شاعریفہمیدہ ریاضلکھاری

پہلی سالگرہ ( ضیاء دور کی ایک نظم ) ۔۔ فہمیدہ ریاض

میرا بیٹا کبیر اسی برس پیدا ہوا تھا جب ضیا الحق کا مارشل لا لگا تھا ۔میں نے اس کی پہلی سالگرہ پر اس کے لیئے یہ نظم لکھی تھی

لال تجھے چھاتی پہ لٹا لوں سن مرے من کی بات
جس دن تو چندا سا جنما کا لی تھی وہ رات

گھوم گئ تھی دیس کی دھرتی پر آندھی گھنگھور
لوگ نہتے سہم گئے تھے دیکھ کے ننگا زور

جس دن تجھ کو مان بھری ممتا کا دودھ پلایا
خون چوستا وحشی اس دن شہروں میں در آیا

جب ترا مکھڑا چوم کے میں نے لیں تھیں تری بلائیں
کوڑے کھاتے بیٹے اس دم دیکھ رہی تھیں مایئں

جب ترے ماتھے میں نے پہلا کاجل ٹیک لگایا
گھر گھر پر چھایا تھا اس دن سنگینوں کا سایہ

ہار کے جنتا بیٹھی تھی جب تو نے سیس اٹھایا
بلک بلک خلقت روتی تھی جس دن تو مسکایا

گھڑی گھڑی نے پھڑک پھڑک کر تیرے دم کو پالا
کوکھ کا سکھ کیا سیج کا سکھ جب من میں بھڑکے جوالا

تو رن بھومی پر جایا ہے میرے جگر کے ٹکڑے
دیکھ تجھے پرچانے میں ماتا کا قدم نہ اکھڑے

کیسا لاڈ ارے جیون کی ہر کٹھنائی جھیل
ہاتھ نہ میں روکوں گی ترا تو انگاروں سے کھیل

باٹ کے کانٹے تجھے پکاریں لے یہ میرا ہاتھ
پہلا قدم اٹھا دھرتی پر اپنی ماں کے ساتھ

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker