ادبرضی الدین رضیلکھاری

رضی الدین رضی کا اختصاریہ : بصیر امن پراجیٹک اور دامان ادبی میلے کا احوال

ہمارے پاؤں میں رستہ نہیں بس بے قراری ہے
اگر بھٹکیں بھی تو اس کی طرف ہی لوٹ جاتے ہیں
یہ شعر ہم نے جس کے لیے بھی کہا ہو لیکن اب یہ ڈیرہ اسماعیل خان پر صادق آتا ہے ۔ بالکل اسی طرح جیسے ہمارا ” بچھڑ کر کتنا اچھا رہ گیا ہے “ والا شعر اب مشرقی پاکستان کے ساتھ بھی جوڑ دیا گیا ہے اور یوم سقوط ڈھاکہ پر گردش میں آ جاتا ہے ۔۔
سو ہوا یوں کہ ڈیرہ اسماعیل خان نے ہمیں تیسری مرتبہ آواز دی اور ہم قمر رضا شہزاد کے ہمراہ دامان ادبی میلے میں شرکت کے لیے روانہ ہو گئے ۔
یہ میلہ 29 اور تیس دسمبر کو منعقد ہونا تھا سو میں اور قمر رضا شہزاد اٹھائیس دسمبر کی صبح روبینہ منصور کی قیادت میں منزل کی جانب روانہ ہوئے کہ اس روز اس میلے میں ہمارے مستقل قائد شاکر حسین شاکر ڈاکٹر محمد امین کے ہمراہ اسلام آباد کے کتاب میلے میں ملتان کی نمائندگی کر رہے تھے ۔۔ اور پروگرام کے مطابق وہ اگلے روز ہمارے ساتھ شامل ہو گئے ۔
آپ کو پہلے بھی ایک سے زیادہ مرتبہ ویر ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے بصیر امن پراجیکٹ کا احوال سنا چکا ہوں ۔ یہ پراجیکٹ برادرم معروف سیاسی و سماجی رہنما فہیم اقبال کی قیادت میں ڈیرہ اسماعیل خان میں امن اور محبت کے فروغ کے لیے کام کر رہا ہے اور فہیم اقبال ایک ایسی دل نواز ہستی ہیں کہ جو عزت و احترام دینے کا ہنر جانتے ہیں ۔ ۔ ان کے ساتھ فرزانہ علی شاہ جیسی انتھک اور دلیر خاتون پراجیکٹ مینجر کے طور پر کام کر رہی ہیں‌ جن سے مل کر احساس ہواکہ ویر ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن اس لیے ویر آرگنائزیشن کہلاتی ہے کہ اس میں فرزانہ کے ویر شامل ہیں ۔ وہ رشتے بنانا اور اور نبھانا جانتی ہیں اور یہ رشتے کہیں کہیں حقیقی رشتوں سے آگے نکل جاتے ہیں ۔۔
ان دو روزہ تقریبات میں پہلی بار برادرم شہاب صفدر سے ملاقات ہوئی جو ڈیرہ کا مضبوط ادبی حوالہ ہیں ۔ اسلام آباد سے رحمان حفیظ ، ماجد علی شاہ، ذیشان حیدر ، سرمد سروش مشاعرے میں شرکت کے لیے آئے ۔ اور سلطان ناصرصاحب کی موجودگی میں یہ مشاعرہ ایک طرح سے نظم کے مشاعرے میں تبدیل ہو گیا ۔خوشی ہوئی ڈیرہ کے باذوق سامعین سے مل کر کہ جو ہر تشبیہہ استعارے اور علامت کو پوری وضاحت کے ساتھ سمجھ رہے تھے اور مہمانوں کی بھر پور پذیرائی کر رہے تھے ۔۔
مخمور قلندری ، حفیظ گیلانی ، حبیب موہانہ ، کے علاوہ رخسانہ سمن ، نسیم سحر بلوچ اور صائمہ قمر کو سن کر احساس ہوا کہ ویر والے یہاں کی خواتین شعراء کو بھی مشاعروں میں لانے میں کامیاب ہو گئے اور یہی اس پراجیکٹ کی اصل روح بھی تھی ۔
ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی ڈیرہ پہنچنے کی پہلی اطلاع اپنے سکول فیلو امجد حیات سدو زئی کو دی اور وہ بھی ان تقریبات کا حصہ بن گئے ۔
میلے کے پہلے روز فرزانہ علی نے ایک ویڈیو کے ذریعے اس پراجیکٹ کے پانچ ماہ کی کہانی سنائی اور تصویروں میں ہم نے مقبول گیلانی اور علی عمران ممتاز کو دیکھا جو پہلی بار نومبر میں ہمارے ساتھ یہاں آئے تھے ۔۔ دوسری بار شہزاد عمران خان ایک مشاعرے میں شرکت کے لیے ہمارے ہم سفر تھے اور نومبر میں ڈیرہ اسماعیل خان کے احباب ملتان تشریف لائے اور یہاں مشاعرے ورکشاپ اور بیٹھکیں منعقد ہوئیں‌۔ فرزانہ علی شاہ نے مقبول گیلانی ، صائمہ نورین بخاری اور شہزاد عمران خان کا خاص طور پر ذکر کیا اور ان کا شکریہ ادا کیا ۔۔
اس میلے کے علاوہ بھی کچھ محفلیں تھیں جو بہت یاد گار رہیں ۔ پہلی رات ڈیرہ کی فوڈ سٹریٹ پر تندوری چائے اور آخری شب دریا کنارے مچھلی کی دعوت نے جو لطف دیا اسے بیان کرنا ممکن نہیں کہ مچھلی کی دعوت میں قمر بھائی کا مچھلیوں اور رحمان حفیظ صاحب کے ساتھ یادگار مکالمہ ہوا ۔ اور اسی دوران میں نے فہیم صاحب سے پوچھاکیا اس دریا میں مگر مچھ ہوتے ہیں ؟
مسکرا کر بولے وہ تو اب شہروں میں ہوتے ہیں‌اور مجھے ملتان بھی یاد آ گیا

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker