اختصارئےحسنین رضویلکھاری

حسنین رضوی کا اختصاریہ :کیا گیس کا بحران مصنوعی ہے ؟

چند سال پہلے ” گھوٹکی ” سندھ جانے کا اتفاق ہوا ، صوبہ سندھ ” سوئی ” کے بعد سب سے زیادہ گیس پیدا کرتا ہے ، گھوٹکی کے نزدیک بھی گیس نکلتی ہے جسے شاید کھاد بنانے والی فیکٹری کو سپلائی کیا جاتا ہے ۔یہاں ايک دوست آئل اينڈ گيس کے شعبے سے کوئی 20 سال سے وابستہ ہے۔ اس کی کمپنی OGDCL اور PPL کے لئے ان کے گيس کے کنويں سنبھالتی ہے۔ اس سے ملاقات ہوئی تو ميں نے اس سے وطن عزیز ميں قدرتی گيس کی شارٹيج کے بارے ميں سوال کيا۔ اس ‏نے بتايا کہ جناب ہمارے پاس تو مکمل معلومات اور جامع اسٹڈيز ہيں۔ گيس کی کوئی شارٹيج نہيں ہے۔ بات يہ ہے کہ جوں جوں کنويں پرانے ہوتے جاتے ہيں ان کے ويل ہيڈز پر گيس نکالنے کے لئے مزيد نئی مشينيں اور بہت خاص اکويپمنٹ درکار ہوتا ہے۔ ايک لمبے عرصے تک تو بڑے کمپريسرز سے کام چل جاتا ہے ۔
‏مگر ايک وقت آتا ہے جب گيس کے ساتھ ساتھ زمين کی گہرائی سے پانی بھی اوپر تک آجاتا ہے۔ اس صورت ميں گيس کے اندر نمی کا تناسب بہت بڑھ جاتا ھے اور وہ گیس قابلِ استعمال نہيں رہتی یا بہت کم مقدار ميں ميسر ہو پاتی ہے۔ اس کا علاج صرف وہ خاص اور مہنگی مشینری ہے جو 20/25 ملين ‏ڈالر تک کی ہوتی ہے۔ وہ نمی کو گيس سے عليحدٰہ کر دیتی ہے اور يوں کئی سالوں تک کام چلتا رہتا ھے۔ چنانچہ جب تک وہ نيا اکويپمنٹ ان کنووں پر نہيں لگایا جاۓ گا، گیس ميں کمی رہے گی بلکہ يہ مسئلہ اور شدت پکڑ جاۓ گا۔
‏يہ سن کر اس سے سوال کيا کہ جناب پھر يہ اکویپمنٹ کيوں نہيں خریدا جا رہا ؟ کيا ان اداروں کے پاس پيسے نہيں ہيں؟ تب اس نے جواب ديا کہ پيسوں کا کوئی مسئلہ نہيں ، OGDCL اور PPL دونوں کے پاس اربوں روپے فالتو پڑے ہوۓ ہيں۔ یہ سن کر اور حیرت ہوئی اور ميں نے پوچھا کہ پھر کيا مسئلہ ہے ؟اس نے بتایا کہ 2008 کے بعد سے ان اداروں میں بدعنوان اور نااہل لوگ لگائے گئے۔ اب کیوں کہ کرپشن اور cut کا کوئی موقع نہیں ہے تو ان عہدیداران کو نئے اکویپمنٹ خریدنے میں کوئی دلچسپی نہیں ھے۔ یہ لوگ پہلے ہی NAB اور FIA کی انکوائری بھگت رہے ہیں۔ یہ لوگ ہر صورت میں ‏موجودہ حکومت کو ناکام بنانا چاہتے ہیں
اس قماش کے لوگ ہر ادارے میں ہیں۔ یہ ہر صورت میں بدعنوان PMLN اور PPP کو واپس لانا چاہتے ہیں ۔۔جب کوئی حکومتی عہدیدار ،مشیر يا وزير ان سے گیس کی کمی سے متعلق سوال کرتا ہے تو يہ سادہ سا جواب دے ديتے ہيں کہ گيس ختم ہوگئی ہے۔
کرلو جو کرنا ہے ۔۔ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے .
میرا مطالبہ پاکستان کے طاقتور ادارے اور اس کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ہے کہ یہ مسلہ پورے ملک کا ہے ، کمزور سول ادارے یہ کام کرنے کی اہلیت نھیں رکھتے ،فوری طور پر ، PPL ،OGDCL سوئی نادرن اور سوئی سدرن کا کنٹرول فوج سنبھال لے اور پاکستان میں گیس ہونے کے باوجود عوام کو سپلائی نہ دینے اور پورے ملک کو عذاب میں مبتلا کرنے پر کارrوائی کرے اور ان اداروں کے معاملات درست کرے .
( اگر فوج مولویوں کو کنٹرول کرنے کیلیے میدان میں آسکتی oے تو گیس کے عذاب سے چھٹکارے کیلیے میدان میں کیوں نہیں آتی ؟ )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker