فتنہ الخوارج کے بعد فتنہ الہندوستان کی دریافت سے افواج پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک نئے ایجنڈے اور عزم کا اظہار کیا ہے۔ چند روز پہلے بھارتی جارحیت کے خلاف کامیابی کے بعد پاکستانی ریاست نے دفاعی پوزیشن سے جارحانہ طرز عمل اختیار کیا ہؤا ہے۔ ایک طرف ملک میں دہشت گردی میں ملوث تمام بھارتی پراکسیز کو ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے تو دوسری طرف بظاہر بنیادی حقوق کی مہم چلانے والے گروہوں کو مشکوک قرار دینے میں شدت آئی ہے۔
’ فتنہ الہندوستان ‘ کی اصطلاح بلوچستان میں خود مختاری کی مسلح جد و جہد کرنے والے گروہوں کے بارے میں تراشی گئی ہے۔ اس سے پہلے تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کو اسلامی نظر سے ناجائز سرگرمیوں میں ملوث دکھانے کےلیے آئی ایس پی آر نے ہی فتنہ الخوارج کی اصطلاح کا استعمال شروع کیا تھا۔ ان دونوں اصطلاحات میں البتہ کچھ قباحت موجود ہے۔ اس لیے انہیں استعمال کرنے کی بجائے اگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کو اسی نام سے پکارا جائے جو وہ خود اختیار کرتے ہیں تو معاملہ آسان رہے گا۔
ان دونوں اصطلاحات کے پس پردہ سوچ کو سمجھنا مشکل نہیں ہے۔ تحریک طالبان پاکستان مذہبی نعرے کی بنیاد پر ریاست پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہوئے ہے۔ وہ ملک میں اسلامی خلافت قائم کرنا چاہتے ہیں حالانکہ اس مقصد کے لیے پر امن جد و جہد بھی کی جاسکتی تھی جو ملکی آئین و قانون کے دائرے میں ہو۔ لیکن ٹی ٹی پی نے اس کے برعکس ’جہاد‘ کا راستہ اختیار کیا حالانکہ یہ گمراہی کا راستہ ہے۔ اس طریقے سے غیرملکی عناصر سے امداد لے کر پاکستان میں سکیورٹی اداروں کے علاوہ عام لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ پاک فوج نے شاید تحریک طالبان کی طرف سے مذہب کے ناجائز استعمال کا تدارک کرنے کے لیے ہی فتنہ الخوارج کی اصطلاح متعارف کرائی تاکہ عوام کو یہ باور کرایا جاسکے کہ یہ لوگ درحقیقت گمراہ، دائرہ اسلام سے باہر اور اسلام کے لیے خطرہ ہیں۔
تاہم ایسی اصطلاح استعمال کرنے سے یہ تاثر بھی قوی ہوتا ہے کہ مملکت پاکستان اور اس کی افواج ایک گروہ کی شرپسندی کا تدارک کرنے کے لیے صرف اپنی طاقت، منصوبہ بندی اور انتظامی و عسکری اقدامات پر ہی اکتفا نہیں کررہی بلکہ مذہبی اصطلاحات کی آڑ میں اس ساری لڑائی کو اسلامی رنگ دینا چاہتی ہے۔ یہ فیصلہ یقیناً نیک نیتی سے کیا گیا ہوگا تاکہ عوام کو یہ پیغام پہنچایا جاسکے کہ مسلح افواج کی لڑائی کسی جائز جد و جہد کے خلاف نہیں ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف مہم میں ایسے عناصر کاقلع قمع کیا جارہا ہے جو بظاہر مذہب کا نام لیتے ہیں لیکن درحقیقت وہ گمراہ ہوچکے ہیں۔ البتہ ایسا بیانیہ استوار کرتے ہوئے پاک فوج کا دفتر تعلقات عامہ حجت یا دلیل کی اسی سطح پر اتر آیا ہے جو تحریک طالبان پاکستان کا وتیرہ رہی ہے۔ ملک کا کوئی بھی باشعور شہری اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہے کہ پاک فوج جب دہشت گردوں کو ختم کرنا چاہتی ہے تو اس سے نیکی کا کام کرنے والے عناصر نشانہ بنتے ہیں۔ انہیں عام تفہیم میں گمراہ ہی سمجھا جاتا ہے۔
تحریک طالبان پاکستان مختلف صورتوں میں دہائیوں سے ملک میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے اور عوام کی بہت بڑی اکثریت ان کی شر پسندی سے عاجز ہے۔ ان عناصر کے خلاف فوج کی کوششوں اور قربانیوں کا دل سے احترام کیا جاتا ہے۔ اس لیے ریاست دشمن عناصر کے خلاف اسلامی اصطلاح استعمال کرکے دائرہ اسلام سے خارج قرار دینا غیر ضروری ہے۔ فوج اگر اس بحث سے گریز کرے تو بہتر ہے۔ آئین و قانون سے بغاوت کے عام فہم معاملے کو اسلامی رنگ دینے سے ، ملک میں مذہب کی بنیاد پر نفرت اور تشدد عام کرکے ریاست کو کمزور کرنے والے عناصر کو مذہبی بیانیہ بنانے کا موقع مل سکتا ہے۔ دہشت گرد عناصر کی اصل طاقت ملک میں پھیلنے والی مذہبی شدت پسندی ہے۔ اگر فوج بھی مذہبی اصطلاحات استعمال کرےگی تو اس سے عوام میں شکوک و شبہات پیدا ہونے کا امکان ہے۔ اس کے برعکس اگر ٹی ٹی پی کا نام لے کر اس گروہ کی دہشت گردی کے خلاف مہم جوئی کی جائے تو یہ واضح ہوگا کہ یہ خالص امن و امان اور عوام کی سلامتی کا معاملہ ہے اورفوج ان عناصر کے خلاف سرگرم ہے جو اپنے مذموم ایجنڈے کے لیے عام شہریوں کو ہلاک کرنے کے درپے ہیں۔
اب آئی ایس پی آر نے ہی فتنہ الہندوستان کی اصطلاح متعارف کرائی ہے۔ اس میں بظاہر کوئی مذہبی رنگ تو نہیں ہے لیکن اس اصطلاح سے شاید یہ بتانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ بلوچستان میں مسلح جد و جہد کرنے والے درحقیقت بھارتی ایجنٹ ہیں اور ملک کی سالمیت کے خلاف سرگرم ہیں۔ اس کوشش میں انہیں ہندوستان کی حکومت اور خفیہ ایجنسیاں مالی و عسکری امداد فراہم کرتی ہیں۔ یہ حقیقت بھی پاکستان سے محبت کرنے والے لوگوں کو اس وقت سے ہی معلوم ہے جب سے خود مختاری کے لئے ریاست کے خلاف مسلح عناصر سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ اب انہیں فتنہ الہندوستان قرار دے کر غیر ملکی ایجنٹ اور ملک دشمن عناصر قرر دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ البتہ اس اصطلاح میں بھی وہی غلطی موجود ہے جو تحریک طالبان پاکستان کو فتنہ الخوارج کہنے میں موجود ہے۔ جیسے فتنہ الخوارج کے تحت دہشت گردی میں ملوث عناصر کو دائرہ اسلام سے خارج کرنا مقصود تھا ، ویسے ہی فتنہ الہندوستان کی اصطلاح سے ہتھیار بند عناصر کی وطن دشمنی واضح کرنامقصود ہے۔
البتہ یہ حقائق بھی ملکی تاریخ کا حصہ ہیں کہ تحریک طالبان پاکستان ایک وسیع اور پیچیدہ سیاسی و عسکری حکمت عملی کے نتیجے میں وجود میں آئی اور اب وہ افغانستان میں اپنے ٹھکانوں سے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس تنظیم اور اس میں شامل عناصر کو محض خوارج قرار دے یا اسلام سے خارج کہہ کر مسئلہ حل نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح بلوچستان میں علیحدگی کی جد و جہد کرنے والے عسکری گروہوں کی شدت پسندی کے پس منظر میں دہائیوں کی سیاسی محرومیاں اور وفاق و صوبے کے درمیان حقوق و اختیارات میں عدم توازن کا معاملہ اہم ترین عنصر ہے۔ بلوچستان کی صورت حال پر تبصرہ کرنے والے ہر شخص یا اس معاملہ کا تجزیہ کرنے والے ہر ماہر نے حکومت کو ہمیشہ یہ مشورہ دیا ہے کہ صوبے میں شورش ختم کرنے کے لیے وہاں کے ہوشمند عناصر کے ساتھ سیاسی معاملات طے کیے جائیں ، بعض بنیادی مسائل حل کیے جائیں اور مستقبل میں صوبے سے حاصل ہونے والے وسائل کی تقسیم کا معاملہ سیاسی ہوشمندی سے طے کرلیا جائے ۔ درحقیقت بلوچستان میں سیاسی، معاشی اور سماجی محرومیوں کے ایک طویل سلسلہ نے پیچیدہ اور مشکل صورت اختیار کرلی ہے۔ اس گتھی کو سلجھائے بغیر بعض عناصر کو ملک دشمن یا دشمن کا ایجنٹ قرار دینے سے مسئلہ حل نہیں کیا جاسکتا۔
بلوچستان میں بھارت کی دراندازی کوئی نیا معاملہ نہیں ہے۔ پاکستانی حکومت و افواج نے طویل عرصہ تک اس بارے میں دفاعی پوزیشن اختیار کی ہوئی تھی۔ کیوں کہ پاکستان کی خواہش رہی ہے کہ بھارت کے ساتھ معاملات مفاہمت و بات چیت کے ذریعے حل کرلیے جائیں ۔ تاہم 7 مئی کو بین الاقوامی سرحدیں عبور کرکے نئی دہلی کی حکومت نے جارحیت کی بدترین مثال قائم کی۔ اسی لیے پاکستان بھی اب یہ سمجھ گیا ہے کہ بھارت میں نریندر مودی کی حکومت کا حال بھی اس محاورے کے مصداق ہے کہ ’لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے‘۔ اسی لیے پاکستان میں تخریب کاری کے حوالے سے بھارتی حکومت اور ایجنسیوں کے کردار کو دنیا کے سامنے کھول کر پیش کرنا اہم ہوگیا ہے۔
تاہم اس عمل میں ان عناصر کے ساتھ دشمن کا سلوک نہ کیا جائے جو حکومت کے خلاف متحرک تو ہیں لیکن ان کی جد و جہد حقوق کے حوالے سے ہے لیکن انہوں نے کبھی آئین پاکستان کو ماننے سے انکار نہیں کیا۔ فوج کے سوا کوئی اس حقیقت سے آگاہ نہیں ہوسکتا کہ جنگ میں دشمن کا تعین کرنے اور اس کے خلاف کامیاب ہونے کے لیے دوست تلاش کرنا بھی اہم ہوتا ہے۔ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کے خلاف جنگ میں یہ تمیز کرنا بے حد ضرور ہے۔ حکومت ایسے عناصر کو دشمن قرار دینے کی غلطی نہ کرے جو پر امن جد و جہد پر یقین رکھنے کا اعلان کرتے ہیں۔
بلوچ یک جہتی کمیٹی کی لیڈر ماہرنگ بلوچ کی بہن نے آئی ایس پی آر کے ڈی جی کی طرف سے تنظیم پر الزمات کے جواب میں یہ وضاحت جاری کی ہے: ’میری جد و جہد پر امن، اصولی اور عالمی انسانی حقوق کے دائرہ کے اندر ہے۔ میں ہر قسم کے تشدد کی مذمت کرتی ہوں خواہ وہ نان اسٹیٹ ایکٹرز کی طرف سے کیا جاتا ہو یا ریاست کی طرف سے روا رکھا جائے‘۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے ایک حالیہ پریس کانفرنس میں بلوچ یکجہتی کمیٹی اور اس کی قیادت کو علیحدگی پسند عسکری گروہوں کی پراکسی قرار دیا تھا۔ اس وضاحت کے الفاظ اگرچہ بہت مفاہمانہ نہیں ہیں لیکن یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ مارچ سے ریاست نے اس تنظیم کو دبانے اور اس کی قیادت کو قید رکھنے کے لیے سخت گیر رویہ اختیار کیا ہے۔
بھارتی جارحیت اور بلوچستان میں اس کے ایجنٹوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ایسے سیاسی عناصر کو دشمنوں میں شامل کرنا دانشمند ی نہیں ہوگی جو امن اور بنیادی انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

