2018 انتخاباتایم ایم ادیبکالملکھاری

سرداروں کے قلعوں میں شگاف اور پی پی کا ڈوبتا ستارہ : کرچیاں / ایم ایم ادیب

” انسانی مقدر کا سوال ہر انسان کی گھات میں ہے ،خواہ وہ انسان کیسا ہی کند ذہن یا بے حس کیوں نہ ہو ،کیوں کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ انسان شعور رکھے اور یہ نہ جانے کہ انسان ہونا ایک پریشان کن مصیبت اور خوف زدہ کر دینے والا اسرار ہے ،انسان اس مصیبت اور راز کا سامنا کئے بغیر اپنی زندگیاں نہیں گزار سکتے ”(ٹائن بی) ہمارے مقدر کا سوال آ زادی کی جدوجہد سے پہلے سے ہماری گھات میں ہے اور جب ہمیں آزادی مل گئی تو یہ سوال اور بھی گمبھیرہوگیا ،آ زادی کیلئے بھر پور محنت کرنے والے منزل ملنے کے کچھ ہی عرصہ بعد مفارقت کا داغ دے گئے جو پیچھے بچے وہ سازشوں کے جال میں پھنس گئے اور آج تک اس جال سے نہیں نکل سکے۔ المیہ یہ ہوا کہ آزادی کی نعمت سے سرفراز ہونے والوں نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت ہی گوارہ نہیں کی کہ وہ ”ایک پریشان کن مصیبت اور خوف زدہ کر دینے والے اسرار کی زد میں ہیں”یہ بے حسی کی ایک ایسی انتہا پر جا براجمان ہوئے جس نے انہیں اپنے اردگرد موجود کسی بدی کا احساس تک نہ ہونے دیا،بدی پھلتی پھولتی رہی ،ایسی کہ اس کی بدبو اور تعفن سے بھی کسی کو سروکار نہ رہا اور یہ ناسور کی صورت اختیار کر گئی ،مصائب کے پہاڑ کھڑے ہوتے چلے گئے مگر اس راز کو پانے سے سب قاصر رہے زندگی بسر کیسے کی جاتی ہے ،زندگی کا مقصد کیا ہے فقط جینا اور پھر مرجانا ہی تو زندگی نہیں ،ایسا ہوتا تو لگ بھگ ایک لاکھ پچیس ہزار انبیاء اور اس سے بڑھ کر تعداد میں رہبرو رہنماپیدا نہ ہوتے ،انسانیت کا درس دینے والے لاکھوں مصلحین کے وجود مسعود کی ضرورت نہ ہوتی،تعلیم وتربیت نہ ہوتی ،فنون کی احتیاج نہ ہوتی ہنرنام کی کوئی شے نہ ہوتی اور انسان بچھڑے ہوئے آہو کی طرح جنگل بیابانوں میں زندگی کرنے کے عمل سے عہدہ برا ہوکر موت کے منہ میں چلا جاتا۔مگر ایسا نہیں ہوا ،انسان کو عقل و شعور کی دولت سے مالا مال کیا گیا،فکرو نظر کی صلاحیتوں سے سرفراز کیا گیا،یہ واحد خطہ اور اس میں بسنے والی واحد قوم ہے جس نے عقل کو بھی ”لبِ بام ”کھڑا کر دیا۔ ہمارے مقدر کا سوال آ ج پھر ہماری گھات میں ہے ،ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے آئیندہ انتخابات کے لئے اپنے امیدواروں کے کم و بیش پچانوے فیصد ناموں کا اعلان کر دیا ہے ،تیسری بڑی سیاسی جماعت بھی ایک آدھ روز میں یہ مرحلہ طے کر لے گی ،مگر بے اطمینانی کی ایک لہر ہے کہ بڑھتی ہی جارہی ہے ،ووٹروں کی خوشنودی کو خاطر میں لائے بغیر مرضی کے فیصلے کئے گئے ہیں یا سفارشیوں کو اہمیت دی گئی ہے ،جو بھی ہوا ہے ،سب اچھا نہیں ہوا اور سب اچھا ہو بھی نہیں سکتا کہ سیاسی قیادتوں کو لوگوں کے مقدر کے ساتھ کھیلنے کا ڈھنگ آگیا ہے ۔ گو امید کا ایک ستارہ بھی ٹمٹماتا ہوا صاف دکھائی دے رہا ہے کہ لغاریوں اور مزاریوں کے قلعوں میں پڑے شگاف نظر آنے لگے ہیں ،ان سے اپنے مقدر کا سوال کرنے والے نوجوان ان کی قوت کے سامنے دیوار کھڑی کرنے کے عزم سے آراستہ لگتے ہیں ہاں مگر یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ مزاری،لغاری کامیاب ہونے کی صورت میں کیا سلوک کریں گے ،یہ ضمانت کسی کے پاس نہیں ،مگر روبرو بات کرنے کا حوصلہ ہی روشن مستقبل کی دلیل دکھائی دیتا ہے ،اس روش کی بنیاد میں نوجوان لہو جو حدت سرایت کرنے لگا ہے وہ کوئی نہ کوئی رنگ تو لائے گی ہی،اس قول کے سچے ہونے میں تو کوئی شک نہیں کہ ”انسان مصیبت کا سامنا کئے بغیر اپنی زندگیاں نہیں گزار سکتے” بیداری کی ایسی ہی ایک لہر کو ضیاء آمریت کے دور میں ہیروئن جیسی نشہ آور بلا سے ان نوجوانوں کو بے حس کر دیا گیا تھا ،جو مسکراتے ہوئے کوڑے کھانے کے لئے ٹکٹکی کی اور جاتے تھے،وہ نوجوان جو وڈیروں کی راہ میں اپنے مقدر کے مسئلے کے مقابل سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننے پر مصر ہیں ،وہی اس سیاسی جماعت کا اصل اثاثہ ہیں جس نے تبدیلی کا شعور بخشا ہے اسے ان نوجوانوں کے جذبات واحساسات کا دھیان رکھنا ہوگا ۔
برسوں پہلے شہید ذوالفقار علی بھٹو نے بھی ہاریوں اور پسے ہوئے طبقات کے نوجوانوں کے بیچ ایسی ہی بیداری پیدا کی تھی ،جسے بعد ازاں ان کی جماعت سنبھالا نہ دے سکی ،اسی کا عتاب ہے کہ آج پی پی پی ایک صوبے تک محدود ہوکر رہ گئی ہے ،اسے ملک کے دوسرے صوبوں میں کوئی پناہ دینے والا نہیں اور سیاست کے افق پر ٹمٹماتا یہ ستارہ آخر کو اپنی ہی راج دھانی میں ڈوبا جاتا ہوا دکھائی دے رہا ہے ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker