قوانین میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔
(بشکریہ: ڈان نیوز)
فیس بک کمینٹ

