کالمگل نوخیز اخترلکھاری

مائیں اتنی معصوم کیوں ہوتی ہیں؟۔۔گل نو خیز اختر

موبائل فون میں ایک مقبول عام ایپ ہے’’ٹاکنگ ٹام‘‘۔ آپ جانتے ہوں گے کہ اِس ٹام کے سامنے جو کچھ بولا جاتا ہے یہ اُسے مضحکہ خیز آواز کے ساتھ دُہرا دیتا ہے۔ یہ آپ ہی کی آواز ہوتی ہے جو پچ کی تبدیلی کے ساتھ دوبارہ آپ کو سنائی دیتی ہے۔ شہزاد صغیر میرا دیرینہ دوست ہے۔ اُس کی والدہ حیات تھیں تو ایک پرانے اینڈرائڈ موبائل پر بطور خاص ٹاکنگ ٹام سے گھنٹوں باتیں کیا کرتی تھیں۔حیرت انگیز بات یہ تھی کہ جب وہ ٹاکنگ ٹام سے باتیں کرتیں تو پہلے وضو کرتیں، پھر سر پر چادر اوڑھ کر نہایت انہماک سے گھر کے کسی پرسکون کونے میں بیٹھ کر ٹاکنگ ٹام ایپ کھول کر گفتگو کرنے لگتیں۔ گھر والوں نے پوچھا کہ ماں جی یہ آپ کیا باتیں کرتی ہیں؟ جواب ملا ’میں اسے قرآن پڑھا رہی ہوں‘۔ شہزاد صغیر کا کہنا ہے کہ اس کی والدہ بڑی خوش تھیں کہ ٹاکنگ ٹام نامی یہ بچہ بڑی محنت اور محبت سے قرآن کی آیات سیکھ رہا ہے اور جیسا میں سکھاتی ہوں ویسا ہی آگے سے پڑھتاہے…!!!
کئی برس پہلے میں لاہور کے ایک ٹی وی چینل سے بطور اسکرپٹ ایڈیٹر وابستہ تھا ۔ملتان سے ماں جی بے تابی سے پوچھا کرتی تھیں کہ کب آؤگے؟ میری مصروفیات کچھ ایسی تھیں کہ ایک سال سے پہلے چکر لگانا مشکل ہوتا تھا لہٰذا میں رمضان کے آخری دنوں میں ہرحال میں ملتان پہنچ جایا کرتا تھا تاکہ عید والدین کے ساتھ کرسکوں۔ ایک دفعہ چینل کی تنخواہ کچھ لیٹ ہوگئی۔ پچیسواں روزہ تھا۔ ماں جی کے فون پر فون آرہے تھے کہ تم آکیوں نہیں رہے۔ پہلے تو میں بہانے بناتا رہا لیکن جب اٹھائیسواں روزہ آگیا اور تنخواہ نہ ملی تو مجبوراً مجھے بتانا پڑا کہ ابھی مجھے پیسے نہیں ملے۔ ماں جی کی آواز میں پریشانی امڈ آئی۔فوراً بولیں’’میں تمہارے ابو کو لاہور بھیجتی ہوں تاکہ وہ تمہاری ’’فیکٹری ‘‘ والوں سے جاکر پوچھیں کہ آخر بچے کے پیسے کیوں نہیں دے رہے…‘‘
بیس سال پہلے مجھے ایک اخباری فیچر کی تیاری کے سلسلے میں جیل جانے کا اتفاق ہوا۔فیچر کا موضوع تھا کہ سزائے موت کے قیدی کیا محسوس کرتے ہیں؟ جیل میں میری ملاقات ایک ایسے قیدی سے ہوئی جسے فخر تھا کہ اُس نے اپنے دو دشمنوں کو سوتے میں موت کے گھاٹ اتاردیا۔ یہ قیدی ایک پچیس سال کا نوجوان لڑکا تھا جسے سزائے موت سنائی جاچکی تھی اور سپریم کورٹ سے بھی اُس کی اپیل رد ہوگئی تھی۔میں نے جیل انتظامیہ سے اُس کے گھر کا ایڈریس لیا اور اُس کی ماں سے ملا۔ جب اسے پتا چلا کہ میں صحافی ہوں اور اُس کے بیٹے سے مل کر آرہا ہوں تو ایک دم رونے لگی اور ہاتھ جوڑ کر بولی’’میرے بچے کو چھوٹی سی غلطی کی اتنی بڑی سزا نہیں ملنی چاہیے‘‘۔ میں نے بے بسی سے کہا کہ ماں جی آپ کے بیٹے نے دو قتل کیے ہیں اور اعتراف بھی کرچکا ہے۔ ماں بھرائی ہوئی آواز میں بولی’’پُتروہ تو ناسمجھ ہے، جب میں کہہ رہی ہوں کہ وہ آئندہ ایسا نہیں کرے گا تو پھر یہ لوگ اُسے چھوڑ کیوں نہیں دیتے…اُنہیں کہو اگر میری بات کا یقین نہیں تو میرا تین مرلے کا سارا مکان گارنٹی کے طور پر رکھ لیں۔‘‘
میرے ایک دوست ریحان علی کے والد فوت ہوئے تو جائیداد کا بٹوارہ ہوگیا۔ والد صاحب کا آبائی گھر بک گیا تو ریحان نے اپنے حصے کے پیسے بھی والدہ کو تھما دیے۔ والدہ نے زندگی میں کبھی دو ہزار سے زائد کی رقم نہیں دیکھی تھی سو پریشان ہوگئیں اور پوچھا کہ یہ کتنے پیسے ہیں؟ ریحان نے بتایا کہ امی دس لاکھ ہیں۔ والدہ مزید پریشان ہوگئیں ۔ ان کی بلا جانے کہ دس لاکھ کیا ہوتے ہیں، نہایت رازدارانہ انداز میں بولیں’’پیسے بہت زیادہ لگتے ہیں کہیں گھر میں ڈاکا ہی نہ پڑ جائے ایسا کرو پانچ ہزار بینک میں رکھوا دو ، باقی بے شک یہیں پڑے رہنے دو۔‘‘
پاکستان کے صف اول کے ایک مقبول اداکار بتانے لگے کہ ایک دفعہ انہوں نے ایک ڈرامے میں ایک سنگدل شوہر کا کردار ادا کیا جو اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کرلیتاہے اور وہ در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ڈرامے کی بیس اقساط آن ایئر جاچکی تھیں۔اسی دوران اُنہیں اپنے ایک دوست کے گھر کھانے پر جانے کا اتفاق ہوا۔ جونہی دوست کی والدہ نے اداکار کو دیکھا اُسے نہایت پیار سے ہاتھ پکڑ کر تخت پوش پر بٹھایا اور سمجھانے لگیں کہ بیٹا تمہاری بیوی بہت مشکل میں ہے، نہ اس کے پاس کوئی گھر ہے نہ کوئی ٹھکانا۔ بچے بھی رُل گئے ہیں۔ خدا کے لیے جاؤ اور اُسے واپس لے آؤ ، مجھے پتا ہے وہ اس وقت کہاں ہے۔‘‘
کچھ عرصہ پہلے ایدھی ہوم میں ایک 75 سالہ ماں جی سے ملاقات ہوئی۔ بہت خوش نظر آئیں۔ حیرت سے پوچھا کہ آپ کی اولاد آپ کویہاں چھوڑ گئی ہے اور آپ اتنی خوش ہیں؟ چہک کر بولیں’’وے کملیا! میرے بچوں نے تو مجھ پر اپنا سب کچھ نچھاور کر دیا ہے‘‘۔ تفصیل پوچھی تو بڑے فخر سے بتانے لگیں کہ ’’میرے دو بیٹے ہیں، دونوں شادی شدہ ہیں لیکن میری بہوئیں اچھی نہیں۔مجھے کھانا بھی نہیں دیتی تھیں اور بغیر پنکھے والے کمرے میں رکھا ہوا تھا۔ اصل میں وہ ہر وقت میرے مکان پر قبضے کے خواب دیکھتی رہتی تھیں۔ پھر میرے بیٹوں نے مجھے کہا کہ ماں جی یہ چھوٹا سا گھر ہے اسے بیچ دیتے ہیں اور ہم اپنے پیسے بھی ملا کر آپ کے لیے ایک بہت بڑاسا گھر لے لیتے ہیں جہاں ہماری بیویوں کو آنے کی اجازت ہی نہیں ہوگی۔ مجھے اور کیا چاہیے تھا۔میں نے گھر اُن کے نام کردیا۔ گھر بک گیا لیکن میرے بچوں نے اپنا وعدہ پورا کیا اور یہ دیکھو مجھے اتنا بڑا گھر لے کر دیا ہے جہاں اتنے سارے پنکھے بھی لگے ہوئے ہیں، کھانا بھی وقت پر ملتا ہے اور میری کوئی بہو یہاں قدم بھی نہیں رکھتی۔اللہ میاں میرے بچوں کو دنیا جہان کی خوشیاں دے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker