کالملکھاریمسعود قمر

کوٹ کی جیب میں پڑا 5 جولائی ۔۔ مسعود قمر

کل جب میں نے کمپیوٹر کھولا تو حسبِ معمول سامنے کیلنڈر آگیا اور کیلنڈر میں چار جولائی پہ دائرہ لگا ہوا تھا ۔ زندگی نے اب مجھے وہاں لا کر کھڑا کر دیا ہے کہ سال مہینہ اور دن بدلنے کا مجھ پہ کوئی خاص اثر نہیں پڑتا ۔ بس کسی مہینے کی کوئی نہ کوئی تاریخ ایسی ہوتی ہے جس پہ جب نظر پڑتی ہے تو کچھ یاد آنے لگتا ہے ۔ اس سے پہلے کہ آنکھ فالتو پانی نکالے میں کلک کرتا ہوں اور اس مہینے اس تاریخ کو کافور کر دیتا ہوں۔ کل جب چار جولائی کے بعد آنے والےپانچ جولائی پہ نظر پڑی تو میں نے صفحہ بدلنے کے لیے کلک کیا تو کمپیوٹر کی سکرین سیاہ تر ہوگی میں اس سیاہ ہوئی سکرین کو ختم کرنے کے لیے کلک کرتا رہا مگر سیاہی تھی کہ سکرین سے جا ہی نہیں رہی تھی۔ میں کالی چائے لے کر بالکونی میں چلا گیا تو وہاں خالی ایش ٹرے اور 5 جولائی پڑا ہوا تھا ۔ اور پانچ جولائی مجھ پہ مسلسل کوڑے لگا رہا تھا میں نے ان کوڑوں کے درد کو کم کرنے کے لیے بیٹے کی جیب سےسگریٹ نکالا مگر کسی نے مجھے رنگے ہاتھوں پکڑااور کہا” آپ نے وعدہ کیا ہے ” اور میں اپنے کمرہ ِ تنہائی میں واپس آگیا اور پانچ جولائی پہ لکھنا شروع کیا تو کچھ نہ لکھ سکا ۔ میری آنکھوں میں وہ لاٹھی آگئی جو لاہور میں نصرت بھٹو کے سر پہ لگی تھی اور خون سر سے بہتا نصرت بھٹو کے بائیں رخسار کو سرخ کر رہا تھا ۔ مجھے نصرت بھٹو کسی کے کندھے سے لگی کوکتی سنائی دی ۔ مجھے فوٹو شاپ سے فوٹو لینی نہیں آتی میں نے اسلام آباد میں اپنی ایک دوست کو کہا مجھے نصرت بھٹو کی یہ تصاویر چاہیں اور میں زندگی کو فضول کاموں میں ضائع کرنے میں مصروف ہو گیا ۔ برتن دھوتے اور دوسرے کام کرتےجب بھی پانچ جولائی کا کوڑا پڑتا تو میں کہتا ابھی پانچ جولائی کے آنے میں بہت وقت ہے میں لکھ لوں گا اورپھر رات ایک دوست سے سکائیپ پہ باتیں کرتے کرتے چارجولائی گزر گیا اور جب کرسی پہ میری آنکھ کھلی تو پانچ جولائی کی دھوپ میری چہرے پہ پڑ رہی تھی۔
اسی طرح جب پاکستان میں چار جولائی1977 کو رات گیارہ بج کے پچاس منٹ ہوئے تھے تو کچھ لوگ سمجھ رہے تھے کہ ابھی پانچ جولائی کے آنے میں بہت وقت پڑا ہے جب کہ پانچ جولائی بہت سالوں سے آنے کی کوشش کر رہا تھا ۔ بھٹو صاحب نے مزدوروں کو مکان کی چھت دے کر روزگار دے کر اور روزگار کی ضمانت دے کر پانچ جولائی کو روکنے کی بہت کوشش کی مگر ان کے ساتھ جڑے پانچ جولائی کے گماشتے پانچ جولائی کی وزارتوں کا حلف اُٹھا رہے تھے ۔ پانچ جولائی تو اسی وقت سے آنا شروع ہو گیا تھا جب عوام جہنوں نے جاگیرداروں اور وڈیروں سے اقتدار چھین کر بھٹو کو دیا تھا مگر بھٹو انہی جاگیرداروں اور و ڈیروں کو عوام پہ مسلط کر دیا تھا۔
پانچ جولائی تو اسی دن سے آ نا شروع ہو گیا تھا جب ریاست نے یہ فیصلہ اپنے ذمہ لے لیا کہ اب ریاست حکم دے گئی کہ کس کا مذہب کیا ہے ۔ اورجب پانچ جولائی کے 9 گماشتوں نے اتحاد کرکے جمہوری حکومت کے خلاف تحریک چلائی تھی
اور بھٹو صاحب کے ساتھ بیٹھے پانچ جولائی کے گماشتوں نے سمجھوتہ کرنے کے لیے بھٹو صاحب کو مولانا مودودی کے گھراچھرا بھیجا تھا اور مودودی نے پانچ جولائی کے کچھ نکات لکھ کر بھٹو صاحب کے کوٹ کی جیب میں ڈال دئیے تھے اور بھٹو صاحب نے شام کو لاہور گورنر ہاؤس میں پریس کانفرنس کر کے مودودی کے پانچ جولائی کے نکات کو فوری نافذ کر دیا تھا کہ آ ج کے بعد پاکستان میں اتوار کی بجائے جمعہ کو چھٹی ہو گی ۔ تمام بار بند کر دیئے جائیں گے ڈانس کرنا اور دیکھنا خلاف قانون ہو گا دنیا کا خوبصورت مشروب زندگیوں کو مزید خوبصورت نہیں کرے گا۔ بھٹو صاحب کو یہ بات سمجھ نہ آئی کہ اگر لوگ قرآن کی آیات سننا چاہیں گے تو وہ کلین شیو والے بھٹو سے سننے کی بجائے داڑھی والے ملا سے سُنیں گے ۔ پانچ جولائی چھلانگیں لگاتا آرہا تھا مگر بھٹو کے ساتھ جڑے پانچ جولائی کے گماشتے بھٹو صاحب کو کہہ رہے تھے ” بھٹو صاحب آ پ فکر نہ کریں پانچ جولائی کبھی نہیں آئے گا، انہیں ڈر تھا کہیں بھٹو عوام کے پاس نہ چلے جائیں اور عوام کہیں ہمیش ہمیش کے لیے پانچ جولائی کو کیلینڈر سے پھاڑ نہ دیں۔
اور پھر جب بے فکر ہو کر چار جولائی کو بھٹو صاحب نے شیواز ریگل کا آخری پگ ختم کیا اور سگار کا آخری کش لے کر اسے ایش ٹرے میں مسلا تو امریکہ سے آئے تیل کو پانچ جولائی نےاپنی مونچھوں پہ لگایا اور دروازے کو ٹھوکر مارتے ہوئے بھٹو صاحب کے سلیپنگ روم میں چلا گیااور کہا
” میرے عزیز ہم وطنو “
پھر صحن میں پڑے کچے پانی کے گھڑوں کو توڑا گیا لوگوں کو بالوں سے کھینچ کے چوراہوں پہ لایا گیا اور ٹکٹکی پہ باندھ کے ان کی پشتوں پہ پانچ جولائی کی مُہریں لگائی گئی ، راہ چلتی بغیر دوپٹّے کے لڑکیوں کے بال کاٹے گی، اور نصرت بھٹو کے بائیں رخسار کو خون سے رنگدار کر دیا گیا۔
ایسا نہیں ہے کہ پانچ جولائی پاکستان میں پہلی بار آیا تھا مگر مونچھوں والا پانچ جولائی ایسا آیا کہ ابھی تک کیلنڈر نہیں بدل پا رہا ،کیلنڈر پہ کبھی اسحاق خان کبھی چیف جسٹس ارشاد خان اور کبھی پانچ جولائی کی گود میں کتے لیے پرویز مشرف کیلنڈر پہ قبضہ کیے ہوئے ہیں۔ یہ کیلنڈر اس وقت تک نہیں بدلے گا جب تک لوگ پانچ جولائی کے گماشتوں کے پیچے لگے رہیں گے اگر لوگ چاہتے ہیں کہ کیلنڈر سے پانچ جولائی پھاڑ دیں تو انہیں پانچ جولائی کےخون کے لگے دھبوں والی قمیض کو پرچم بنانا ہو گا اور اپنی پارٹی بنانا ہو گی۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker