گردوپیش کے گذشتہ شمارے نے روف کلاسرا اور آمنہ مفتی کو بھی مدیر کے نام مراسلے بھجوانے کے لئے اکسایا روف کلاسرا نے جہاں اے بی اشرف صاحب پر لکھے گئے اصغر ندیم سید کے خاکے کی تعریف کی وہاں رضی الدین رضی کی بطور مدیر پروف ریڈنگ کی بھی تعریف کی
موجودہ شمارے میں 3 مارچ 2020 کو 91 برس کی عمر میں اس جہان سے رخصت ہونے والے فاروق انصاری کا بہت موثر مضمون ہے جو بظاہر داود طاہر کی کتاب ارمغان ملتان پر تبصرہ ہے مگر اس میں داود طاہر نے میاں موج دریا ، عطااللہ شاہ بخاری ، محترمہ ثریاملتانیکر ، احمد سعید کاظمی (ماضی میں احمد سعید امروہی ) اور دیگر اہم شخصیتوں کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے اس سے استفادہ کیا گیا ہے اس شمارے میں ڈاکٹر عباس برمانی اور خالد مسعود خان کے دو کالم بھی شامل ہیں خالد تو روزانہ ایک کالم لکھتے ہیں انہوں نے فیلڈ مارشلوں کی تاریخ بیان کی ہے جب کہ عباس برمانی کا عنوان ہی ایک طرح کی دردمندی لئے ہوئے ہے ‘ ہمارا سماج، عزت اور اس کے معیار ‘
پھر ریڈیو ملتان کے ایک دلچسپ پروگرام کا ذکر ہے جب تین افسانہ نگار مل کر ایک افسانہ لکھتے تھے اس میں بھی ظفر سپل ،، ظہیر کمال اور ارزق ادیم کی ایسی مشترکہ کاوش شامل ہے شاہد مجید جعفری کی نسبتا ایک کمزور تحریر شامل ہے پھر رشید سندیلوی کی کتب کا رضی الدین رضی نے تعارف کرایا ہے ۔

رضی ایک شاعر بھی ہے اس لئے وہ جانتا ہے کہ کسی ادبی پرچے میں شاعری شامل نہ ہو ایسا ہو نہیں سکتا سو اس میں بھی مزمل حسین کی ایک نظم ، شاہد راحیل خان ، مبشر سعید اور رمزی آثم کی غزلیں شامل ہیں۔ ایک ایک شعر دیکھئے
بچھڑنے کا اشارہ تو نہیں ہے؟
تمہارے دھیان سے جانا،ہمارا
مبشر سعید
۔۔۔
شہر سے سارے درختوں کاصفایا کرکے
لوگ سائے کے لئے کوئی شجر ڈھونڈتے ہیں۔
شاہد راحیل خان
۔۔۔۔
پاس کی شاپ سے مل جاتے ہیں سارے رشتے
دور جانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی ہے
رمزی آثم
کئی مرتبہ لکھا گیا ہے کہ ایزی پیسہ سے 250 روپے بھیج کے(03006359941) یہ شمارہ منگوا لیں یا ریڈرز کلب کے رکن بن جائیے ایک ہزار روپے دے کر اور ساتھ گردوپیش کی مطبوعات بھی نصف قیمت پر حاصل کریں اور ہاں اس کے ٹائیٹل کو دیکھ کے خیال آتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے حوالے سے کوئی تفصیلی مضمون اس میں شامل ہے۔ یہ دراصل رضی نے ادارئیے میں سوال اٹھایا ہے کہ اس کی مدد سے فیض ، منٹو یا میر کا احساس کیسے منتقل ہو سکتا ہے ؟
فیس بک کمینٹ

